کرونا وائرس کو شکست دے کر چینی عوام مزید طاقتور بن کر ابھریں گے: ڈاکٹر عارف علوی

  کرونا وائرس کو شکست دے کر چینی عوام مزید طاقتور بن کر ابھریں گے: ڈاکٹر عارف ...

  



اسلام آباد /بیجنگ(آئی این پی)پاکستان اور چین نے اعلی سطحی دوروں اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے اس بات پر زوردیا ہے کہ اس وقت کرونا کے چیلنج کا پوری انسانیت اور تمام ممالک کو سامنا ہے، اس کے مقابلے کے لئے تمام ممالک کو مل کر اور تعاون کے ذریعے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، نئے دور میں مشترکہ مستقبل رکھنے والی کمیونٹی کی تشکیل کیلئے دونوں ممالک کی سدا بہار پاکستان چین سٹرٹیجک کوآپریٹو پارٹنر شپ کو مزید مضبوط کیاجائے گا،دونوں اطراف نے ایک دوسرے کے قومی مفادات سے متعلق امور پر ایک دوسرے کی حمایت کا اعادہ کیا جبکہ پاکستان کی جغرافیائی سالمیت، خودمختاری وآزادی اور سلامتی کے دفاع کے حوالے سے چین نے اظہار یکجہتی کیا،پاکستان کی طرف سے ون چائنا پالیسی کے لئے عزم کا اعادہ کیا اور ہانگ کانگ اور تائیوان سے متعلقہ امور کو چین کا داخلی معاملہ قرار دیا۔ پاکستان کی طرف سے زوردے کر کہاگیا کہ صدر شی چن پنگ کی حکومت کے ترقیاتی اقدامات کی بناپر شنکیان مجموعی سماجی بہتری اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کرونا وائرس پر قابو پانے اور اس سے نبردآزما ہونے کیلئے چین کی انتھک کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ صدر شی چن پنگ کی قیادت میں چین کے عوام کورونا وائرس کو مکمل شکست دے کر اور بھی زیادہ طاقتور اور فاتح بن کر ابھریں گے۔صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کرونا وائرس پر قابو پانے اور اس سے نبردآزما ہونے کے لئے چین کی انتھک کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آزمائش کی گھڑی میں چین میں مقیم پاکستانی باشندوں کی دیکھ بھال میں گہری دلچسپی لینے پر چین کو سراہا۔ چین کی قیادت نے یقین دلایا کہ پاکستانی باشندوں اور طالب علموں کی صحت وتندرسی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے گئے ہیں۔صدر شی چن پنگ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کا شکریہ ادا کیا کہ نازک گھڑی میں انہوں نے چین کا دورہ کیا اور پاکستان کی طرف سے یکجہتی اور حمایت کا اظہارکیا۔چینی قیادت نے کہاکہ کرونا وائرس پر قابو پانے، اس سے بچاؤ اور تحفظ میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور کرونا کے خلاف عوام کی جنگ جیت کر رہیں گے۔ پاکستان اور چین دونوں نے زوردیا کہ اس وقت کرونا کے چیلنج کا پوری انسانیت اور تمام ممالک کو سامنا ہے، اس کے مقابلے کے لئے تمام ممالک کو مل کر اور تعاون کے ذریعے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے رہنماوں نے اس موقع پر باہمی دلچسپی کے دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔دونوں اطراف نے ایک دوسرے کے قومی مفادات سے متعلق امور پر ایک دوسرے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ چین کی طرف سے پاکستان کی ان کاوشوں، قربانیوں اوراقدامات کا اعتراف کیاگیا جو پاکستان نے دہشت گردی کے قلع قمع اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خاتمے کیلئے کئے اور پاکستان کی طرف سے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کے اقدامات کو سراہا گیا،دونوں اطراف نے جموں وکشمیر کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔پاکستان اور چین دونوں نے افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ پر دستخطوں کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس معاہدے کے بعد، بین الافغان مذاکرات کا آغاز منطقی اقدام ہو گا۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ افغانستان میں امن، استحکام، اتحاد، خودمختاری، جمہوریت اور خوشحالی کیلئے ہم معاونت جاری رکھیں گے تاکہ افغانستان نہ صرف داخلی طورپر پرامن ہو بلکہ ہمسایوں کے ساتھ بھی پرامن ہو۔ دورے کے دوران صدر ڈاکٹر عارف علوی اور صدر شی چن پنگ نے دونوں ممالک کے درمیان متعدد معاہدات اور ایم او یوز پر دستخطوں کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ صدرڈاکٹر عارف علوی نے پرتپاک مہمان نوازی پرچین کی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور چین کی قیادت کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔ دونوں طرف سے اعلی سطحی دوروں اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیاگیا۔ بعدازاں صدر ڈاکٹر عارف علوی نے چینی وزیراعظم لی کی چیانگ اور نیشنل پیپلز کانگریس کے چیئرمین لی ژان شو سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی۔اس دوران گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہم اعتماد پر مبنی ہیں۔ چیئرمین نیشنل پیپلز کانگریس کا کہنا تھا کہ چین کورونا کی وبا سے نمٹنے کے فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت کا چین کے ساتھ تعاون قابل ستائش ہے۔علاوہ ازیں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کے ہمراہ بیجنگ میں پاکستانی طلبہ کے ساتھ ملاقات کی۔پاکستانی طلباء نے کہا کہ ہم چینی حکومت کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے بہترین انداز میں ہمارا خیال رکھا اور ہم حکومت پاکستان بالخصوص وزیر اعظم عمران خان کے بھی بے حد شکر گزار ہیں کہ انہوں نے فرمان نبوی ؐپر عمل کرتے ہوئے ہمیں وباء سے متاثرہ علاقے سے نہیں نکال۔اس مو قع پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے سی پیک کے ساتھ ہماری معاشی ترقی جڑی ہوئی ہے۔ہم پاک چین دوستی کو خطے میں خوشحالی کے پیغام کے طور پر سامنے لانا چاہتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ سی پیک کے منصوبے سے پورے خطے کا فائدہ ہو گا جبکہ دونوں ممالک کی قیادت ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پر عزم ہے، انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ہم کرونا وائرس کے چیلنج سے باہر آتے جائیں گے ویسے ویسے سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل ہوتی چلی جائے گی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ 2021 میں ہم پاک چین دوستی کے ستر سالہ جشن کو پورے جوش و خروش سے منانے کا عزم رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر عارف علوی

مزید : صفحہ اول