رسم و رواج 

 رسم و رواج 
 رسم و رواج 

  

ہوا کچھ یوں تھا کہ کسی نے ایک پنجرے میں پانچ بندر  قید کر دیئے اسی پنجرے میں ایک سیڑھی رکھی اور اس پر کیلے لٹکا دیے پھر یوں ہوتا کہ جیسے ہی ایک بندر کیلے  حاصل کرنے کے لئے سیڑھی پر چڑھتا تو باقی چاروں بندروں پر ٹھنڈا پانی پھینک دیتے  

جب دو چار دفعہ اسی مشق کو دہرایا گیا تو بندروں نے اپنا کام شروع کر دیا جیسے ہی ایک بندر سیڑھی پر  چڑھنے لگتا تو دوسرے اسے ٹانگ کھینچ کر نیچے گراتے اور مارنا شروع کر دیتے  کیوں کہ نیچے والے بندروں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ جیسے ہی ایک سیڑھی  پر چڑھے گا۔ باقی ٹھنڈے پانی میں بھیگ جائیں گے ایک ہفتہ یہی عمل چلتا رہا پھر انہوں نے پنجرے سے دو  بندر  نکالے اور اس کی جگہ نئے دو بندر پنجرے میں ڈال دیئے پھر ایک ہفتہ یہی عمل چلتا رہا اگلے ہفتے انھوں نے پھر سے دوسرے دو بندر آزاد کر دیے اور ان کی جگہ نئے دو بندر پنجرے میں ڈال دیئے اب پنجرے میں ایک پرانا اور چار نئے بندر بند تھے پھر وہی مشق دہرائی گئی تیسرے ہفتے پانچواں بندر بھی آزاد کر دیا گیا اور اس کی جگہ ایک اور ڈال دیا گیا اب بھی پنجرے کے حالات وہی رہے   ٹانگ کھینچنے والی رسم جاری رہی۔اگر اللہ کریم ان بندروں کو زبان دے دے اور ان سے پوچھا جائے کہ تم سیڑھی پر چڑھنے والے بندروں کو مارتے اور ٹانگ  کیوں کھینچتے ہو تو وہ یقینا یہی کہیں گے کہ ہمیں نہیں معلوم ہم نے تو اپنے باپ دادا کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔

معزز قارئین کرام یہاں پر غور طلب  بات یہ ہے کہ ہم میں اور  بندروں میں کیا فرق ہے ہم بھی تو رسم و رواج کو دیکھا دیکھی آگے بڑھا رہے ہیں ہمارے اجداد جو کہ ہندوؤں کے ساتھ رہتے تھے اس لئے ان کے زیادہ تر رسم و رواج ہندو والے تھے اور ہم بھی ان پر جوں کا توں کاربند ہیں بلکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں مجھے ایک شادی میں جانے کا اتفاق ہوا یقین کریں اس شادی میں مجھے بار بار احساس ہو رہا تھا کہ کہیں میں کسی ہندو فیملی کی شادی میں شریک تو نہیں ہوں بالکل ہندوؤں کی طرح رنگولی بنائی گئی، سنگیت،مہندی پر جوان لڑکیاں سب کے سامنے رقص کر رہی تھیں  نکاح کے بعد کبوتر آزاد کیے گئے غرض یہ کہ کوئی ایسا عمل نظر نہیں آرہا تھا کہ اس فیملی کے مسلمان ہونے کا گمان ہو رہا ہو اس فیملی میں عورتوں کی حکومت صاف نظر آرہی تھی جس طرح کے لباس انہوں نے زیب تن کیے ہوئے تھے انتہائی افسوسناک تھے میرے خیال میں اس سارے پروگرام میں بھگوان کی پوجا اور سات پھیر وں  کی کمی رہ گئی تھی ورنہ کوئی عمل بھی ایسا نہیں جو ان کا تعارف بحثیت مسلمان کروا سکتا یہاں پر قابل غور بات یہ ہے کہ اس فیملی کے مرد حضرات انتہائی بے بس نظر آرہے تھے اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو وہ دن دور نہیں کہ نکاح کی جگہ یہ خواتین پھیرے لے آئیں گی بلاشبہ یہ ایک انتہائی قابل افسوس واقعہ تھا۔

معزز قارئین کرام چو نکہ ہم ہندوؤں کے ساتھ رہتے تھے آباؤاجداد سادہ تھے انہوں نے ہندوؤں کو جو کرتے دیکھا اسے رسم و رواج بنا لیا حالانکہ ہمیں تو خوشحال اور پرسکون زندگی گزارنے کا فارمولا اللہ کریم نے لکھ کر دے دیا ہے اور اس کا عملی نمونہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں دکھایا اور ہم ان رسم و رواج کو اپنا کر اپنے رب  سے بغاوت کیے ہوئے ہیں زندگی

بے شک آپ کی اپنی ہے آپ جو راستہ مناسب سمجھیں اپنا لیں لیکن ایک بات کا خیال ضرور رکھیں کہ کہیں یہ راستہ آپ کی دین، دنیا اور آخرت برباد نہ کر رہا ہو ہم مٹی کے وہ مادھو ہیں جو اپنے بڑوں کے راستوں پر آنکھیں بند کر کے چلتے جا رہے ہیں خدارا خیال کیجئے کہیں یہ اندھی تقلید آپ کی بخشش کو  خطرے میں نہ  ڈال دے برائے کرم قرآن و سنت  سے رہنمائی  لے لیں۔

قرآن پاک آپ کی مکمل رہنمائی کرے گا جو آپ کر رہے ہیں آپ کے بچے بھی یہی کریں گے اس لئے برائے کرم آپ خود  پہلا قدم اٹھائیں اور ان فرسودہ ہندوانہ رسم و رواج کو دفن کر دیں آپ کی آئندہ نسلیں بھی اس قید سے آزاد ہو جائیں گی  آج ہندوستان والے ہم پر قہقہے لگاتے  ہیں کہ  کہاں گیا وہ تمہارا دو قومی نظریہ،وہ تمہارا الگ اسلامی تشخص ہم تمہارے گھروں میں داخل ہوکر تمہاری نسلیں برباد کر رہے ہیں  کرلو جو ہمارا کر سکتے ہو۔

برائے کرم اس کی ابتدا کردیں  سب سے پہلے اپنے گھروں میں ہندوستانی ڈراما چینل بند کروائیں ہندو توا ا پنے میڈیا کے ذریعے آپ کے گھر اور آخرت برباد کر رہے ہیں اب یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ آپ اور آپ کی فیملی فضول رسم و رواج  سے نکل کر اسلامی تعلیمات کی طرف لوٹ آئیں۔اگر آپ یہ کر گئے تو یقین کر لیں آپ اپنے گھر کے اندر ایک نئی اسلامی سلطنت قائم کر جائیں گے اور آپ کی نسلیں برباد ہونے سے  بچ جائیں گی خدانخواستہ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اس کا انجام بہت برا ہوگا جو کہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -