ایف بی آر حکام برآمد کنندہ کے ریفینڈز کی واپسی کیلئے 30فیصد رشوت طلب کرتے ہیں، سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف

ایف بی آر حکام برآمد کنندہ کے ریفینڈز کی واپسی کیلئے 30فیصد رشوت طلب کرتے ہیں، ...

  

لاہور(سپیشل رپورٹر)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں انکشاف ہوا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو حکام برآمد کنندگان کے ریفینڈز کی واپسی کیلئے30فیصد تک رشوت طلب کرتے ہیں،کسی کے اکاؤنٹ سے پوچھے بغیر رقم نکالنا آئین وقانون کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے،ایف بی آر لوگوں کے اکاؤنٹس پر ڈاکہ ڈال رہا ہے،کمیٹی نے ایف بی آر کو بنک اکاؤنٹس سے رقم نکلوانے کے اختیارسے متعلق قانون میں ترمیم آئندہ اجلاس تک ملتوی کردی،فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکسوں کے باعث آئی ٹی انڈسٹری کے بیرون ملک منتقل ہونے کی وجہ سے آئندہ مالی سال2016-17ء میں آئی ٹی مصنوعات پر ٹیکس 8فیصد سے2فیصد کرنے کا عندیہ دے دیا۔ قائمہ کمیٹی نے پاکستان بیوروشماریات کے بورڈ آف فنکشنل ممبرز اور گورننگ کونسل میں تمام صوبوں کے پروفیشنل افراد کی تعیناتی کی حمایت کردی ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس جمعرات کو چےئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا،اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ممبر ان لینڈ ریونیو رحمت اللہ وزیر نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو قانون کے تحت کسی بھی ٹیکس دینے والے فرد کے بنک اکاؤنٹس سے رقم نکال سکتا ہے،چائنا ہارپور انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ کو10نوٹس بھجوائے گئے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا،جس پر کمپنی کے بنک اکاؤنٹس سے800ملین روپے کی رقم نکال دی گئی حالانکہ کمپنی کے ذمہ واجب الادا رقم2ارب روپے تھی۔ اس موقع پر سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ قانون اور آئین کے تحت کسی بھی ٹیکس دینے والے کے اکاؤنٹس سے رقم نہیں نکالی جاسکتی،ایف بی آر لوگوں کے اکاؤنٹس پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ٹیکس پےئرپر ایف بی آر کا قانون138ایپلائی ہوتا ہے جبکہ ٹیکس نہ دینے والوں کو ایمنسٹی اسکیم دی جاتی ہے۔چےئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا ایسے کیسز سامنے آئے ہیں کہ ایف بی آر کی جانب سے ودہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے لیکن جب ریفینڈز لئے جاتے ہیں تو رقم کی ادائیگی کیلئے30فیصد تک رقم مانگی جاتی ہے، اس قانون کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پر ممبر ان لینڈ ریونیو رحمت اللہ وزیر نے کہا کہ اس شق کو نکالے جانے سے ایف بی آر مفلوج ہوجائے گا۔کمیٹی نے شق پر مزید غوروخوض کرنے اور اس میں قانون میں ترمیم آئندہ میٹنگ تک مؤخر کردی۔کمیٹی میں پاکستان بیورو شماریات کے سیکرٹری شاہداللہ نے کہا کہ مردم شماری میں تاخیر فوج کے آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہونے کی بناء پر کی گئی ہے جبکہ سول حکومت کے تمام انتظامات مکمل تھے، سی سی آئی کے اجلاس میں مردم شماری مؤخر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری کی نئی تاریخ کا اعلان فوج اور صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔کمیٹی میں پاکستان سوفٹ ڈائریکٹوریٹ بورڈ کے ایم ڈی نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر پر ٹیکسز لگنے کی وجہ سے انڈسٹری بیرون ملک منتقل ہورہی ہے،حکومت کو آئی ٹی کے شعبے میں ٹیکس کم کرنے کی ضرورت ہے۔وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام نے کہا کہ ٹیلی کام سیکٹر پر سب سے زیادہ ٹیکسز ہونے کے باوجود سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے حکومت کو بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ایف بی آر کے حکام نے بتایا کہ آئندہ مالی سال 2016-17کے بجٹ میں آئی ٹی سیکٹر میں ٹیکسز کی شرح8فیصد سے کم کرکے2فیصد کرنے کی سفارش کی ہے۔کمیٹی میں کارپوریٹ ریحبلیٹیشن بل2015ء کے ماہانہ ریویو کے حوالے سے چےئرمین کمیٹی نے کہا کہ کارپوریٹ ریحبلیٹیشن بل 2015ء پر اسٹیٹ بنک پاکستان بنکنگ شےئر کے حقوق کا تحفظ کر رہا ہے،اس ملک میں قرضہ لینے والوں کے تحفظ کے لئے کوئی اقدامات نہیں کرتا،بنکنگ شعبہ کو تحفظ نہیں دے سکتے،سیکورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان کے ممبر لیگل نے کہا کہ پاکستان بنکنگ ایسوسی ایشن کی تجاویز موصول ہوگئی ہیں اس کو آئندہ ماہ تک فائنل کردیں گے۔کمیٹی میں اسٹیٹ بنک کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران عالمی پابندیاں جنوری2016ء میں ختم ہوچکی ہیں پاکستانی کاروباری حضرات ایران کے ساتھ ٹرانزیکشن یورو میں کرسکتے ہیں۔چےئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ بہت اہم خبر ہے اس حوالے سے اخبار میں اشتہار دیا جانا چاہئے،بھارت میں اس حوالے سے ہیڈ لائنز چل رہی ہیں۔اسٹیٹ بنک حکام نے کہا کہ اس حوالے سے پریس ریلیز جاری کی ہے اور گورنر اسٹیٹ بنک پشاور میں پریس کانفرنس میں اعلان کر چکے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -