ہم جنس پرستی جرم نہیں ہے لیکن یہ سماج کے لیے غیر اخلاقی ہے:سینئر رہنما آر ایس ایس

ہم جنس پرستی جرم نہیں ہے لیکن یہ سماج کے لیے غیر اخلاقی ہے:سینئر رہنما آر ایس ...
ہم جنس پرستی جرم نہیں ہے لیکن یہ سماج کے لیے غیر اخلاقی ہے:سینئر رہنما آر ایس ایس

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے جنرل سیکر یٹری سینئر رہنما دتاتر یہ ہوسبولے نے کہاہے کہ ہم جنس پرستی کوئی جرم نہیں ہے۔تفصیلات کے مطابق دتاتریہ ہوسبولے نے ایک پروگرام میں کہا کہ ہم جنس پرستی کو کسی جرم کی طرح نہیں دیکھنا چاہیے اور اس پر کوئی سزا نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا، ”میں مانتا ہوں کہ اس سے اگر دوسرے لوگوں کی زندگی پر اثر نہیں پڑتا، تو ہم جنس پرستی کے لیے کوئی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔“ اس بیان پر بھارت میں ایک تنازعہ شروع ہوگیا ہے، جس کے بعد دتاتریہ نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا، ”ایسے مسائل کو نفسیاتی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ ہم جنس پرستی جرم نہیں ہے لیکن یہ سماج کے لیے غیر اخلاقی ہے۔“ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے اس بیان سے بھارت میں اس بحث کو تقویت مل سکتی ہے جس میں ہم جنس پرستی کو کوئی جرم نہ ماننے کے حق میں دلائل دیے جا رہے ہیں۔

بھارت ان 70 ممالک میں سے ایک ہے جہاں ہم جنس پرستی قانونا? جرم ہے۔ اسے غیر فطری جنسی تعلقات کے زمرے میں رکھا گیا ہے اور اس میں ملوث پائے جانے والوں کو دس سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔دہلی ہائی کورٹ نے 2009ئ میں اس قانون کو منسوخ بھی کر دیا تھا لیکن پھر عدالت عظمیٰ نے 2013ئ میں اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ فی الحال یہ معاملہ ملکی سپریم کورٹ کے ایک آئینی بنچ کے زیر غور ہے۔واضح رہے کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایک بڑا طبقہ بھی ہم جنس پرستی کے خلاف قانون کو ختم کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس کے اس بیان نے بھارت میں سب کو حیرت زدہ کر دیا ہے

مزید :

بین الاقوامی -