پارلیمانی کمیٹی اپنے اختیارات سے عملاً دستبردار ،ججز تقرریوں کا بائیکاٹ کردیا

پارلیمانی کمیٹی اپنے اختیارات سے عملاً دستبردار ،ججز تقرریوں کا بائیکاٹ ...
پارلیمانی کمیٹی اپنے اختیارات سے عملاً دستبردار ،ججز تقرریوں کا بائیکاٹ کردیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پارلیمانی کمیٹی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر سے متعلق اپنے اختیارات سے عملی طور پر دستبردار ہوگئی ۔پارلیمانی کمیٹی نے ججوں کی تقرریوں کے بارے میں جوڈیشل کمشن کی سفارشات کا جائزہ لینے سے انکار کردیا ہے ،15روز کی آئینی مدت کے اندر جوڈیشل کمشن کی سفارشات پرکوئی فیصلہ نہ ہونے کے باعث اسے پارلیمانی کمیٹی سے منظور شدہ تصور کرتے ہوئے وزیر اعظم نے لاہور ہائیکورٹ کے 4ایڈیشنل جسٹس صاحبان کو مستقل کرنے کی سمری صدر مملکت کو ارسال کر دی۔جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل زمان خان، جسٹس شاہد جمیل خان، جسٹس شمس محمود مرزا اور جسٹس سید شہباز علی رضوی کو مستقل کرنے کی سفارشات پارلیمانی کمیٹی برائے ججز کو بھجوائی تھیں تاہم پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے ججز تعیناتیوں پر بائیکاٹ کے باعث پارلیمانی کمیٹی نے لاہور ہائیکورٹ کے چار ججوں کو مستقل کرنے کی سفارشات کا جائزہ لینے کے حوالے سے اجلاس ہی نہیں بلایا، پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سید نوید قمر کے مطابق ہمارا کردار غیررسمی ہے، پھر اجلاس منعقد کرنے کا کیا فائدہ ہے، جب پارلیمانی کمیٹی کی رائے کی کوئی اوقات ہی نہیں تو پھر کمیٹی کا اجلاس بلانے کا کیا فائدہ ہے، پہلے بھی ججز تعیناتیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں، آئین کے آرٹیکل 175(اے )کے تحت پارلیمانی کمیٹی 15روز کے اندرجوڈیشل کمشن کی سفارشات پرکوئی فیصلہ کرنے کی پابند ہے اگر 15روز کے اندر پارلیمانی کمیٹی کوئی فیصلہ نہیں کرتی توجوڈیشل کمشن کی سفارشات آئینی طور پر منظور شدہ تصور ہوتی ہیں ۔ پارلیمانی کمیٹی کی مقررہ آئینی مدت گزرنے کے بعد وزیر اعظم نے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو منظوری کے لئے صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔پارلیمانی کمیٹی برائے ججز نے ماضی میں دو سے زائد مرتبہ جوڈیشل کمشن کی سفارشات سے اختلاف کیا تھا ،پہلی مرتبہ سپریم کورٹ نے اور دوسری مرتبہ لاہور ہائی کورٹ نے پارلیمانی کمیٹی کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کردیا تھا جس کے باعث پارلیمانی کمیٹی نے احتجاجاً اجلاس طلب کرنا بند کردیاہے۔

مزید :

لاہور -