محبت کا گھر : فاؤنٹین ہاؤس

محبت کا گھر : فاؤنٹین ہاؤس
محبت کا گھر : فاؤنٹین ہاؤس

  

فاؤنٹین ہاؤس کی سالا نہ تقریب کے مہمان خصوصی ، اخوت اور فاؤنٹین ہاؤس کے چیئر مین ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے کہا ہے کہ ایک فاؤنٹین ہاؤس آپ لوگ یہاں دیکھ رہے ہیں اور ایک فاؤنٹین ہاؤس اس سے پرے بھی آباد ہے ، جہاں دیوانگی ، خواب اور جستجو ان تمام جذبوں کو کشید کریں تو جو چیز بنتی ہے ، اسے عشق کہتے ہیں ۔ فاؤنٹین ہاؤس کسی کا عشق ہے ۔

عشق نا ممکن کو ممکن بناتا ہے۔ اس عشق کا آغاز 1970ء میں ذہنی امراض کے مشہور ڈاکٹر رشید چوہدری اور ا ن کے کچھ دوستوں نے ان لوگوں کا ہاتھ تھا منے کا فیصلہ کیا جن کا ہاتھ تھامنے سے ان کے اپنے گھر والے بھی گریز کر تے ہیں ۔ یہ لوگ آپ نے بارہا فاؤنٹین ہاؤس میں دیکھے ہوں گے ۔

مرحوم ڈاکٹر رشید چوہدری کا کہنا تھا کہ میں ایسے لوگوں کیلئے گھر بنانا چاہتا ہو ں جن کا اس پوری دنیا میں کوئی گھر نہیں ہے ۔ اور یوں فاؤنٹین ہاؤس وجود میں آیا اور پھر الحمداللہ اک گھنے پیڑ کی مانند اس کا سایہ بڑھتا گیا ۔ اس گھنے سائے تلے وہ بیٹھنا شروع ہوئے جو ہمارے اپنے ہیں ، لیکن ہم انہیں فراموش کر چکے ہیں ۔

ڈاکٹر رشید چوہدری اس دنیا سے رخصت ہوئے اور عَلم ڈاکٹر ہارون رشید چوہدری کے ہاتھ میں آیا ۔ ہماری امید نہ ٹوٹنے پائی ۔ قدرت کے انوکھے راز ہیں ۔ ان رازوں تک پہنچنا شاید آپ کے اور ہمارے بس میں نہیں ہے ۔

نہ جانے کیا راز تھا کہ پھر ہارون رشید بھی ہمار ا ساتھ چھوڑ کر بہت دور چلے گئے ۔ ہارون رشید کے بعد لگا کہ یہ عظیم ادارہ پت جھڑ کا شکار ہو جائیگا اور کچھ لوگوں کا گھر شاید خزاں کا شکار ہو کر ہمیشہ کیلئے مٹ جائیگا ۔ لیکن الحمد للہ ہماری ایگزیکٹو کمیٹی ، بابا غیا ث الدین ، حاجی انعام الٰہی اثر اور دیگر کچھ اورلوگوں نے فاؤنٹین ہاؤس کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا ۔

مجھے اور میرے کچھ دوستوں کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ ہم اپنے دامن میں کچھ نیکیاں سمیٹیں۔ ہم بھی ان لوگوں کے پاس آئیں اور ان سے کہیں کہ تمہارے دکھ ہمارے ہیں اور ہماری خوشیاں تمہاری ہیں ۔

یوں ایک با ر پھر یہ کارواں چلا تو الحمد للہ لاہور سے نکل کر فاروق آباد اور پھر سر گودھا تک پھیل گیا۔ اب ہم یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کے ہر بڑے شہر میں ایک فاؤنٹین ہاؤس ہونا چاہیے خواب دیکھنے چاہییں کیونکہ حقیقت تک وہی پہنچتا ہے جو خواب دیکھتا ہے ۔ آج جو کچھ بھی ہے آ پ کی وجہ سے ہے ۔

بیس ایکڑ پر محیط زمین کو ہم فاؤنٹین ہاؤس فاروق آباد کہتے ہیں ۔ وہاں پر ہمارے دوست عارف بٹ صاحب اور ان کے بھائیوں نے ایک بہت بڑا ’’کمپیشن ہاؤس‘‘بنانے کا فیصلہ کیا۔

وہاں پر ہم ایسی بچیوں کی رہائش گاہ بنانا چاہتے ہیں جو ذہنی طور پر اس قابل نہیں ہیں کہ اپنی زندگی خود سے گزار سکیں ایسی بچیو ں کے والدین جب پچھڑ جاتے ہیں تو پھر ان کا کوئی سہارا نہیں بنتا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ جو48 بچیوں کا بلا ک ہے بڑھتے بڑھتے 500 بچیوں کیلئے آشیانہ بن جائے ۔

اسی طرح بہت سے بلا ک ہم خواجہ سراؤں کیلئے بھی بنانا چاہتے ہیں ۔ وہ خواجہ سرا جو پچاس سال سے زائد عمر کے ہیں اوردر بدر کی ٹھو کریں کھاتے ہیں جن کو کوئی قبول نہیں کرتا ۔ حتیٰ کہ ان کے والدین نے بھی انہیں گھر سے نکال دیا ۔ دوسری طرف ہمیں وہ ضعیف بھی نظر آتے ہیں ، جن کے بچوں نے انہیں فراموش کر دیا ۔

ایسے لوگوں کیلئے دنیا میں اولڈ ایج ہوم بنائے جاتے ہیں ۔ ایسے ضعیفوں کیلئے ہم بھی ایک بلاک بنانا چاہتے ہیں ۔ ارادہ یہ ہے کہ اس بیس ایکڑ پر ان لوگوں کو رہنے کیلئے گھر فراہم کیا جائے جو ہماری کوتاہ نظری اور سنگ دلی کا شکار ہیں ۔ اس جگہ کو ہم " محبت کا گھر " کا نام دینا چاہتے ہیں ۔ شاید یہ گھر آپ کیلئے اور ہمارے لئے راہ نجات بن جائے ۔

ایم ایس فاؤنٹین ہاؤس ڈاکٹر سید عمران مرتضیٰ علاج کے بعد معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ بڑی سر گرمی آؤٹ ڈور مریضوں کے معائنہ کی ہے ۔ ہمارے تینوں سینٹر لاہور ، سرگودھا اور فاروق آباد میں 35 ہزار مریضوں کو بلامعاوضہ چیک اپ کی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔

ان میں سے بارہ ہزار مریض ایسے تھے جو ادویات خریدنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے تھے انہیں زکوۃ فنڈ سے فری ادویات فراہم کی جاتی ہیں ۔

پھر ایسے مریض جو کہتے ہیں ہم زکوۃ نہیں لیتے ، انہیں بھی دس فیصد ڈسکاؤنٹ سے مد د کی جاتی ہے ۔ بہت سے ایسے مریض جو فاؤنٹین ہاؤس تک نہیں آسکتے اُن کے لئے دور دراز علاقوں میں کیمپ منعقد کئے اور دس ہزار کے قریب مریضوں کو علا ج و معالجہ کی سہولت فراہم کی اور ادویات بھی فری دی گئیں ۔

پنجاب ویلفیئر ٹرسٹ سے ہم تین سو سپیشل بچوں کیلئے دو سکول چلا رہے ہیں انہیں یہاں تعلیم دی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس میں بھی کچھ ایسے بچے جو سکول نہیں آسکتے ہماری ٹیم ان کے گھروں میں جاکر ان کو ایکسر سائز اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کر تی ہے ۔ فاؤنٹین ہاؤس کے خواجہ سرا پروگرام کے تحت سات سو خواجہ سراؤں کو ایک ایسا منفرد ماحول فراہم کیا گیا ہے جہاں ان کی ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا نہ صر ف علاج کیا جاتا ہے بلکہ معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جاتا ہے اور ماہانہ وظیفہ بھی دیا جا تا ہے ۔ سائیکو ایجو کیشن پروگرام ایسے لوگوں کی فیملیز کے لیے ہے جن کے گھروں میں بھو ت ، پریت اور ایسی افواہوں کا زور ہوتا ہے ۔ اس پروگرام کے تحت پانچ سو فیملیز کو ہم صحت یاب کر کے انکی کھوئی ہوئی خوشیاں دلا چکے ہیں ۔

فاؤنٹین ہاؤس محض ذہنی بیمار لوگوں کو ٹھیک کر نے کا ادارہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک محبت کا گھر ہے جہا ں انسانیت کی قدر کی جاتی ہے ۔ انسانی رویوں کو سمجھا جاتا ہے ۔

یہاں اپنا پن اور احساس ہے ، وہ جنہیں اپنے بھی اپنانے سے گریزاں تھے انہیں اس محبت کے گھر نے جگہ دی ۔صرف اپنایا ہی نہیں بلکہ ان کے دکھوں کا مداوا بھی کر دیا ۔

لوگوں کی تکالیف کو خوشیوں اور مسر توں میں بدلنے میں فاؤنٹین ہاؤس کا کتنا کردارہے ۔ یہ ہم جانتے ہیں ۔ ان لوگوں سے جو یہا ں سے مکمل صحت یاب ہو کر واپس اپنی خوش و خرم زندگیوں کا آغاز کر چکے ہیں۔

کاش اس قسم کا جذبہ رکھنے والے مسیحاؤں کو حکومتی سر پرستی بھی حاصل ہوتی ۔ اصل میں یہ کام حکومتوں کا ہے جسے یہ اہلِ دل حضرات ذاتی کوششوں سے قائم رکھے ہوئے ہیں ہمارے ملک میں انفرادیت پر توجہ ہے اجتماعی نیکی کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا ۔

اسکی ایک مثال چند روز قبل اخبارات کی ایک خبر سے دی جاتی ہے جس کے مطابق گلو کارہ ناہید اختر کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا ۔

اور حکومتی سطح پر صرف فنکاروں اور سٹیج ڈرامہ کے آر ٹسٹوں کو ہی انسان سمجھا جاتا ہے عام آدمی کی ان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے ۔

مزید :

رائے -کالم -