وہ کمپنی جس نے اپنے ملازمین کیلئے ڈیڑھ لاکھ روپے کورونا بونس کااعلان کردیا

وہ کمپنی جس نے اپنے ملازمین کیلئے ڈیڑھ لاکھ روپے کورونا بونس کااعلان کردیا
وہ کمپنی جس نے اپنے ملازمین کیلئے ڈیڑھ لاکھ روپے کورونا بونس کااعلان کردیا

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)کورونا وائرس نے پوری دنیا کے معاملات زندگی ہلا کررکھ دیئے۔کاروبار، صنعتیں، سیاحت، ذرائع نقل وحمل، زمینی و فضائی سفر غرض ہر شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے، دنیا کے کئی ممالک لاک ڈاون کرچکے ہیں تو دیگر تیاریوں میں مصروف ہیں۔ تاہم اس دوران کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنے ملازمین کے جسمانی تحفظ کے ساتھ ان کے مالی مفادات کا بھی خیال رکھاہے۔

دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک نے اپنے ملازمین کوایک ہزار ڈالر یعنی ایک لاکھ ساٹھ ہزارپاکستانی روپے کے قریب کورونابونس دینے کااعلان کیا ہے۔فیس بک کی جانب سے اپنے ملازمین کیلئے یہ دوسرااہم اقدام ہے، اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ نے اپنے دفاتر بند کرنے کااعلان کرتے ہوئے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی تھی اور کم آمدنی والی ویب سائٹس کی معاونت کا بھی اعلان کیاتھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے کمپنی ملازمین کو خوشخبری سناتے ہوئے تمام مستقل اور کل وقتی ملازمین کیلئے ایک ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار روپے بونس کا اعلان کیا۔مذکورہ بونس کورونا وائرس کی وجہ سے گھروں میں بیٹھ کر کام کرنے والے ملازمین سمیت دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کوبھی دیا جائے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیس بک کے دنیا بھر میں کل وقتی مستقل ملازمین کی تعداد 45 ہزار ہے جب کہ فیس بک کے ساتھ گھنٹوں کے حساب سے بھی ہزاروں ملازمین کام کرتے ہیں۔فیس بک نے ملازمین کو کورونا وائرس بونس دینے کے اعلان سے قبل ہی اعلان کیا تھا کہ ویب سائٹ دنیا بھر کی30 ہزار چھوٹی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سوشل ویب سائٹس میں 10کروڑڈالرکی امدادی رقم تقسیم کا اعلان کیا تھا۔فیس بک کے مطابق مذکورہ رقم دنیا بھر کی ان تمام ویب سائٹس اور ٹیکنالوجی کمپنیز میں تقسیم کی جائے گی جن کا تعلق ان ممالک سے ہوگا جہاں فیس بک کام کرتا ہے۔

ملازمین کو کورونا وائرس کا بونس دینے کا اعلان کرنے والی فیس بک اب تک کی پہلی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ہے، تاہم اب خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹوئٹر اور گوگل سمیت دیگر کمپنیاں بھی اپنے ملازمین کو بونس دینے کا اعلان کریں گی۔

مزید :

بزنس -سائنس اور ٹیکنالوجی -