بیوی سے علیحدگی کے بعد ہی بچوں کا خرچہ اٹھانا کیوں مشکل ہوجاتا ہے ،ہائی کورٹ کے ریمارکس

بیوی سے علیحدگی کے بعد ہی بچوں کا خرچہ اٹھانا کیوں مشکل ہوجاتا ہے ،ہائی کورٹ ...
بیوی سے علیحدگی کے بعد ہی بچوں کا خرچہ اٹھانا کیوں مشکل ہوجاتا ہے ،ہائی کورٹ کے ریمارکس

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ بچوں کی کفالت کرنا باپ کی ذمہ داری ہے،میاں بیوی کے درمیان علیحدگی اور ناچاقی کے بعد ہی باپ کو بچوں کا خرچہ اٹھانا کیوں مشکل دکھائی دینے لگتا ہے۔ جسٹس محمد فرخ عرفان خان نے یہ ریمارکس محمد طارق نامی شہری کی درخواست کی سماعت کے دوران دیئے ۔درخواست گزارنے موقف اختیار کیا کہ اس کا اپنی بیوی کے ساتھ سول عدالت میں علیحدگی کا کیس چل رہا ہے،انہوں نے بتایا کی عدالت نے درخواست گزار کو اپنے بیٹے صفی اللہ اور بیوی کے لئے 5،5ہزار روپے خرچے کی ادائیگی کا حکم دے رکھا ہے جو کہ بلا جواز ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بچے کی تعلیم،صحت اور بنیادی ضروریات پوری کرنا والد کی ذمہ داری ہے،گھریلو ناچاقی کی سزا بچے کو دے کر اس کا مستقبل داﺅ پر نہیں لگایا جا سکتا،بچے کو تعلیم اور اچھی تربیت میسر نہ آئی تو وہ معاشرے کے لئے بھی کارآمد شہری نہیں بن سکے گا،عدالت نے بچے کے لئے 5ہزار روپے ماہانہ خرچ کی ادائیگی کا ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس کے خاتمہ کے لئے درخواست گزار کی استدعا مسترد کر دی تاہم بیوی کے خرچے کی مد میں حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے مقدمہ کی مزید سماعت ملتوی کردی ،عدالت نے درخواست گزارکی بیوی سے جواب بھی طلب کرلیاہے ۔

مزید :

لاہور -