پکڑن پکڑائی

  پکڑن پکڑائی
  پکڑن پکڑائی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اس قدر ہنگامہ برپا ہے کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ٹرائل کورٹ کا حکم تھا کہ گرفتا ر کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے آرڈر کیا کہ 13 مارچ تک گرفتار ی سے روکیں، پھر سیشن کورٹ کا حکم نامہ آیا کہ گرفتار کریں،بدھ کو لاہور ہائیکورٹ نے اگلے روز صبح 10 بجے تک گرفتار نہ کرنے کافرمان جاری کیا، جبکہ اگلے روز یعنی جمعرات کی صبح لاہور ہائیکورٹ نے آپریشن روکنے کے فیصلے میں ایک دن کی توسیع کر دی۔اس وقت یہ سطور جمعرات کی دوپہر کو لکھی جارہی ہیں لہٰذا ابھی تک پکڑن پکڑائی کی اس ”نورا کُشتی“کا ڈراپ سین نہیں ہوا۔

جس طرح آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آسکی کہ جولائی 2018ء میں عمران خان کو اقتدار کی مسند تک پہنچانے والے ان کے مخلص تھے یا پھر مارچ 2022 ء میں انہیں اقتدار سے باہر کرنے والے ان کے زیادہ خیر خواہ تھے؟ بظاہر ایسا محسوس رہا ہے کہ طاقتور حلقے ”سجی“ دکھا دکھا کر ”کھبی“ مار رہے ہیں کیونکہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان مہنگائی، بے روز گاری، انتشار اور بد حالی کی جس دلدل میں دھنس رہا ہے اس نے برسر اقتدار پارٹیوں کے چہروں پر کالک مل دی ہے جبکہ عمران خان کے پونے چار سالہ دور میں ہونے والی حقیقی تباہی کے مسخ شدہ چہرے کو ان کے خیر خواہوں نے ”حقیقی آزادی“ کی رنگین چادر سے ڈھانپ دیا ہے۔

آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے نتیجے میں بجلی، ڈالر اور پٹرول کی مہنگائی اور پھر آٹے، دال، چاول اور گھی جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ کا عوام کی پہنچ سے دور ہو جانا تشویشناک ہے، تاہم اس ”رولے“ نے عمران کے پونے چار سالہ دور میں ہونے والی تباہی کو پس پشت ڈال کر انہیں ایک مرتبہ پھر قوم کے مسیحا اور نجات دہندہ کے طور پر ابھار دیا ہے۔ انہی خیر خواہوں نے مارچ 2022 ء میں ڈوبتے ہوئے عمران خان کو پھر سے ”اُچھال“ دیا اورپونے چار سال کے اس بد ترین دور حکومت میں ہونے والی ساری تباہی کی کالک ان کے چہرے سے ہٹا کر موجودہ حکمرانوں پر مل دی ہے۔ذرا ایک لمحے کے لئے نظر دوڑائیں کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد انہوں نے کس طرح اپنا بیانیہ تشکیل دیا اور پھر لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورت حال میں وہ کسی طرح اپنے بیانات بھی بدلتے رہے۔ سب سے پہلے امریکی سازش کا ذکر ہوا، پھر نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن کو بیرونی سازش کے مہرے قرار دیا، بعد ازاں جنرل باجوہ کو اصل ”کلپرٹ“ قرار دے کر اُن کی ایسی تیسی پھیر دی۔علاوہ ازیں اگر جولائی 2018 ء کا مارچ 2022 ء سے تقابل کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس عرصے میں قوم پر مجموعی قرضے، زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر، پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ،اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت، تجارتی خسارہ، مہنگائی کی شرح اور ترقیاتی کاموں کی رفتار اور روپے کی قدر کس بُری طرح متاثر ہوئی۔کس طرح ججوں کے فیصلے متنازعہ ہوئے، طرزِ حکومت ڈکٹیٹر شپ کی ترجمانی لگا، بیرونی روابط منقطع ہوئے، کشمیر کا ایشو سرد خانے کی نظر ہوا۔

عمران خان کے پونے چار سالہ دور اقتدار میں بیروزگاری کی شرح میں اتنا اضافہ ہوا کہ 2018ء کے بعد ہر سال اڑھائی ملین افراد بیروزگاری کا شکار ہوئے۔ مذکورہ عرصے میں 10 کروڑ افراد خط غربت سے بھی نیچے جا گرے۔کیا یہ وہی عمران خان ہے جسے آج لوگ مسیحاسمجھ رہے ہیں؟ جی ہاں یہ وہی ہیں جنہیں لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دے رہے تھے،جو اپنی نا اہل ترین حکومت کے چوتھے برس میں ایک ناکام سیاست دان اورنا اہل حکمران کا ٹھپہ لگوا کر ماضی کا حصہ بننے ہی والے تھے کہ عین اس وقت ان کے ”خیر خواہ“ میدان میں آئے گئے، جنہوں نے رجیم چینج آپریشن کیا اور آج وہی عمران خان ایک مسیحا اور نجات دھندہ کے روپ میں دوبارہ ابھر چکے ہیں، انہی ”خیرخواہوں“ نے ان کی عدالت میں ایک معمولی سی ”پیشی“ کے کینچوے کو ایک اژدھے کی شکل دے دی ہے، زمان پارک میں بننے والے ماحول نے الیکشن سے قبل انہیں اچھے خاصے پاور شو کا موقع فراہم کر دیا ہے، آنسو گیس کے شیل سامنے رکھ کر دیئے جانے والے ان کے ویڈیوبیان میں ان کے چہرے پر موجود سرشاری نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے، عمران خان ایک کے بعد دوسرے ادارے اور فورس کو ”ٹکے ٹوکری“ کرتے چلے جا رہے ہیں، فوج کے خلاف منظم مہم کے بعد اب وہ پولیس اور رینجرز کا ”توا“ لگا رہے ہیں، زمان پارک میں جس انداز میں ان کے ”بندوں“ نے یونیفارم فورسز کو کو آگے لگایا اس سے عوام کا ”چاکا“ بھی کھل سکتا ہے۔زمان پارک کے باہر ہونے والے ”یدھ“ کے دوران لیک ہونے والی آڈیوز اور خبریں عمران خان کی انتشار پسندی کی عکاس ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد سابق وزیر داخلہ کو کہہ رہی ہیں کہ زمان پارک ”بندے“ بھیجیں ورنہ عمران خان ٹکٹ نہیں دیں گے جبکہ پولیس نے ٹھنڈی سڑک سے 10 ایسے ”بندے“ گرفتار بھی کئے ہیں جو ڈنڈے، سوٹے، کیل اور پٹرول بم لے کر زمان پارک آ رہے تھے۔ 

ہم بچپن سے ایک محاورہ  سنتے آ رہے ہیں کہ ”چوروں، ڈاکوؤں کے بھی کوئی اصول ہوتے ہیں“۔ تاہم عمرا ن خان کی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو اندازہ ہوگا کہ ان کی سیاست کے کوئی اصول تو دور کی بات،انہوں نے تواخلاقیات کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دی ہیں۔کبھی تبدیلی کے نام پر تو کبھی ریاست مدینہ کے نام پر، کبھی چور، ڈاکوؤں اور لٹیروں کے نام پر اور کبھی 50 لاکھ گھروں کے سہانے خواب دکھا کر، کبھی کرپشن کے خاتمے کے نام پر اور کبھی ہم کوئی غلام ہیں کے نعروں کے نام پر عمران خان نے اپنے فالورز کو بات سے مکر جانا، یوٹرن لینا، ہر معاملے میں دوہرے معیار، ہٹ دھرمی، بے حسی اور شدت پسندی جیسے تحفے دیئے ہیں۔ با شعور پاکستانی تو آج تک انہیں ہی قصور وار ٹھہراتے آئے ہیں،جنہوں نے2018ء میں ترقی کے سفر پر گامزن پاکستان کا سارا نظام لپیٹ کر عمران خان کو اقتدار کی کرسی تک پہنچایا تاہم اب لگتا ہے اقتدار کے چوتھے برس اپنی موت آپ مرنے کے قریب پہنچنے والے عمران خان کو اقتدار سے باہر کر کے انہیں ایک بار پھر مسیحاکا روپ دینے والے ”ان“ سے بھی بڑے ”فنکار“ ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -