قائد کا اسلامی پاکستان کہاں ہے؟

قائد کا اسلامی پاکستان کہاں ہے؟
قائد کا اسلامی پاکستان کہاں ہے؟

  

میں پاکستان کو ڈھونڈتا ہوں کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب حکیم الامت حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے دیکھا تھا۔ جس کا وجود قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ہاتھوں اللہ پاک نے ودیعت فرمایا۔ مسلمانوں کے درجنوں ممالک اس وقت خطہئ ارضی پر موجود تھے۔ پاکستان واحد اور پہلا ملک تھا جو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا۔ پوری دنیا کے لئے یہ انوکھا اور انہونا تھا کہ ہندوستانی قوم جو صدیوں سے  وجود رکھتی تھی اب انگریزی حکومت سے ہندوستانی قوم کی حیثیت سے نہیں بلکہ مسلمان قوم کی حیثیت سے اپنا وجود تسلیم کرانے پر مُصِر تھی یہ بابائے قوم حضرت قائد اعظمؒ کا اپنے رب پر غیر متزلزل یقین اور رسول اکرمؐ سے عشق کا اعجاز تھا کہ مسلمانوں نے اپنے قائد کی ولولہ انگیز قیادت پر یقین و اعتماد کی بنیاد پر جان و مال، عزت و آبرو کو ہر قسم کے خطرات میں ڈال کر ان کا ساتھ دیا۔ باپ دادا کے بسائے ہوئے گھر بار اور ان قبروں کو چھوڑ کر ہجرت اختیار کی اور لٹتے کٹتے مرتے اپنے پیاروں کے بے کفن لاشے چھوڑتے ہوئے پاکستان آ گئے، مگر افسوس ہم کلمہ کی بنیاد پر بننے والے ملک کی تعمیر اس بنیاد پر کرنے سے قاصر رہے۔  جنہوں نے ملک اور نظریہ پاکستان کے لئے قربانیاں دیں، انہیں بھلا دیا گیا۔ صدا روپوش رہتے ہیں وہ پتھر، عمارت جن کے کاندھوں پر کھڑی ہے۔ بابائے قوم کی زندگی میں بھی کھوٹے سکوں کی بدعنوانیوں مفادات اور جنگِ زرگری نے یہ کیفیت کر دی۔ بقول علامہ اقبالؒ

 شیطان کی دنیا میں ضرورت نہیں یا ربِ

 بربادی انسان کو انسان بہت ہیں 

بابائے قوم ساری حسرتیں، خواہشیں اور تمنائیں دل میں لے کر اپنے رب کے حضور پہنچ گئے۔ ان شاء اللہ وہ اپنے مالک کے ہاں اپنی نیت اور عزم کے مطابق اجر پائیں گے مگر ان کی روح یقینا کہتی ہو گی۔

ہمارے بعد اندھیرا رہے گا محفل میں 

بہت چراغ جلاؤ گے روشنی کے لئے

قائد اعظم کی زندگی میں تو مولانا سید ابوالا اعلیٰ مودودی نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اسلام کے مختلف موضوعات پر پانچ تقاریر کی تھیں۔ افسوس قائد اعظمؒ کے 11 ستمبر 1948ء کو آنکھیں بند کرنے کے چند دن بعد 4 اکتوبر 1948ء کو مولانا مودودیؒ اور  ان کے رفقاء کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ اسلامی دستور کا مطالبہ نہ رکا نہ تھما مولانا مودودیؒ نے صرف کفر اور شرک کی زہر ناکیوں کو بے اثر کرنے کے لئے وسیع لٹریچر ہی تصنیف نہیں کیا ان کے دانشوروں پروفیسروں اور حکمرانوں کے اسلام پر اعتراضات کا جواب بڑے جراتمندانہ اور بیباکانہ انداز سے دیا۔ دنیائے کفر مولانا مودودیؒ کو اسلام کا نمائندہ اور ترجمان سمجھ کر ان سے الجھتی رہی۔ بہت سوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا۔ پاکستان کے ہر دور کے حکمرانوں کو اسلام سے فرار اختیار کرنے پر مولانا مودودیؒ اور ان کی منظم تحریک نے آڑے ہاتھوں لیا۔ بالآخر 1956ء کا اسلامی دستور بنا۔ پہلے قراردادِ مقاصد منظورہو چکی تھی مرکز اور صوبوں کی کشمکش جاری رہی۔ سول اور فوجی بیورو کریسی مسلط رہی۔ اس کے بطن سے بد ترین نام نہاد عوامی دور کا آغاز اس شکل میں ہوا کہ بابائے قوم کا پاکستان دو لخت کر دیا گیا۔ مشرقی پاکستان ہی  بنگلہ دیش نہ بنا۔ افواج پاکستان کو ذلت آمیز شکست اور ہتھیار ڈالنے کے حادثہ سے دو چار کیا گیا اور اس  کی فلمیں بنا کر سنیما گھروں میں دکھلائی جاتی رہیں۔ بالآخر یہ دورِ استبداد بھی گزر گیا۔ جس میں بنیادی حقوق معطل اور ایمرجنسی نافذ رہی۔ خدا خدا کر کے قوم کو چھٹکارا ملا۔ جنرل محمد ضیاء الحق شہیدؒ سے لوگوں کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ مگر فطرت کی مشیت بھی بڑی چیز ہے لیکن فطرت کبھی بزدل کا سہارا نہیں بنتی۔پیپلز پارٹی زرداری پارٹی اور شریف خاندانی حکومت کے سارے دور ایسے گزرے محسوس ہوتا ہے۔

