انار کازیر کاشت رقبہ 13493 ہیکٹرز،پیداوار ساڑھے 6ہزار ٹن

  انار کازیر کاشت رقبہ 13493 ہیکٹرز،پیداوار ساڑھے 6ہزار ٹن

  



فیصل آباد۔ (اے پی پی) پاکستان میں انار کازیر کاشت رقبہ 13493 ہیکٹرز اور سالانہ پیداوار ساڑھے 6ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے جبکہ باغبان بیدانہ، میٹھا، قندھاری، جھالاری، ترش اور علی پور اقسام کا انار کاشت کرکے شاندار فصل حاصل کرسکتے ہیں۔ ریسرچ انفارمیشن یونٹ آری فیصل آباد کے ترجمان نے اے پی پی کو بتایاکہ 100گرام انار میں 70 گرام کیلوریز، 6.1 ملی گرام وٹامن سی، 3ملی گرام کیلشیم،17.17 گرام کاربوہائیڈریٹ،انہوں نے بتایاکہ پاکستان میں انار کی زیادہ تر کاشت لورالائی، قلات، کوئٹہ، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، تحصیل علی پورضلع مظفر گڑھ، مری، چوآ سیدن شاہ، کشمیر میں کی جاتی ہے تاہم یہ دیگر علاقوں میں بھی آسانی سے کاشت کیاجاسکتاہے۔

انہوں نے بتایاکہ انار کو تازہ حالت سمیت خشک کرکے انار دانے کی صورت میں بھی استعمال کیاجاتاہے۔ انہوں نے بتایاکہ انار دانتوں، گلے، پیٹ کی کئی امراض سمیت ملیریا، ٹائیفائیڈ بخار، دل، معدے کی بیماریوں میں بھی انتہائی اکثیر ثابت ہواہے۔ انہوں نے بتایاکہ انار کی کاشت مختلف قسم کی آب و ہوا میں کی جاسکتی ہے مگر اعلیٰ کوالٹی کیلئے موسم گرما میں گرم خشک موسم اس کی کاشت کیلئے شاندار ہوتاہے۔انہوں نے کہاکہ گرم میدانی اور مرطوب علاقوں میں پائی جانیوالی اقسام قدرے ترش، ہلکے رنگ، کم رس، چھوٹے سائز میں پھل دیتی ہیں جبکہ خشک سرد علاقوں میں پائی جانیوالی اقسام کاپھل خوش رنگ، سائز بڑا اور زیادہ رس والا ہوتاہے۔انہوں نے کہاکہ انار کاپودا 3 سے 4 سال کے بعد پھل دینا شروع کرتاہے۔ انہوں نے کہاکہ باغبان انار کی کاشت کے ضمن مزید رہنمائی کیلئے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کی خدمات سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔

مزید : کامرس