کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے حکومتی اقدامات کس قدر اطمینان بخش؟

کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے حکومتی اقدامات کس قدر اطمینان بخش؟

  



کورونا وائرس عالمی وبا قرار دیئے جانے کے بعد خیبرپختونخوا میں بھی بعض افراد کے متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، کئی شہری اس وائرس میں مبتلا ہونے کے شک کے تحت انڈر آبزرویشن ہیں، اگرچہ صوبائی حکومت نے اپنے تئیں مختلف حفاظتی اقدامات کئے ہیں، ہسپتالوں میں مناسب تدابیر کی جا رہی ہیں جبکہ خصوصی فنڈز کا بھی اعلان کیا گیا ہے، صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت دیگر علاقوں میں اس حوالے سے اقدامات جاری ہیں، سرکاری سطح پر ہنگامی حالت بھی نافذ کی گئی ہے۔ پاک افغان سرحد پر کرونا وائرس سے بچنے کے لیے محکمہ صحت کی خصوصی ہدایت پر طور خم کے مقام پر موبائل ہسپتال قائم کیا گیا ہے جہاں پر افغانستان سے آنے والے افراد کی مکمل چیکنگ اور سکریننگ کی جا رہی ہے،افغانستاں سے روزانہ کی بنیاد پر طورخم بارڈر کے راستے تقریبا آٹھ ہزار لوگوں کی آمددرفت ہوتی ہے۔ یہ ایک احسن اقدام ہے کیونکہ اب تک پاکستان میں جتنے افراد میں کورونا وائرس کے اثرات پائے گئے ہیں وہ بیرون ملک سے ہی ہمارے وطًن میں داخل ہوئے تھے، پاکستان کو لگنے والی تمام سرحدوں پر اس قسم کی خصوصی چیکنگ اور عارضی ہسپتالوں کا قیام ضروری ہے۔ اس حوالے سے مشیراطلاعات خیبرپختونخوا اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ صوبے میں کروناکی روک تھام کیلئے ایمرجنسی نافذ ہے،وائرس کے تدارک کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں،عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں،صوبے میں 20ہسپتال متبادل کے طور پر تیار ہیں، کرونا وائرس کا پھیلاوَ روکنے کیلئے احتیاط کی اشد ضرور ت ہے،صوبے میں صحت کے تمام شعبے اس طرف اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں،صوبائی کابینہ کے فیصلے سے ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے جبکہ کئی دیگر اقدامات بھی بروئے کار لائے جا رہے ہیں، ہماری عوام سے اپیل ہے کہ وہ صحت عامہ کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے صفائی کا خاص خیال رکھیں اور کورونا کی احتیاطی تدابیر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ خیبرپختونخوا میں ”کورونا ایمرجنسی“ کے تحت حکومتی سطح پر بازاروں کی بندش بھی زیرِ غور ہے ، محکمہ صحت کو طبی آلات و ادویات کی خریداری کیلئے5ارب روپے کی خصوصی گرانٹ جاری کی گئی ہے جبکہ 5ارب کی سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دے دی گئی وزیراعلیٰ محمود خان کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس کو فوری طور پر متحرک کیا گیا ہے، پشاور کا پولیس ہسپتال کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے مختص کرنے کیساتھ صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں 1200 آئسولیشن وارڈ قائم ہوئے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں 5 اپریل تک تعطیلات دیئے جانے کے ساتھ ساتھ جاری امتحانات بھی فوری طور پر ملتوی کر دیئے گئے ہیں، یہ اطلاع بھی ہے کہ پاکستان ریلوے پشاور ڈویژن نے بھرتی ہونے والے امیدواروں کے ٹیسٹ بھی ملتوی کردیئے ہیں، ٹی سی آراور جے اے ٹی پوسٹ کیلئے تحریری امتخان اضاخیل ڈرائی پورٹ نزد پیرپیائی ریلوے اسٹیشن میں شیڈول تھا، نئی تاریخ کابعد میں اعلان کیاجائیگا۔ اس حوالے سے صوبائی ایڈمنسٹریٹر اوقاف نے گائیڈ لائنز بھی جاری کی ہیں جن میں نماز جمعہ دو شفٹوں میں ، سنتیں اور نوافل گھروں پر پڑھنے، پنج وقت نماز برآمدے یا صحن میں ادا کرنے اور بزرگوں اور بچوں کی مساجد میں آمد کی حوصلہ شکنی کی ہدایات کی گئی ہیں۔

صوبے میں تمام غیر ضروری سرکاری دفاتر اور ڈائریکٹوریٹ عارضی طورپر 15دنوں کے لئے بند کرنے، خواتین ملازمین سمیت پچاس سال سے زائد سرکاری ملازمین کو رخصت پر بھیجنے اور دفاتر میں غیر ضروری ملازمین میں کمی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کورونا کے مریضوں کے اہل خانہ کے لئے مفت راشن کی فراہمی کا بھی اعلان کیا ہے۔ مفت راشن ان مریضوں کو دیا جائے گا جن کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انہیں سرکاری قرنطینہ میں رکھا گیاہے۔ راشن پیکج 20 کلو آٹے، 10 کلو چاول، 10 کلو چینی، پانچ کلو دال، دودھ اورچائے کی پتی پر مشتمل ہے۔ صوبائی حکومت کے یہ اقدامات بہتر ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری بھی اس موذی وائرس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون بھی کریں۔ کورونا یقیناً خطرناک ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں پولیو کے کئی کیسز بھی ہر روز سامنے آ رہے ہیں، محکمہ صحت کو چاہئے کہ وہ اس طرف بھی توجہ کرے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ پولیو کے مریض کورونا کے بوجھ یا شور شرابہ تلے دب جائیں۔

گزشتہ ہفتے انہی سطور میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ امریکہ طالبان معاہدہ آہستہ آہستہ کمزور پڑتا جا رہا ہے، ایک ہی دن میں دو افغان صدور کی تقاریب حلف برداری، مختلف علاقوں میں امن و امان تباہ کرنے کے واقعات سمیت ایسے کئی دیگر عوامل سامنے آئے جن کے باعث یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ معاہدے کا مستقبل مخدوش ہے۔ افغان حکومت کی طرف سے طالبان قیدیوں کی عام رہائی اس معاہدے کی اہم شق کے طور پر شامل کی گئی ہے اور طالبان کے نزدیک ان کا بنیادی مطالبہ بھی یہی ہے جس پر کئی روز گزر جانے کے باوجود عمل درآمد نہیں ہوا اور تازہ اطلاع یہ آئی ہے کہ افغان حکومت نے طالبان کے ایک ہزار پانچ سو قیدیوں کی رہا ئی ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ طالبان کی جانب سے ابھی تک اس بارے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عالمی امور کے ماہرین کا اس حوالے سے خیال ہے کہ جب تک 5 ہزار طالبان قیدی رہا نہیں کئے جاتے، امریکہ طالبان امن معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد نا ممکن ہے، افغانستان کے اندرونی حالات بھی اس معاملے میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ کھڑی کر دیتے ہیں۔ کیونکہ پاکستان اس امن معاہدے میں اہم کردار کا حامل ہے اور ہمارے ہاں امن و امان کی صورت حال جب بھی خراب ہوتی ہے تو اس کی وجہ سرحد پار ہونے والے معاملات ہی بنتے ہیں اس لئے پاکستان کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ افغانستان میں امن و امان کا بول بالا رہے۔

مزید : ایڈیشن 1