عدالتوں میں پیشی کے سلسلے میں جنرل (ر) پرویز مشرف کا ریکارڈ اچھا نہیں

عدالتوں میں پیشی کے سلسلے میں جنرل (ر) پرویز مشرف کا ریکارڈ اچھا نہیں

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

وفاقی حکومت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ہے، یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے جس میں فاضل عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا وہ حکم بحال کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے۔ چودھری نثار علی خان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ سابق صدر نے واپسی کی یقین دہانی کرائی ہے، عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات جوں کے توں رہیں گے اور جب وہ واپس آئیں گے تو مقدمات کا سامنا کریں گے۔ جنرل مشرف کا وعدہ اپنی جگہ، لیکن یہ تو سامنے کی بات ہے کہ عدالتوں میں پیشی کے سلسلے میں ان کا ریکارڈ کوئی زیادہ اچھا نہیں ہے۔

2013ء کے انتخابات سے پہلے جنرل پرویز مشرف بیرون ملک سے پاکستان آئے تو ان کا خیال تھا کہ پورا ملک نہیں تو کم از کم کراچی شہر ان کے استقبال کے لئے امڈ آئیگا۔ انہوں نے غالباً یہ توقع فیس بک پر اپنے لاکھوں مداحین کی مداحیاں پڑھ پڑھ کر قائم کی تھی۔ جو ان کے لئے ’’چشم براہ‘‘ تھے اور ہر لمحے ان کے لئے نئے نئے توصیفی کلمات فیس بک پر پوسٹ کر رہے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ جو بھی یہ سب کچھ پڑھ رہا تھا اس نے اپنے استقبال کے حوالے سے تو مطمئن ہونا ہی تھا، لیکن جب وہ اپنے تصوراتی استقبال کے خواب ذہن میں سجائے کراچی پہنچے تو یہاں ان مداحوں میں سے کوئی بھی نہ تھا جو فیس بک پر موجود تھے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ استقبال کے لئے اس مقام پر بنفس نفیس پہنچنا پڑتا ہے جو بیرون ملک اطمینان کی زندگی گزارنے والے مداحین کے لئے ممکن نہ تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ فیس بک پر جو بھی اظہار خیال کیا جاتا ہے وہ ایک کمپیوٹر اور انگلیوں کا کمال ہوتا ہے اس کے لئے کہیں ادھر ادھر نہیں جانا پڑتا، چنانچہ جب جنرل پرویز مشرف کراچی میں اترے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایئر پورٹ پر تو بمشکل ڈیڑھ دو سو آدمی تھے جو ان کے استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے۔ یہ تو استقبال کا احوال تھا جب الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا وقت آیا تو ان کے اپنے کاغذات نامزدگی مختلف حلقوں سے یکے بعد دیگرے مسترد ہوتے چلے گئے اور انہیں الیکشن لڑنے کے نااہل قرار دیا گیا تو ان پر تلخ سیاسی حقیقتیں آہستہ آہستہ کھلنا شروع ہوئیں۔ ان کی پارٹی اگرچہ ’’آل پاکستان مسلم لیگ‘‘ کہلاتی ہے لیکن اس میں ان کے سوا کوئی دوسری قابل ذکر شخصیت نہ اس وقت موجود تھی اور نہ اب ہے۔ پھر یہ ہوا کہ 2013ء کے انتخابات میں وہ جماعت وفاق اور پنجاب کی سطح پر جیت گئی جس کے انہوں نے اپنے عہد ہمایونی کے آغاز میں ہی ٹکڑے کر دئیے تھے۔ اگرچہ سیاست دان تو یہ تسلیم کرنے میں اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں لیکن جنرل صاحب نے بڑی صاف گوئی سے اپنی کتاب ’’ان دی لائن آف فائر ‘‘ (اردو ترجمہ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘) میں لکھ دیا ہے کہ مسلم لیگ (قائداعظم) انہوں نے بنوائی، کہا جاتا ہے کہ ان کا خیال تھا جب وہ وردی اتار کر سیاست میں آئیں گے تو مسلم لیگ (ق) کی قیادت کا تاج ان کے سر پر رکھ دیا جائیگا۔ ایک اور مسلم لیگ کی بھی انہوں نے سرپرستی کی تھی جس کے نام سے پہلے عوامی لگتا ہے اور جس کے سربراہ شیخ رشید ہیں، لیکن دونوں مسلم لیگوں نے انہیں سربراہی کی پیشکش نہ کی، پھر ایم کیو ایم تھی جسے انہوں نے اپنی سرپرستی میں وفاقی حکومت کا حصہ بنایا، ان کے دور میں سندھ کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم تھے جن کی کابینہ میں ایم کیو ایم شامل رہی۔ ڈاکٹر عشرت العباد کو ’’ڈرائی کلین‘‘ کرکے نہ صرف سندھ کا گورنر بنایا گیا بلکہ انہیں وہ اختیارات بھی دئے گئے جو آئین کے تحت نہ تو گورنر کو حاصل ہیں اور نہ کسی دوسرے صوبے کا گورنر ایسے اختیارات استعمال کرتا ہے۔ ان کے دور میں عوامی قوت کے مظاہرے بھی ہوتے رہے، سب سے بڑا مظاہرہ اس وقت ہوا جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کراچی گئے انہیں ایئر پورٹ سے باہر نہ آنے دیا گیا اور پورے شہر میں اسلحہ برداروں کا راج رہا۔ جنہوں نے جگہ جگہ کنٹینر لگا کر سڑکیں بند کر دی تھیں، اسی شام اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ببانگِ دہل کہا ’’دیکھ لی عوام کی طاقت‘‘ لیکن یہ ساری رونقیں اقتدار کی چہل پہل کے ساتھ تھیں، جونہی نصف النہار کا یہ سورج ڈھلا وہ بھی کہیں ان کے یمین و یسار نظر نہ آئے، جو کہتے تھے جنرل مشرف کو دس بار وردی میں صدر منتخب کرائیں گے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ یہ حادثہ بھی صرف ایک بار ہوسکا۔ دوسری مرتبہ کی نوبت نہ آئی اور جنرل کو یہ صدارت بھی ادھوری چھوڑ کر مستعفی ہونا پڑا۔

