پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے توہین عدالت قانون ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے توہین عدالت قانون ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا
پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے توہین عدالت قانون ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے توہین عدالت قانون ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے اور سیاسی لوگوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون کا اجلاس ہوا جس میں توہین عدالت قانون کے ترمیمی بل پر غور کیا گیا جس دوران پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اراکین نے توہین عدالت قانون ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک بابر اعوان کا کہنا تھا کہ توہین عدالت قانون سیاسی لوگوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے ، اس قانون میں ترمیم نہیں بلکہ اس کا مکمل خاتمہ ہونا چاہئے کیونکہ اکثر ممالک میں اس کا خاتمہ ہو بھی چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایڈہاک ازم ایک سرطان ہے اس لئے عدلیہ سے ایڈہاک ازم بھی ختم کرنا چاہئے۔ اجلاس میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنماءفرحت اللہ بابر نے توہین عدالت قانون کے خاتمے کی مخالفت بھی کی اور کہا کہ توہین عدالت قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے لیکن اسے ختم نہیں ہونا چاہئے اور اس معاملے پر عوامی بحث ہونی چاہئے۔

وزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

ایم کیو ایم کے رکن بیرسٹر محمد سیف نے کہا کہ توہین عدالت کا قانون ہر معاملے میں استعمال کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ توہین عدالت کا قانون انصاف کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے اس لئے اسے ختم کرنا چاہئے۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نے توہین عدالت قانون پر سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سے رائے لینے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ اس معاملے پر اٹارنی جنرل سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -