” اس نے علی الصبح چوکیدار کے فون پر کال بھی کی تھی جس کے بعد۔۔۔“ نجی میڈیکل کالج کی طالبہ کی ہاسٹل کی گلی سے ملنے والی لاش پولیس کے لیے معمہ بن گئی

18 مارچ 2018 (14:02)

میرپورخاص(ویب ڈیسک) میرپورخاص میں نجی میڈیکل کالج کی طالبہ کی ہاسٹل کی گلی سے ملنے والی لاش پولیس کے لیے معمہ بن گئی۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایکسپریس نیوز کے مطابق میرپورخاص کے علاقے ڈھولن آباد میں واقع گرلز ہاسٹل کی گلی سے پولیس نے مقامی افراد کی نشاندہی پر نوجوان لڑکی کی لاش تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کی جہاں اس کی شناخت 28 سالہ زہرش بنت ذوالفقار انصاری کے نام سے کی گئی جو میرپورخاص کے ہی نجی ڈینٹل میڈیکل کالج میں فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی۔پولیس کے مطابق زہرش کے موبائل فون سے علی الصباح چوکیدار کے موبائل فون پر کال بھی کی گئی تھی جس کے بعد ہاسٹل کے چوکیدار عبدالرحمان، ہاسٹل میں رہائش پذیر زہرش کی 2 سہیلیوں فوزیہ اور آسیہ کوحراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔

پولیس کے مطابق زہرش کے جسم پر چھلانگ لگانے کے بعد زمین پر گرنے کے نشانات موجود نہیں۔ لاش گلی کی نالی میں پڑی ہوئی تھی تاہم پوسٹمارٹم رپورٹ کے بعد صورتحال مزید واضح ہوجائے گی۔دوسری جانب کالج کے ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ ایچ آر الطاف حسین نے بتایا کہ زہرش خانپور پنجاب کی رہائشی تھی جس کے قریبی رشتے دار یوسف میرپورخاص کے علاقے سیٹلائٹ ٹاو¿ن میں رہائش پذیر ہیں۔

زہرش چند روز سے شدید ذہنی دبائو کا شکار تھی جس کا کالج کی انتظامیہ نے ماہر نفسیات سے مختلف اوقات میں چیک اپ بھی کروایا اور طبیعت نہ سنبھلنے پر کچھ روز کے لیے یوسف کے گھر بھیج دیا تھا لیکن دو روز قبل ہی زہرش نے اپنے رشتے دار سے ہاسٹل بھیجنے کی ضد کی تو یوسف اسے ہاسٹل چھوڑ کر چلے گئے تھے اور پھر صبح اطلاع ملی کہ زہرش کی لاش ہاسٹل کے عقبی حصے کی گلی میں پڑی ہے۔ اس حوالے سے کالج انتظامیہ بھی تفتیش کررہی ہے۔

مزیدخبریں