اس وقت سے اب تک جنرل پرویز مشرف پاکستان کی سیاست میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، وہ اپنا سیاسی فلسفہ اپنے انٹرویوز، تقریروں، اخباری بیانات اور ٹی وی چینلوں پر بیان کرتے رہتے ہیں۔ حکمرانوں کی ناکامیوں کا ذکر بھی برملا کرتے، پھر انہوں نے مسلم لیگوں کو متحد کرنے کی کوشش کی، شرط یہ رکھی کہ اگر یہ حادثہ ہو جائے تو انہیں ’’متحدہ مسلم لیگ‘‘ کا صدر بنایا جائے، لیکن جو حضرات اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں خوش ہیں وہ انہیں اپنا امام بنا کر خود مقتدی کیونکر بن جاتے؟ چنانچہ مسلسل کوششوں کے باوجود مسلم لیگوں کو جب متحد نہ کیا جاسکا تو ان کا ایک ’’گرینڈ الائنس‘‘ بنانے کی کوشش ہوئی، لیکن یہ بیل بھی قیادت کے تنازعے کی وجہ سے منڈھے نہ چڑھ سکی، چنانچہ یہ بھاری پتھر بھی چوم کر رکھ دیا گیا۔ اب مسلم لیگیں اپنے اپنے مقام پر ہیں اور جنرل پرویز مشرف کو ریڑھ کی ہڈی کا کوئی ایسا عارضہ لاحق ہوگیا ہے، جس کے بارے میں ان کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اگر ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے کے مہروں میں پیدا ہونے والے نقص کا بروقت اور مناسب علاج نہ کیا گیا تو انہیں فالج کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں بدھ کے روز حکومت کی اپیل مسترد ہوگئی۔ اٹارنی جنرل نے ان کی بیرون ملک جانے کی درخواست کی کھل کر مخالفت نہیں کی، چنانچہ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا وہ حکم بحال کر دیا جس کے تحت ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا گیا تھا، اب حکومت نے بھی انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ہے اور وہ ملک سے باہر جانے کے لئے آزاد ہیں، جہاں وہ اپنی مرضی کے مطابق جیسا چاہیں گے، علاج کرائیں گے۔ اب وہ وعدے کے مطابق کب واپس آتے ہیں یہ وقت ہی بتائے گا۔

مزید :

تجزیہ -