ماسک اور سینی ٹائزر کی فراہمی، آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب

ماسک اور سینی ٹائزر کی فراہمی، آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے ہینڈ سینی ٹائزر اور ماسک کی عدم دستیابی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت نے دفعہ 144 لگا دی ماسک پھر نہیں مل رہے،آپ کامقصد لوگوں کوبند کرنا اور قیدی بنانا نہیں ہونا چاہیے، عدالت نے ماسک اور سینی ٹائزر کی فراہمی کے حوالے سے(بقیہ نمبر31صفحہ12پر)

آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو فاضل جج نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ حکومت کی ماسک کی لوکل مینوفیکچر کتنی ہے،جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ پاکستان میں 75 ہزار یومیہ پیداوار ہے، زیادہ تر ماسک بیرون ملک سے آتا ہے،پنجاب میں 33 ہزار فارمیسی ہیں ہر فارمیسی کے ذمہ ایک ڈبہ بھی نہیں آ رہا،فاضل جج نے کہا کہ جو ماسک پکڑے گئے ہیں وہ کہاں ہیں؟ مال مقدمہ بناکر رکھ نہ لیں،درخواست گزارڈاکٹر سلمان کاظمی نے کہا کہ یہ ہسپتالوں کو فراہم کریں تاکہ ڈاکٹروں کو آسانی ہو،دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ ماسک کی قیمت مقرر کرنے کے لئے کہا گیاتھا اس پر کیا کیا گیا؟جس ڈریپ کے وکیل نے کہا کہ اس پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی،جس پر فاضل جج نے کہا کہ چھوٹے پیمانے پر ماسک بنانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مانٹینرنگ کی جائے۔

رپورٹ طلب

مزید : ملتان صفحہ آخر