کریکر حملوں میں شلوار قمیض اور جینز والے دونوں ملوث ہیں :پولیس چیف

کریکر حملوں میں شلوار قمیض اور جینز والے دونوں ملوث ہیں :پولیس چیف

  

کراچی(کرائم رپورٹر)کراچی پولیس چیف مشتاق مہرنے کہاہے کہ کراچی میں کریکر حملوں میں دو گروپس ملوث ہیں۔ ایک سیاسی مقاصد کے لئے تو دوسرا آپریشن کے رد عمل میں خوف وہراس پھیلا رہا ہے ۔کریکر حملوں میں شلوار قمیض اور جینز ٹی شرٹ گروپس دونوں ہی ملوث ہیں۔دو روز قبل منگھوپیر میں مقابلے میں مارا گیا دہشت گرد کامران گجر داعش کا کمانڈر تھا ۔کامران گجر پولیس، رینجرز اہلکاروں سمیت قتل کی 40 وارداتوں میں ملوث تھا۔جمعرات کو کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب اے آئی جی کراچی مشتاق مہر نے کہا کہ حساس ادارے کی اطلاع پر سی آئی اے کراچی اور ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے دو روز قبل اتحاد ٹاؤن کے علاقے میں مشترکہ ٹارگیٹڈ آپریشن شروع کیا ۔اسی دوران دہشت گردوں نے پولیس کو اپنی جانب آتا دیکھ کرفائرنگ اور کریکر سے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 2پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ۔پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک دہشت گرد شدید زخمی حالت میں گرفتار ہوا جس کے قبضے سے ایک ایس ایم جی ،تین ہینڈ گرنیڈ اور بارودی مواد برآمد ہوا ۔انہوں نے کہا کہ زخمی دہشت گرد کی جیب سے شناختی کارڈ بنام کامران اسلم برآمد ہوا ۔ملزم نے معلومات کرنے پر بتایا کہ اس کا نام کامران اسلم عرف کامران گجر ہے جس کے سر کی قیمت حکومت سندھ نے 25لاکھ روپے مقرر کی تھی ۔ملزم دہشت گرد تنظیم داعش پاکستان کا مکمل تربیت یافتہ آپریشنل کمانڈر ہے اور ماضی میں القاعدہ برصغیر کے پلیٹ فارم سے متعدد کارروائیاں کرچکا ہے ۔مشتاق مہر نے بتایا کہ کامران گجر دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گیا ہے ۔ملزم کامران گجر نے اپنی ہلاکت سے قبل اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر 2013میں گلستان جوہر میں راڈو بیکری کے قریب ایک پولیس اور دیگر 2افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا ۔2013میں ہی ملزم نے شاہ فیصل کالونی کے پل پر کھڑی موبائل پر فائرنگ جس کے نتیجے میں 4پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے ۔ملزم نے انکشاف کیا کہ لانڈھی میں مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کے گھر کے باہر کھڑی پولیس موبائل اور الرازی اسپتال کے سامنے کھڑی موبائل پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 7پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے ۔ملزم نے مجموعی طور پر 40پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کیا ۔ مشتاق مہر نے بتایا کہ ملزم کامران گجر ناظم آباد میں بوہری مارکیٹ میں ہونے والے بم دھماکے میں بھی ملوث ہے جس کے نتیجے میں 7افراد ہلاک ہوئے ۔جبکہ 2015میں گلشن حدید میں ڈی ایس پی فتح سانگھری کو قتل کیا تھا۔ کو اس کے علاوہ ملزم سیاسی جماعت کے کارکنوں کے قتل ،ملیر بم دھماکے ، عائشہ منزل امام بارگاہ پر کریکر حملے اور2014 میں رینجرز کے بریگیڈ باسط پر خود کش حملے میں بھی ملوث تھا۔ ملزم نے کراچی ،حیدر آباد اور پنجگور بلوچستان میں بینک ڈکیتیوں کی متعدد وارداتیں جس کے دوران مختلف بینکوں سے لاکھوں روپے کی رقم لوٹی گئی ۔ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ اس نے حال ہی میں دہشت گرد گروپ داعش میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم مزید دہشت گردانہ کارروائیاں ابھی عمل میں نہیں لائی گئی تھیں اور تنظیم کو اس کے پنپنے سے پہلے واصل کردیا گیا ۔سانحہ صفورا کے ملزم طاہر نے دوران تحقیقات ملزم کامران گجر سے متعلق آگاہ کیا تھا ۔مشتاق مہر نے کہا کہ کراچی میں حالیہ دہشت گردی میں 2گروپ ملوث ہیں ۔ایک گروپ سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتا اور دوسرا گروپ شہر میں دہشت گردی پھیلانا چاہتا ہے ۔کریکر حملوں میں شلوار قمیض اور جینز ٹی شرٹ گروپس دونوں ہی ملوث ہیں

مزید :

کراچی صفحہ اول -