نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ، عالمی مالیاتی ادارے پاکستان سمیت غریب ممالک کے قرضے معاف کر دیں: عمران خان

  نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ، عالمی مالیاتی ادارے ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے باعث خراب صورتحال کے پیشِ نظر عالمی مالیاتی اداروں سے پاکستان سمیت غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قرضے معاف ہونے سے کورونا وائرس سے نمٹنے میں مدد ملے گی لہذا عالمی برادری غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے پرغور کرے، طالبان کے حوالے سے افغان صدر کا بیان مایوس کن تھا، افغان امن عمل کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی جانی چاہیے، پاکستان اب امن کے لیے امریکا کا پارٹنر ہے بھارت ایک شدت پسند سوچ والی جماعت کے قبضے میں آچکا ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ کو مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے پیدا خطرے سے آگاہ کیامنگل کو امریکی خبر ایجنسی کو دئیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس زیادہ پھیلا تو اس سے نمٹنے کی صلاحیت اور وسائل نہیں ہیں۔ کرونا اگر پاکستان میں پھیلا تو معیشت بحال کرنے کی ہماری کوشش کو سنگین نقصان پہنچے گا، ہمارے پاس طبی سہولتیں اتنے بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں، آئی ایم ایف کا قرضہ پاکستان کے لیے معاشی بوجھ بن جائے گا عمران خان کا کہنا تھا کہ میری پریشانی غربت اور بھوک ہے، دنیا کو ہم جیسے ممالک کے قرضے معاف کرنے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس دنیا کے ترقی پزیر ممالک کی معیشتوں کو تباہ کرسکتا ہے، ترقی یافتہ ممالک غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے کے لیے تیار رہیں، وائرس سے پیدا بحران سے ترقی پذیر ممالک میں بھوک اور غربت پھیلنے کا ڈر ہے، عالمی برادری کو پاکستان جیسے ممالک کے لیے قرضوں کی معافی کی کوئی صورت نکالنے کا سوچنا ہوگا۔وزیراعظم عمران خان نے ایران پر سے بھی پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں اٹھانے سے ایران کو کورونا وائرس سے نمٹنے میں مدد ملے گی لہذا مشرق وسطی میں کورونا سے بدترین متاثر ایران پر سے پابندیاں ہٹائی جائیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ممالک کو کورونا وائرس سے بدترین معاشی بدحالی کا خدشہ ہے، ترقی یافتہ معیشتوں کا اقدام کمزور معیشتوں کو کورونا وائرس کے بحران سے لڑنے میں مدد دے گا،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو بچانیکی کوشش کررہے ہیں، اگرکورونا کی صورتحال سنگین ہوئی توکمزور معیشت کو بچانے میں ناکام ہوجائیں گے، پاکستان کی برآمدات متاثر ہوں گی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوگا، آئی ایم کا قرضہ پاکستان کے لیے ناممکن معاشی بوجھ بن جائے گا۔ کورونا وائرس سے پاکستان، بھارت اور افریقی ممالک کو یکساں بحران کا سامنا ہوگا، پاکستان کے پاس کسی بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے علاج کی سہولیات ہیں نہ وسائل۔ افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ طالبان کے حوالے سے افغان صدر کا بیان مایوس کن تھا، ہم نے حکومت سنبھالنے کے بعد امریکا کے ساتھ افغان امن معاہدے پر کام کیا، افغان امن عمل کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی جانی چاہیے، پاکستان اب امن کے لیے امریکا کا پارٹنر ہے، امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے میں اپنا کردار ادا کیا، امریکا اور پاکستان اب امن کے ساتھی ہیں۔پاکستان کو کرائے کی بندوق کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کیپڑوسی ملک بھارت کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کے لیے ڈرانا خواب سچ ثابت ہوگیا، ایک ارب سے زیادہ آبادی اور ایٹمی پاور کا حامل ملک ایک شدت پسند سوچ والی جماعت کے قبضے میں آچکا ہے میں نے اقوام متحدہ کو مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے پیدا خطرے سے آگاہ کیا۔زیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس سے متعلق کو آرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا اجلاس میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں ہونے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور مختلف تجاویز پر غور بھی کیا گیا اس موقع پر وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے بلوچستان میں کوروناکی صورتحال اور حکومتی اقدامات سے متعلق بریفنگ دی وزیراعلی بلوچستان نے ایران سے واپس آنے والے زائرین کے لیے تفتان اورکوئٹہ میں قائم کیے گئے قرنطینہ مراکز میں فراہم کردہ سہولیات پر بریفنگ دی اور صوبے میں صحت کے نظام اورکوروناکے تدارک سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیااس موقع پر وزیراعلی بلوچستان کی تجویز پر تفتان میں موجود دیگر صوبوں کے زائرین کو براہ راست صوبوں کوبھجوانے کافیصلہ کرلیا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آج سے تفتان سے زائرین کی براہ راست ان کے صوبوں کو واپسی شروع کردی جائے گی اور متعلقہ صوبے زائرین کو قرنطینہ میں رکھ کر ان کے ٹیسٹ کریں گے

عمران خان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی کابینہ نے نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس بذریعہ ویڈیو لنک ہوا جس میں کورونا وائرس کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی نماز جمعہ کے اجتماعات کے بارے میں تجاویز منظور کرتے ہوئے جمعہ کے اجتماعات پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعہ کی نماز مختصر اور گھر سے وضو کرکے آنے کی تجویز دی جائے گی، نمازیوں سے صفوں میں فاصلہ بڑھانے اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی تجویز دی جائے گی وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ سٹریٹجی پیپر کی منظوری دیدی،مجوزہ اقدامات سے مہنگائی پر کنٹرول کرنے کے ساتھ معاشی ترقی ہو گی،سٹریٹجی پیپر کے تحت حکومتی سماجی اور معاشی ترقی کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی جبکہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کورونا وائرس کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے قوم کو اعتماد میں لیں گے،گزشتہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ معاشی مشکلات درپیش آئیں،توانائی کے شعبوں میں بہتری ہے، پھر بھی وارفوٹیج پر کام کرنے کی ضرورت ہے،وزیراعظم نے ہدایت کی ہے توانائی کے شعبے کو ری سٹریکچر کیا جائے،کورونا سے متعلق حفاظتی اقدامات سے آگاہی کیلئے علماء کا کردار اہم ہے،کورونا عالمی چیلنج ہے، اپوزیشن سیاست سے گریز کرے،لندن میں تفریح کرنے والے واپس آ کر عوام کی خدمت کریں،بجٹ میں سرکاری ملازمین کے زخموں پر مرہم رکھیں گے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کورونا وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور وزیراعظم کوروناوائرس سے متعلق قوم کواعتماد میں لیں گے۔انہوں نے کہاکہ کابینہ کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا اور وزیراعظم نے کابینہ کو اپنے خطاب سے متعلق آگاہ کیا۔فردوس اعوان نے کہاکہ اجلاس میں عوام کی فلاح وبہبود، قومی امور اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلے کیے گئے۔انہوں نے کہاکہ کابینہ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ اسٹریٹجی پیپر دستاویز کی صورت میں پیش ہوا جس کی منظوری دی گئی، حکومت کے سماجی ومعاشی ترقی کے اہداف کے حصول میں مددملے گی جبکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار 8ماہ میں اہداف پورے کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ اس پیپر کے تحت جو ترجیحات طے کی گئیں اس میں معاشی استحکام، مہنگائی پر کنٹرول، آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاملات کے تحت اہداف کا حصول، ترقیاتی پروگرام، قرضوں میں کمی، سرمایے میں اضافہ، اخراجات میں کنٹرول، معاشرے کے کمزور طبقوں کا تحفظ یقینی بنانا، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانا، وزیراعظم کے وڑن کے مطابق عوام کے فلاح و بہبودکے جتنے بھی منصوبے ہیں ان کو اداروں کی اصلاحات سے جوڑتے ہوئے عوام کی مشکلات کا تدارک اور ان کی زندگی میں بہتری لانے کے لے لائحہ عمل پر چلنا اور اس کو آگے بڑھانا شامل ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ بجٹ اسٹریٹجی پیپر پر بریفنگ دیتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں 8 ماہ کے اندر مشکل ترین حالات کے باوجود جو تاریخی اہداف ہم نے طے کیے تھے اس میں پیشرفت ہوئی جس کی پاکستان کے مالیاتی نظام میں نظیر نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ اسٹریٹجی پیپر میں شرح نمو، مہنگائی، ریونیو، بجٹ خسارے اور ملک کے قرضوں اور جی ڈی پی کے حوالے سے موجودہ سال کی صورت حال اور آئندہ مالی سال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ملکی معیشت پر کورونا وائرس کے اثرات کے حوالے سے بھی بات ہوئی اور کابینہ کو توانائی کے شعبے میں کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی۔پیر نور الحق قادری نے کہاکہ تیرہ مارچ کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مجھے اور چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے نمائندگی کی،کمیٹی نے پوری قوم خصوصا علمائے کرام کے کردار کو کرونا وائرس کے حوالے سے بہت اہم قرار دیا گیا،علمائے کرام نے وزیر اعظم کو کچھ تجاویز دی ہیں جو صوبوں کو منتقل کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مدارس کے منتظمین کا شکریہ انہوں نے مدارس میں چھٹیاں کردیں،بڑے بڑے عرس موخر کردیئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی تکلیف پہنچے تو جان لو رب کے سوا کوئی مدد نہیں کرسکتا، ایوان صدر میں اجتماعی دعا کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ وباؤں میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم ہے،طاعون جس علاقے میں پھیلے وہاں سے لوگ نہ نکلیں اور دوسرے علاقوں کے لوگ ادھر کا رخ نہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ بوڑھے اور بچے با جماعت نمازوں سے گریز کریں،وضو گھر سے کرکے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ فرض نماز کے بعد بقیہ نماز گھروں میں پڑھی جائے،صرف عربی خطبہ پڑھا جائے۔ انہوں نے کہاکہ نماز میں چھوٹی سورتیں پڑھی جائیں،اگر کہیں وبا پھیل جانے کا خدشہ ہے تو تین افراد کی جماعت بھی ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شادی بیاہ کی تقریبات یا موخر یا کم افراد تک رکھا جائے،ہاتھ کا ملانا تندرست حالات میں اچھی بات ورنہ زبان سے اسلام و علیکم ہی کافی ہے۔۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ کابینہ ممبر نے بجٹ سٹریٹجی پیپر کو معیشت کے لئے لازم و ملزوم قرار دیا، اس پیپر میں آئی ایم ایف کے ساتھ اہداف کا حصوصل شامل ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق نے کہاکہ قرضوں میں کمی، اخراجات کو کنٹرول کرنا، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے مؤثر اقدامات بھی شامل ہیں، مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور نچلے طبقے کو اوپر اٹھانا بھی شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ فوڈ سکیورٹی، ہیلتھ، ایجوکیشن اور ٹورزم منصوبوں پر خرچ رقم کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ منصوبوں کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائیگا۔

وفاقی کابینہ

مزید :

صفحہ اول -