وہی لوگ ہیں ازل سے جو  فریب دے رہے ہیں 

کبھی پہن کر لبادہ کبھی اوڑھ کر نقابیں 

ان دنوں باری باری حکمرانی کرنے والی پارٹیوں سے اکتا کر عوام ایک نئے چہرے عمران خان کو آزمانے کے سفر پر چل نکلے۔ کھلاڑی نے امور مملکت کو کرکٹ کا کھیل سمجھا کہ مملکت کی مشینری خودبخود چل رہی ہے۔ فورمین بدل جائے گا بس قوم نہال ہو جائے گی۔ پہلی حکومتیں بیورو کریسی کے ہم صلاح ہو کر حصہ رسدی کی بنیاد پر کام چلاتی تھیں۔ منصوبے بنتے قرضے لئے جاتے۔ کچھ لگائے جاتے، کچھ بانٹے جاتے، قوم قرضوں میں پھنسی رہی۔ رسول اکرمؐ اس شخص کا جنازہ پڑھانے سے انکار فرما دیتے جس کے ذمہ قرض ہوتا۔ یہاں تو بچہ بچہ مقروض ہے۔ غریب سینکڑوں میں تھا اور اب ہر فرد ڈیڑھ لاکھ کا مقروض اور امیر زادہ و اشرافیہ ہر فرد ڈیڑھ ارب  روپے کا مالک پلاٹوں، فیکٹریوں اور محلات کا مالک ہے۔ موجودہ حکومت ریاست مدینہ کی طرز پر حکومت بنانے کی دعویدار ہے۔  عمران خان نے مختلف حکومتوں اور مختلف ادوار کے راندے ہوئے وزیر مشیر بھرتی کر رکھے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن اتحاد میں تلخیاں بلکہ نفرت اور دشمنی روز افزوں ہے۔ سیاسی پارٹیوں کا نہ کوئی دستور ہے  نہ منشور ہے۔ نہ نظم ہے نہ جمہوریت ہے جس کا جی چاہے جب جی چاہے جس پارٹی میں شامل ہونا چاہے۔ خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ لیڈروں سے لے کر عام کارکن تک کا یہی حال ہے۔ کہاں کا نظریہ پاکستان کہاں اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کا تصور۔ روز افزوں لڑائی میں یہ نہ ہو کہ ”لڑتے لڑتے ہو گئی گم ایک کی چونچ اور ایک کی دم“ ملک کے اندر فساد ہے اردگرد دشمنوں کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔

بجلیاں زیر افلاک ہیں ہر طرف برق و طوفاں کی ہیں یورشیں 

 کچھ تو فکر نشیمن کرو دوستو تم میں کوئی تو اہل نظر چاہئے

عمران خان وزیراعظم فرماتے ہیں۔

سانس لینے کے لئے سب کو میسر ہے ہوا

 اس سے بڑھ کر تو رعایت نہیں دی جا سکتی

 توبہ و استغفار کے سوا کوئی راستہ نہیں، اللہ اور اللہ کے حبیب کی مان لیں راہ نجات کا یہی راستہ ہے، وقت بہت نازک ہے حکومت کو ادراک ہونا چاہئے۔ عمران خان اپنا رویہ بدلیں۔ توبہ کریں 

سمندر اور طوفانی ہوا ٹوٹی ہوئی کشتی 

یہی اسباب کیا کم تھے کہ اس پر ناخدا تم ہو

 اللہ ہم سب کو توجہ اور عمل صالح کی توفیق دے۔ آمین

مزید :

رائے -کالم -