حکومت سنجیدگی کیساتھ سرائیکی صوبے کیلئے اقدامات، غلام فرید کوریجہ

حکومت سنجیدگی کیساتھ سرائیکی صوبے کیلئے اقدامات، غلام فرید کوریجہ

  



ملتان (سٹی رپورٹر)کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ صوبے کے مسئلے پر پائے جانیوالے اختلاف پر بھی قابو پایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان صوبہ محاذ کے رہنماؤں خواجہ غلام فرید کوریجہ‘ کرنل عبدالجبار عباسی‘ ظہور دھریجہ‘ عاشق بزدار‘ ملک خضر حیات ڈیال‘ مہر مظہر کات نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے حوالے سے ملک میں خوف کی فضا پیدا کر (بقیہ نمبر37صفحہ12پر)

دی گئی ہے، اگر اعداد و شمار دیکھے جائیں کہ روزانہ کینسر، یرقان و دیگر موذی امراض سے کتنے لوگ مر رہے ہیں، ان امراض سے بچاؤ کیلئے نہ تو حفاظتی انتظامات کئے جا رہے ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی آگاہی مہم ہو رہی ہے۔ ایک یکطرفہ طور پر خوف کی مہم شروع کی گئی ہے، جسے ایک حد تک رکھنے کی ضرورت ہے۔ سرائیکی رہنماؤ ں نے کہا کہ ملک سے خوف کی کیفیت کو ختم کیا جائے‘ کورونا وائرس کے ٹیسٹ مفت کئے جائیں اور ماسک مفت مہیا کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وسیب کو ایک دوسرے سے لڑانے اور ان کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی بجائے سنجیدگی کے ساتھ سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے اقدامات کئے جائیں اور صوبہ کمیشن بنایا جائے۔ تحریک انصاف وسیب کے ساتھ مذاق کر رہی ہے اور ن لیگ کے رہنما و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ بیان ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے کہ ن لیگ صوبے کی مخالفت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وسیب میں تقسیم پیدا کرنے کا کام ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت ہو رہا ہے، پہلے محمد علی درانی کو آگے کیا گیا، اب وہی کام طارق بشیر چیمہ کر رہا ہے، جسے وسیب کے لوگ کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مخدوم شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس پر خوش ہونے کی بجائے مایوسیوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ اگر تحریک انصاف کے پاس اکثریت نہیں تو فاٹا نشستوں کے اضافے اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا بل کیسے پاس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی لحاظ سے ملتان کی ایک اہمیت ہے، اس کے علاوہ بھی ملتان وسیب کے عین وسط میں ہے، اس لئے ڈی آئی خان ٹانک تک کے لوگ ملتان کو دارالحکومت بنانے پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت وسیب کی حدود، اس کے نام اور دارالحکومت کے مسئلے کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد صوبے کی منزل کو دور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی صوبہ بننا چاہئے اور شناخت کے مطابق بننا چاہئے، صوبے کے لئے پانی کا مسئلہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے، اس کے بغیر صوبہ لیاگیا تو نقصان کا باعث ہوگا۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ دیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے لوگ بیتاب ہیں، وہ ہر صورت اس سرائیکی صوبے کا حصہ بنیں گے جس کا دارالحکومت ملتان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے دوسرے صوبے ہیں، ہم ویسا ہی صوبہ مانگتے ہیں۔ اگر حکومت نے صوبہ بنانا ہے تو سنجیدگی دکھائی جائے تاکہ پھر سے مسئلے پیدا نہ ہوں اور صوبہ سرحد کے نام کی طرح پھر سے محض نام کے مسئلے پر آئین میں ترمیمیں نہ لانا پڑیں۔

غلام فرید

مزید : ملتان صفحہ آخر