ملتان فوکر طیارہ حادثہ کیس کا مقدمہ درج کرنے کیلئے بیان ریکارڈ نہ کرنے پر تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او سے 24 مارچ کو جواب طلب

ملتان فوکر طیارہ حادثہ کیس کا مقدمہ درج کرنے کیلئے بیان ریکارڈ نہ کرنے پر ...

  

ملتان (خبر نگار خصوصی)ایڈیشنل سیشن جج ملتان نے ملتان فوکر طیارہ حادثہ کیس(بقیہ نمبر35صفحہ12پر )

کا مقدمہ درج کرنیکے لئے بیان ریکارڈ کرنیکے حکم پرعمل درآمد نہ کرنے پر ایس ایچ او تھانہ کینٹ سے 24 مارچ کو جواب طلب کرلیا ہے فاضل عدالت میں شہباز علی گورمانی ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی تھی کہ 10 جولائی 2006ء کو ایک پرواز ملتان ائیر پورٹ سے روانہ ہوئی اور یہ طیارہ ائیرپورٹ سے 3 کلومیٹر دور ہی گر کر تباہ ہوگیا اور اس پروا ز میں شہر کے قابل، پڑھے لکھے اور اپنے اپنے شعبو ں کے ماہر ترین افراد موجود تھے جو سب لقمہ اجل بن گئے جس پر مقدمہ درج کرانے کے لئے پولیس سے رجوع کیا لیکن مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے اسلئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے فاضل عدالت کے حکم پر ایس ایچ او نے رپورٹ پیش کی کہ مذکورہ معا ملہ عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہے اور مذکورہ معاملہ پولیس کے حدود میں نہیں آتا ہے جس پر درخواست گذا رنے تھانہ کورال اسلام آباد میں درج ایک اور طیارہ حادثہ کا مقدمہ درج ہونے کی نقل پیش کی جبکہ اس سے قبل 9 اگست 2006 ء4 کوسیشن جج ملتان نے بھی ایک درخواست پر ایس ایچ او کو احکامات جاری کئے تھے جس پرعمل نہ کرنیکے خلا ف وکلاء نے تاہم عدالتی احکاما ت پر درخواست دینے کے باوجود بیان ریکارڈ نہیں کیاگیا ہے اس لئے سی پی او ملتان اور ایس ایچ او تھانہ کینٹ کو طلب کر کے عمل درآمد کرنے کا حکم دیا جائے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -