وکلاء حبس بے جا ضمانتیں حوالگی، حکم امتناع کے سواء عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے

وکلاء حبس بے جا ضمانتیں حوالگی، حکم امتناع کے سواء عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)کرونا وائرس کے خطرہ کے پیش نظر وکلاء نے ملک بھر میں حبس بے جا،ضمانت،گارڈین (بقیہ نمبر43صفحہ12پر)

اورفوری حکم امتناعی کے مقدمات کے سوا کسی بھی مقدمہ میں پیش نہ ہونے کا اعلان کردیا۔اس سلسلے میں پاکستان بار کونسل نے ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنوں کو مراسلہ جاری کردیاہے جس کے تحت آج 18مارچ سے وکلاء 5 اپریل تک مذکورہ مقدمات کے سوا کسی دوسرے مقدمہ میں عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے،پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی،پنجاب بارکونسل کے وائس چیئرمین محمد اکرم خاکسار،لاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر طاہر نصر اللہ وڑائچ، لاہورڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جی اے خان طارق اوردیگر عہدیداروں نے اپنے مشترکہ اعلامیہ میں کہاہے کہ پاکستان بھر کے وکلاء اس بات پر متفق ہیں کہ جتنے دن کورٹس کی کاروائی متاثر ہو گی اتنے دن گرمیوں کی چھٹیاں منہا کر دی جائیں،وکلاء نے مطالبہ کیا کہ تمام ماتحت عدالتیں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں کی متعلقہ جیل میں سماعت کریں،رونمائی ملزمان کے تمام مقدمات کی بھی متعلقہ مجسٹریٹ جیل میں سماعت کریں، معمولی جرائم میں ملوث ملزمان کو ذاتی مچلکوں پر فوری رہا کیا جائے،جن قیدیوں کی باقی ماندہ سزا چھ ماہ سے کم ہے انہیں بھی فی الفوررہا کر دیا جائے،ملک کی تمام ہائیکورٹس صرف ضمانت، حبس بے جا اور فوری حکم امتناعی کے مقدمات کے سوا کوئی مقدمہ سماعت کے لئے فکس نہ کریں۔کرونا پھیل رہا ہے اس سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے۔وکلاء راہنماؤں کا کہناہے کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے 16مارچ کو چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ سے بالمشافہ ملاقات اور بذریعہ پریس ریلیز مطالبہ کیا تھا۔

مشترکہ اعلامیہ

مزید : ملتان صفحہ آخر