پنجاب میں ہزاروں سرکاری گاڑیاں رجسٹریشن کے بغیر استعمال کئے جانیکا انکشاف

پنجاب میں ہزاروں سرکاری گاڑیاں رجسٹریشن کے بغیر استعمال کئے جانیکا انکشاف

  

لاہور(شہباز اکمل جندران) صوبے میں ہزاروں سرکاری گاڑیاں خلاف ضابطہ استعمال کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔سول سیکرٹریٹ ،ایس اینڈ جی اے ڈی، پولیس ،سی اینڈڈبلیو،ایکسائز اینڈٹیکسیشن، ضلعی حکومتوں ، ایل ڈی اے اورواسا سمیت دیگر کئی سرکاری محکموں میں جہاں بڑی تعداد میں سرکاری گاڑیاں رجسٹریشن کے بغیر استعمال کی جارہی ہیں۔وہیں اہلیت نہ رکھنے والے درجنوں افسروں کو بھی گاڑیاں ، ڈرائیور اور کانسٹیبل بھی فراہم کرتے ہوئے قومی وسائل کا بے دریغ ضیاع کیا گیا ہے۔معلوم ہواہے کہ پنجاب میں سول سیکرٹریٹ اور ،ایس اینڈ جی اے ڈی، پولیس ،سی اینڈڈبلیو،ایکسائز اینڈٹیکسیشن، ضلعی حکومتوں ، ایل ڈی اے اورواسا سمیت دیگر سرکاری محکموں میں سرکاری گاڑیوں کا غلط استعمال معمول بن چکا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹ پالیسی کے تحت گریڈ 17کے افسر کو گھر سے دفتر تک پک اینڈ ڈراپ کے لیے سرکاری کار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ایسے افسرصرف ہنگامی حالات میں سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے گاڑی استعمال کرسکتے ہیں۔ البتہ گریڈ 18اور 19کے افسروں کو اجازت دی گئی ہے۔وہ پک اینڈڈراپ کے لیے سرکاری گاڑی استعمال کرسکتے ہیں ۔تاہم وہ بھی سرکاری گاڑی کو سرکاری فرائض منصبی سے ہٹ کر ذاتی استعمال میں نہیں لاسکتے۔تاہم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صوبے کے اکثر سرکاری اداروں میں گریڈ 17کے افسروں کو گاڑیاں دی گئی ہیں۔اور صرف گاڑیاں ہی نہیں بلکہ ڈرائیور اور بعض کو گن مین بھی فراہم کئے گئے ہیں۔جبک ایسی گاڑیوں کی مرمت ،فیول اور آئل چینج کے اخراجات بھی قومی خزانے سے ہی ادا کئے جاتے ہیں۔ذرائع نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ بعض بیوروکریٹ تبدیل ہونے یا کسی دوسرے صوبے یا وفاق میں جانے یا ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سرکاری گاڑیاں اور ڈرائیور واپس نہیں کرتے ۔ ماضی میں بھی ایسے کئی کیس سامنے آچکے ہیں۔اور ان کے اثررورسوخ کی وجہ سے ان سے سرکاری گاڑیاں اور سٹاف واپس بھی نہیں لیا جاتا۔یہ بھی علم میں آیا ہے کہ سول سیکرٹریٹ کے پول میں شامل گاڑیاں بھی معمول میں ایسی ڈیوٹیوں پر نظر آتی ہیں۔ جو قواعد کے برعکس ہیں۔اس امر سے بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ مختلف سرکاری محکموں کی متعدد گاڑیاں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔اور ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے باربار خط لکھے جانے کے باوجود پولیس سمیت بعض ادارے اپنی گاڑیاں رجسٹرڈ نہیں کرواتے ۔جو کہ 1965کے موٹر وہیکلز آرڈیننس کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -