این اے 153کے الیکشن میں شاہ محمود قریشی کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکی

این اے 153کے الیکشن میں شاہ محمود قریشی کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکی

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

سیاسی حرکیات کو اگر پوری طرح نہ سمجھا جائے اور اندازے درست نہ لگائے جائیں تو حلقہ این 153 جیسے حلقوں میں، جہاں دیہی ووٹروں کی تعداد زیادہ ہے اور سیاسی خاندانوں کا تعلق بڑے بڑے زمینداروں سے ہے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے، جو نکلا ایسی صورت میں تحریک انصاف کے امیدوار کو عمران خان کا عظیم الشان جلسہ کامیاب نہیں کراسکتا تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے ایم این اے دیوان عاشق حسین بخاری کی نااہلی کے بعد ان کے بیٹے دیوان غلام عباس کو ٹکٹ نہیں دیا تھا اور ان کی بجائے رانا قاسم نون کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا تو کہا جا رہا تھا کہ ان کی جیت مشکل ہوگی، لیکن جب نتیجہ سامنے آیا تو رانا نون نے اپنے مدمقابل تحریک انصاف کے امیدوار غلام عباس کو بھاری مارجن سے ہرا دیا۔ اس حلقے میں تمام تر سیاسی اور انتخابی مہم وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز ایم این اے نے چلائی، مسلم لیگ کا کوئی بڑا رہنما حلقے میں نہیں آیا، البتہ کئی حلقوں کے ایم این اے ضرور ڈیرہ ڈالے رہے۔ اس لئے کامیابی کا تمام تر کریڈٹ حمزہ شہباز کو ہی دینا پڑے گا۔ جب مسلم لیگ (ن) نے رانا قاسم نون کو ٹکٹ دیا تو حلقے میں ان کی مخالفت کافی تھی، لیکن حمزہ شہباز نے حکمت عملی کے تحت یکے بعد دیگرے ان کے تمام مخالفین کو نہ صرف رانا قاسم نون کا حامی بنایا بلکہ یہ سارے بااثر خاندان مل کر ہی رانا قاسم نون کی کامیابی کا سبب بنے۔ اس حلقے کے دو ارکان پنجاب اسمبلی نغمہ مشتاق لانگ اور مہدی عباس لنگاہ نے بھی رانا قاسم نون کی حمایت کردی۔ حمزہ شہباز کو سب سے بڑی کامیابی اس وقت ملی جب وہ دیوان عاشق بخاری کے صاحبزادے دیوان غلام عباس کو قاسم نون کی حمایت میں دستبردار کرانے میں کامیاب ہوگئے، حالانکہ ہفتہ پہلے تک یہ کام مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا تھا‘ لیکن حمزہ شہباز نے وعدہ کیا کہ مستقبل میں دیوان غلام عباس کو ضلع کونسل کا چیئرمین بنایا جائے گا۔ اس یقین دہانی پر دیوان عاشق بخاری نے اپنے صاحبزادے کو قاسم نون کے حق میں دستبردار کرایا۔ تو موخرالذکر کی کامیابی یقینی نظر آنے لگی۔ حمزہ کے جلسے میں دیوان عاشق بخاری موجود تھے اور انہیں انہوں نے بھائی کہہ کر پکارا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کا بھائی بن کر دکھائیں گے۔ حمزہ شہباز نے جاوید علی شاہ کو بھی قاسم نون کی حمایت پر آمادہ کرلیا۔ جب یہ سارے مقامی گروپ ان کی حمایت میں کھڑے ہوگئے تو پھر کامیابی بڑی حد تک یقینی تھی۔ قاسم نون کو عمران خان نے اپنے جلسے میں لوٹا کہا تھا، وجہ اس کی یہ تھی کہ شاہ محمود قریشی انہیں تحریک انصاف کا ٹکٹ دلانا چاہتے تھے، لیکن اندر خانے قاسم نون کے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بھی رابطے تھے کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں جو آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے رانا قاسم نون نے انہیں اپنی قوت بناکر مسلم لیگ (ن) کے سامنے پیش کردیا اور جب وہ ٹکٹ کے طلبگار ہوئے تو مسلم لیگ (ن) نے ان کے حق میں فیصلہ دیدیا۔ شاہ محمود قریشی کو اندازہ ہی نہیں ہوسکا کہ وہ جس امیدوار کو اپنا کہہ رہے ہیں، اس کی اصل حکمت عملی کیا ہے؟ غالباً اسی کی بنیاد پر انہیں لوٹا کہہ کر غصہ نکالا گیا لیکن جلسے میں اس طرح کی حکمت عملی انتخابی نتائج پر اثرانداز نہیں ہوسکی۔ عمران خان کا جلسہ بڑا تھا لیکن مقامی طور پر جو سیاستدان بااثر تھے اور ووٹروں پر اثرانداز ہوسکتے تھے وہ سب تو مسلم لیگ (ن) کے کیمپ میں چلے گئے تھے اس لیے اس کے امیدوار کی کامیابی کا امکان بڑھ گیا تھا اور نتائج بھی اس کے مطابق ہی نکلے۔ تحریک انصاف نے اپنے ٹکٹ کیلئے جس امیدوار کو منتخب کیا وہ اس سے پہلے کبھی ایم پی اے کا الیکشن بھی نہیں جیتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے تینوں امیدوار ایک زمانے میں پیپلز پارٹی میں شامل تھے۔ قاسم نون اور غلام عباس کھاکھی تحریک انصاف میں چلے گئے، لیکن قاسم نون نے الیکشن کیلئے تحریک انصاف کو خیرباد کہہ دیا۔

لودھراں کے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کے امیدوار جہانگیر ترین نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو ہرا دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے حامی ووٹروں کو متحرک کیا جو پولنگ والے دن جوق در جوق ووٹ ڈالنے کیلئے نکلے، لیکن جلالپور پیر والا میں تحریک انصاف اپنے ووٹروں کو اس طرح متحرک نہیں کرسکی جس طرح لودھراں میں کرنے میں کامیاب ہوئی تھی، ممکن ہے اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ لودھراں میں جہانگیر ترین خود امیدوار تھے اور صاحب ثروت ہونے کی وجہ سے پیسہ بھی کھلے دل سے خرچ کر رہے تھے، جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار غلام عباس کھاکھی کی پوزیشن یہ نہیں تھی، جہانگیر ترین کا کردار بھی اس لحاظ سے محدود تھا۔ اس حلقے میں دیوان فیملی کے لوگ ہمیشہ کامیاب ہوتے رہے ہیں لیکن اب کی بار کوئی دیوان امیدوار نہیں تھا۔ رانا قاسم نون صوبائی وزیر رہ چکے ہیں، اس وقت وہ مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔

حلقے میں رانا قاسم نون کی اپنی پوزیشن بھی اچھی ہے اور جن گروپوں نے ان کی حمایت کی ان کی وجہ سے پوزیشن مزید بہتر ہوگئی۔ پچھلے انتخابات میں انہوں نے 93 ہزار ووٹ لئے تھے لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔ اب الیکشن میں رانا قاسم نون کو ایک لاکھ کے قریب ووٹ ملے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار غلام عباس کھاکھی 31 ہزار ووٹ لے سکے، تیسرے نمبر پر پیپلز پارٹی کے امیدوار اکرم کنہوں کو 27 ہزار ووٹ ملے۔

مزید :

تجزیہ -