تنظیم اساتذہ پاکستان تاریخ کے آئینے میں 

 تنظیم اساتذہ پاکستان تاریخ کے آئینے میں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 کسی بھی قوم کی تعمیر ترقی میں تعلیم وتربیت کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔جدید بلکہ تیز ترین ٹیکنالوجی کے دور میں وہی قومیں ترقی کررہی ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم و تربیت سے بہرہ مند ہیں،اگر تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچے جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار سے بھی مزین ہوجائیں تو وہ دنیا میں بے مثال انسان بن جاتے ہیں۔آج ہمارے معاشرے میں اعلیٰ تعلیم، جدید ٹیکنالوجی،  بڑی بڑی ڈگریاں اور گولڈ میڈل تو جاری کیے جارہے ہیں مگر اخلاقی تربیت کا شدید فقدان ہے۔نت نئے بحرانوں، بے چینی، اضطراب، پریشانی، نفسا نفسی، چھینا جھپٹی، مادیت، مفاد پرستی اور انسانیت کی بے قدری کی بڑی وجہ اخلاقی تربیت کی کمی ہے۔ان گھمبیر حالات میں حسب معمول تنظیم اساتذہ پاکستان اپنے نصب العین'' قرآن و سنت کی روشنی میں انسانی زندگی کی تعمیر کے ذریعے رضائے الٰہی کا حصول'' کے مطابق گلگت بلتستان اور جموں کشمیر سمیت  پاکستان بھر میں سرکاری ونجی پرائمری سے یونیورسٹی تک تعلیمی اداروں اور مدارس کے اساتذہ کے ذریعے نسل نو کی جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ نظریہ پاکستان کے مطابق اخلاقی تربیت کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔
  تنظیم اساتذہ پاکستان کے زیر اہتمام نویں قومی تعلیمی کانفرنس 18 اور 19 مارچ بروز ہفتہ اور اتوار رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد منعقد ہوگی۔تعلیمی کانفرنس کے مختلف سیشن سے مایہ ناز ماہرین تعلیم اور پالیسی ساز اداروں کے نمائندے خطاب کریں گے۔دوروزہ کانفرنس میں گلگت بلتستان اور جموں و کشمیر سمیت چاروں صوبوں سے مردوخواتین اساتذہ کی کثیر تعداد شریک ہوگی۔


تنظیم اساتذہ پاکستان 1969 کو  اس وقت قائم ہوئی جب الحادی قوتیں پاکستانی نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے تعلیم اداروں، نصاب تعلیم اور نظام تعلیم پر پوری شدومد سے حملہ آور تھیں۔تنظیم اساتذہ پاکستان نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کی اصلاح اور نظریہ پاکستان سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بنیادی کردار ادا کرتی ہے یکساں نصاب اور قومی زبان اردو کے نفاذ کے لیے ملک بھر میں سیمینار اور کانفرنسوں کے انعقاد کے ساتھ ساتھ پالیسی ساز اداروں کے نمائندے سے مزاکرات، ملاقاتوں اور خط کتابت کے ذریعے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

تنظیم اساتذہ پاکستان کا مرکزی سیکریٹریٹ تنظیم منزل کے نام سے چوبرجی لاہور میں واقع ہے۔چار منزلہ تنظیم منزل میں مرکزی دفاتر، شعبہ جات، وسیع وعریض لائبریری، آڈیٹوریم، مسجد، باورچی خانہ، اور مہمان خانہ موجود ہے۔

تنظیم اساتذہ پاکستان کی قیادت کے سفر میں 1969ء تا 1973ء ڈاکٹر محمد اسلم قریشی، 1974ء پروفیسر محمد سلیم، 1975ء حافظ وحید اللّٰہ خان، 1976ء پروفیسر گوہر صدیقی، 1977ء تا 1995ء حافظ وحید اللّٰہ خان 1996ء تا 2000ء ڈاکٹر سعید اللّٰہ قاضی، 2001ء تا 2004ء سید جہان بادشاہ، 2005ء تا 2010ء پروفیسر عطا محمد جعفری، 2011ء تا 2020ء پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم، 2020ء تا2021ء صاحبزادہ محمد صادق جان اور 2022ء تا حال پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین لنگڑیال مرکزی صدر کے عہدیدار رہے ہیں۔ پنجاب میں پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الرحمان ضیاء، سندھ پروفیسر ڈاکٹر ابو عامر اعظمی، خیبر پختون خواہ پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر اور بلوچستان پروفیسر عبدالرحمان موسیٰ خیل صوبائی صدور ہیں جب کہ گلگت بلتستان میں اور آزاد جموں کشمیر میں صدور ہیں ہر سطح کے انتخابات تنظیم اساتذہ پاکستان کے دستور کے مطابق ہر دو سال بعد کثرت رائے کے نتیجے میں منعقد ہوتے ہیں۔چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان اور جموں کشمیر میں تنظیم اساتذہ کے تنظیمی دفاتر موجود ہیں۔


تنظیم اساتذہ پاکستان شعبہ خواتین محترمہ ساجدہ ظفر کی صدارت میں الگ سے ملک بھر کے خواتین  تعلیمی اداروں میں کی زنانہ اساتذہ میں کام کررہا ہے۔چاروں صوبوں میں خواتین کا نظم اور دفاتر بھی قائم ہیں۔
تنظیم اساتذہ پاکستان کے اغراض و مقاصد میں نظام تعلیم کو اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش، قرآن وسنت کی روشنی میں اساتذہ کی تعمیر سیرت کا اہتمام، اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے نظریہ پاکستان کی اشاعت، اساتذہ کی فلاح بہبود کے لیے سعی، تعلیمی حلقوں میں لادینی تحریکوں کے پیدا کردہ اثرات کا ازالہ کرنے کی کوشش، اسلامی خطوط پر تعمیر سیرت کے لیے درس گاہوں میں مناسب ماحول پیدا کرنا، طلبہ کی تعلیمی و فکری راہنمائی، مستحق طلبہ کو تعلیمی سہولتیں بہم پہنچانا، دنیا کے دیگر ممالک کی اساتذہ تنظیموں سے پیشہ ورانہ ترقی کے لیے تعاون اور روابط قائم کرنا۔


تنظیم اساتذہ پاکستان کی ہر سطح پر مرکز سے تحصیل اور یونٹ تک منصوبہ بندی ہوتی ہے اور عملدرآمد کے جائزہ اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ہر سال عشرہ تعلیم منایا جاتا ہے جس کے دوران عام اساتذہ کے سامنے تنظیم اساتذہ پاکستان کا تعارف، دعوت، نصب العین اور اغراض مقاصد پیش کیے جاتے ہیں۔ ہر زنانہ مردانہ مسلمان استاد تنظیم اساتذہ پاکستان میں شامل ہوسکتا ہے۔اساتذہ کے لیے تربیت گاہوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔تعلیمی کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں۔تعلیمی تحقیق، اعلیٰ تعلیم، بہبود طلبہ، بہبود اساتذہ سکول اور بہبود اساتذہ کالجز کے باقاعدہ شعبہ جات قائم ہیں۔تنظیم اساتذہ پاکستان ناگہانی آفات کے متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے بھی نمایاں کردار ادا کرتی آرہی ہے۔ملک میں حالیہ سیلاب میں مرکزی صدر تنظیم ڈاکٹر الطاف حسین لنگڑیال نے ملک بھر کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور اساتذہ کی طرف سے جمع شدہ امداد متاثرین میں تقسیم کی۔

مزید :

رائے -کالم -