Wi-Fi ٹیکنالوجی میں سب سے بڑی ’خامی‘ بھی ماہرین نے دور کردی، انٹرنیٹ صارفین کو زبردست خوشخبری سنا دی

Wi-Fi ٹیکنالوجی میں سب سے بڑی ’خامی‘ بھی ماہرین نے دور کردی، انٹرنیٹ صارفین کو ...
Wi-Fi ٹیکنالوجی میں سب سے بڑی ’خامی‘ بھی ماہرین نے دور کردی، انٹرنیٹ صارفین کو زبردست خوشخبری سنا دی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) وائی فائی انٹرنیٹ موبائل فون صارفین کے لیے بہت بڑی سہولت تھی لیکن اس میں ایک ہی خرابی تھی کہ وائی فائی کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرنے سے موبائل فون کی بیٹری بہت جلد ختم ہو جاتی تھی، مگر اب ماہرین نے یہ خامی بھی دور کر دی ہے۔ ماہرین نے کم توانائی سے چلنے والا وائی فائی (Ultra-low power Wi-Fi) ایجاد کر لیا ہے جس سے موجودہ وائرلیس کمیونیکیشن پلیٹ فارمز بلیوٹوتھ لو انرجی(Bluetooth Low Energy)اور زگ بی (Zigbee) وغیرہ کی نسبت موبائل فونز کی بیٹری1ہزار گنا کم صرف ہو گی۔

مزیدجانئے: وہ ڈیوائس جو آپ کے وائی فائی کی رفتار 10 گنا بڑھا دے

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق یہ لو پاور وائی فائی واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہرین نے ایجاد کیا ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اورواشنگٹن یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر شیام گولکوٹا (Shyam Gollakota) کا کہنا تھا کہ ”ہم نے دراصل بغیر توانائی کے چلنے والا وائی فائی بنانے کی کوشش کی تھی لیکن یہ لو انرجی وائی فائی بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ وائی فائی موجودہ وائی فائی سے 10ہزار گنا کم بجلی پر چلے گا۔ یہ اگرچہ انتہائی کم توانائی پر چلے گا تاہم اس کی سپیڈ پر اس کا زیادہ اثر نہیں پڑے گا اور یہ 11میگابائٹ فی سیکنڈ کی سپیڈ دے سکے گا۔ یہ سپیڈ اگرچہ میکس وائی فائی سے کم ہے لیکن بلیوٹوتھ سے 11گنا زیادہ ہے۔“

دریں اثناءگزشتہ ہفتے بارسیلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس کا انعقاد ہوا جس میں دنیا بھر سے کمپنیوں نے شرکت کی تھی۔ اس میں فرانسیسی کمپنی اولیڈکام(Oledcomm) نے لائی فائی(Li-Fi) سروس کا عملی مظاہرہ کرکے دکھایا۔ انہوں نے ایک آفس لیمپ کی روشنی کے ذریعے ایک موبائل فون کو لائی فائی انٹرنیٹ کنکشن دیا اور اس موبائل فون پر ایک ویڈیو چلا کر دکھائی۔ ہم بہت عرصے سے لائی فائی کا تذکرہ سنتے آ رہے کہ جس کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ یہ موجودہ کسی بھی تیز ترین انٹرنیٹ سے 100گنا زیادہ تیز رفتار ہو گا اور اسے تاروں یا برقی رو کی بجائے نظر آنے والی روشنی کے ذریعے موبائل فونز و دیگر ڈیوائسز سے منسلک کیا جا سکے گا۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اب تک لائی فائی کے کئی لیبارٹری ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں اس کی رفتار 200گیگا بائٹ فی سیکنڈ ثابت ہوئی ہے۔ اس موقع پر اولیڈ کام کے بانی سواٹ ٹوپسو(Suat Topsu) کا کہنا تھا کہ ”لائی فائی اس قدر تیز رفتار ہے کہ اس سے ایک سیکنڈ میں 23فلمیں ڈاﺅن لوڈ کی جا سکتی ہیں۔یہ ایل ای ڈی بلب کی پیداکردہ فریکوئنسی کے ذریعے چلتا ہے اور اسی بلب کی روشنی کے ذریعے ڈیوائسز سے منسلک کیا جاتا ہے۔“

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -