مہلت کم ہوتی جارہی ہے

مہلت کم ہوتی جارہی ہے
مہلت کم ہوتی جارہی ہے

  



ہم بھی کیسے لوگ ہیں؟ ہمیں کبھی اغیار نشانہ ِستم بناتے ہیں اور کبھی اپنے ہمیں تختہ َمشق بنانے پر ادھار کھا لیتے ہیں ؟ بر صغیر میں طب نے صدیوں حکم رانی کی ۔ یہ فن باد شاہوں اور فرماں رواﺅں کا محبوب رہا ، اس سے وابستہ لوگوں کو شاہی درباروں میں رسائی حاصل رہی ، وہ عزت و توقیر کے حامل رہے ۔ طب کی سرپرستی کے لئے شاہی خزانوں کے منہ کھلے تو اطباءکے لئے مناصب کے دَر وا ہوتے چلے گئے ۔ یوں فن طب ترقی کے مدارج طے کرتا چلاگیا اور اس کے حاملین درباروں ، سرکاری مشینری اور معاشرے میں احترام وتکریم کے سزاوار بنتے چلے گئے اور پھر بر صغیر پر انگریز سامراج نے اپنا غاصبانہ تسلط جمالیا ۔ اس استعماری طاقت نے برصغیر کے علوم وفنون، یہاں کی تہذیب و تمدن، یہاں کی ثقافت ، یہاں کے رہن سہن اور معاشرتی اقدار سبھی کو تہہ وبالا کرنے کی ٹھان لی ۔مسلمان اس کا خاص ہدف تھے، اس نے تو ان کے دین کو بھی نہ بخشا اور ایک خود ساختہ نبی ”معبوث“ کردیا ۔

طب اسلامی (یونانی) بھی ان علوم وفنون میں شامل تھا جنہیں حرفِ غلط کی طرح مٹانے کی سازش بدیسی حکم رانوں نے کی ۔ انہوں نے اس پر پابندی کا قانون بنایا ، لیکن بھلا ہو چند ریاستوں کے مقامی راجاﺅں اور اطباءکی بیدار مغز فنی و سیاسی قائدین کا جنہوں نے بر صغیر پر مسلط حکم رانوں کا بڑی جرات و پامردی سے مقابلہ کیا اور ان کی ناپاک سازشوں کو ناکام بنایا ۔ مقامی حکم رانوں نے اپنے فن کی سرپرستی جاری وساری رکھی جبکہ سیاسی محاذ پر حکیم اجمل خان کی جرات مند اور صاحب ِبصیرت و عزیمت قیادت نے اطبائے ہند کو آل انڈیا یونانی اینڈ آیورویدک کانفرنس کے پلیٹ فارم پر اکٹھے کیا اور یوں انگریزی سامراج طب یونانی اور مقامی طبوں کو ختم کرکے مکمل طو رپر ایلو پیتھک نظام کو رائج کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔

پاکستان بننے کے بعد اصولی طور پر تحریکِ پاکستان کے قائدین کے وعدوں کے مطابق طب اسلامی و یونانی کی ترویج و ترقی حکومت کے فرائض منصبی میں شامل ہونی چاہیے تھی ، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ پاکستان کے سیاسی و انتظامی حکم ران یکے بعد دیگر ے طب دشمنی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے کوشاں رہے ۔ ستر سالہ تاریخ میں صرف ضیاءالحق شہید کا اکلوتا دور ایسا ہے جس میں طب اور اطباءکو ان کا جائز مقام دلانے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی گئیں اور کئی ایک اہم اقدامات کئے گئے ۔ وگرنہ کسی نے اس پر دقیانوسی ہونے کی پھبھتی کسی ، کسی نے اس کی ادویہ کو جعلی قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا ، کسی نے اس کے تعلیمی اداروں سے کھلواڑ کی کوشش کی .... شومئی قسمت کہ خود ہم نے بھی اس حوالے سے بہت بھیانک کردار ادا کیا....کسی نے اس کی کونسل کے اختیارات سلب کرنے کی کوشش کی تو کسی نے اس فن شریف کے معالجین پر قدغنیں لگانے ، ان کے مطب سیل کرنے اور انہیں حوالہ زنداں کرنے کے اقدامات کئے ۔ جنرل برکی نے تو اس نظام ِصحت کو غیر قانونی قرار دلوانے کے لئے اپنے انگریز آقاﺅں کی طرز پر کام کا آغاز کردیا تھا ۔

آج بھی طب ، اطباءاور طبی دوا سازی کو حکومتی سطح پر بہت سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں اور بادی النظر میں یہی لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کی سنگینی میں مزید اضافہ ہوگا ۔ایسے میں پوری طبی برادری کا فرض ہے کہ وہ اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو ، سنگینی احوال پر فکری و نظری اور علمی وعملی مباحثے کا آغاز کرے ۔چیلنجز کا تعین کرتے ہوئے ان کے مقابلے کالائحہ عمل تیار کرے ۔ اپنی خامیوں اور کمزوریوں کی بھی نشان دہی کرتے ہوئے ان پر قابو پانے کے اقدامات تجویز کرے اور مخالفین طب کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لئے ایک لڑی میں اپنے آپ کو پرو کر سیسہ پلائی دیوار بن جائے۔ اس عظیم کام کے لئے ہمیں منفی سوچ اور ذاتی مفادات سے بالا ہونا ہوگا ۔ اس بنیادی تقاضے کو پورا کئے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ پائیں گے ۔

سوچئے، غور وفکر کیجئے اور فیصلہ کر گزریئے ، شاید مہلت کم ہوتی جارہی ہے ۔

،،

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