بھائی چارہ اِ ن پاکستان!

بھائی چارہ اِ ن پاکستان!
بھائی چارہ اِ ن پاکستان!
کیپشن: jaam sajad hussian

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 بھائی چارے کالفظ خالصتاََ اسلام کے وجود سے منظرپرآیاہے ، یایوں کہیے کہ بھائی چارے کے واضح معنی دینِ اسلام میں ٹھیک ٹھیک سمجھائے گئے ہیں ،خاص طورپرجب آنحضورﷺمدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ کے ساتھ مکہ ِ مُکرمہ سے ہجرت کرنے والے ساتھی بھی تھے۔ ”خطباتِ بہاولپور“میں ڈاکٹرحمیداﷲکہتے ہیں کہ جو لوگ مدینہ آئے تھے اُن کی تعداد اگرچہ زیادہ نہیں تھی ۔شاید چند سو ّدمی ہوں گے، لیکن اُس زمانے میں وسائل بہت کم تھے۔ اُن چند سو آدمیوں کو ایک چھوٹی سی بستی میں مستقل گزربسرکے وسائل فراہم کردیناآسان نہیں تھا۔ تقریباََ اُتناہی مشکل کام تھا،جتناکسی بڑے ملک میں آج کل ایک ہزارکی جگہ ایک لاکھ یادس لاکھ افراد کاآنا۔ ایسی ہی دشواری اُس وقت پیداہوئی ہوگی، مگراس مشکل کو رسول اﷲﷺ نے اپنی سیاسی فراست سے ایک لمحے میں حل کرلیا۔ آپ ﷺنے شہرِمدینہ کے ان لوگوں کو بلایاجونسبتاََ خوشحال تھے اور ساتھ ہی مکی مہاجرین کے اُن نمائندوں کو بھی بلایاجو اپنے اپنے خاندان کے سربراہ تھے۔ جب دونوں جمع ہوگئے تو آپ ﷺنے مہاجرین کی سفارش کرتے ہوئے انصارسے خطاب فرمایاکہ یہ تمہارے بھائی ہیں، تمہارے ہی دین والے ہیں، اور اسی دین کی خاطراپنے وطن، اپنے ملک اور اپنی ہرچیزکوچھوڑکریہاں آئے ہیں ،اس لئے تمہارافریضہ ہے کہ ان کی مدد کرو۔
 آپ ﷺنے تجویز کیا کہ انصارمیں ہرخاندان مکہ والوں کے ایک خاندان کو اپنے خاندان میں شامل کرلے۔ بھائی چارے کامفہوم یہ نہیں کہ کوئی طفیلی کے طورپرمفت خوری کرنے والے مہمانوں کی طرح رہیں۔ آ پ ﷺنے فرمایاکہ اب بجائے چھوٹے خاندانوں کے بڑاخاندان ہوگا۔بجائے دو آمیوں کے چارآدمیوں کاخاندان ہوگااور دونوں خاندان کام کریں گے۔ جب کام زیادہ کیاجائے گاتو آمدنی زیادہ ہوگی۔ آمدنی زیادہ ہوگی تو دونوں کی گزربسرکاانتظام بآسانی ہوسکے گا۔کوئی شخص کسی خاندان پربارنہیں بنے گا،اس لئے سب نے یہ تجویزبخوشی قبول کرلی۔ مواخات کے اس اصول کایہ نتیجہ نکلاکہ کئی سو خاندان ایک لمحے میں گزربسرکے انتظامات حاصل کرنے کے قابل ہوگئے ،پھراس کے بعد کبھی یہ سوال ہی پیدانہیں ہواکہ کون خوش حال ہے ، کون بے روزگارہے، کون پناہ دہندہ ہے، اور کون باہرسے آیاہوامہاجرہے۔ حکیم الامت ڈاکٹرعلامہ اقبال نے بھی اخوت کو کچھ یوں بیان کیاہے :
اخوت اس کو کہتے ہیں ، چُبھے کانٹاجو کابل میں
تو ہندوستاں کاہرپیروجواں بے تاب ہوجائے
ایک اور جگہ بھی مسلمانوں کی ابترحالی کو خوبصورتی سے بیان اور تنبیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :
تو رازِ کُن فکاں ہے، اپنی آنکھوں پرعیاں ہوجا
خودی کارازداں ہوجا، خداکاترجماں ہوجا
ہوس نے کردیاہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اُخُوت کابیاں ہوجا، محبت کی زباں ہوجا
اب پاکستان کی طرف آئیں تو حالات مکمل طور پرہمارے کنٹرول میں ہیں، پاکستان ہرطرح کی قُدرتی دولت ، حُسن و رعنائی ، رنگ برنگے موسموں، برستے بادلوں، بہاروں ، پھولوں ، قدرتی و مصنوعی مناظرسے مالامال ہے۔ کہیں سونے کی کانیں ہیں تو کہیں کوئلے کے ذخائر۔ ایک طرف کوہ ہمالیہ کے دیوقامت پہاڑہیں تو دوسری جانب ٹھاٹھیں مارتاسمندر۔ ایک طرف تپتے صحراہیں تو دوسری طرف دھاڑتے ہوئے دریا۔ بس صرف ایک کمی ہے ۔وہ ہے بھائی چارے کی ، حُب الوطنی کی ، ایک ہونے اور ایک سمجھنے کی ۔ یہ ٹھیک ہے کہ اُمراءاور غُربامیں بہت بڑی دیوارحائل ہے، مگریہ دیوارقُدرتی نہیں ہے ، یہ جھوٹی اَنا، مطلب پرستی، ہوس اور نفسانی جذبات کی جھوٹی تسکین کی کمزوربنیادوں پرکھڑی کی گئی ہے، جسے ہم سب مل کرگِراسکتے ہیں۔ اگرمجھے خدائے بزرگ و برتر نے دولت سے مالامال کیاہے تو یہ میری ذمہ داری ہے کہ مَیں اپنے بھوکے ہمسائے کو شام کاکھانادوں تاکہ رات کو میرے بچے اگرٹی وی پرخوشی خوشی ڈرامہ دیکھ سکیں تو ہمسائے کے بچے بھی اپنی دادی ماں کی گود میں پُرانے زمانے کی کہانیاں سُن کر، ماں کی لوریاں سُن کرچین کی نیند سوکیں۔ یہ کام حکومت کانہیں، اس کے لئے حکومت کو دوش نہیں دیاجاسکتا، نہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حقوق العباد کو پورا کرنے کے لئے مجھ سے التماس کرے ۔ یہ ایک صدقہ جاریہ بھی ہے، ذمہ داری بھی ہے اور نیکی بھی ۔ یقین جانئے نیکی ایک ایساعمل ہے جو کرنے کے بعد ایسی تسکین دیتاہے جو لاکھوں روپے خرچ کرکے خوشیاں حاصل کرنے سے بھی نہیں ملتی۔ اگرمیرے کچھ روپے کسی غریب کے بچے کو سکول میں داخل کرسکتے ہیں اور اُس بچے کے چہرے پرمسکراہٹ لاسکتے ہیں تو سوچئے کہ اُس مُسکراہٹ سے قیمتی اور کیاہوسکتاہے؟ ہمیں چاہیے کہ بحیثیت ِ مسلمان ہم اپنے قُرب و جوارمیں اپنے ہمسائیوں کی زندگی پرنظردوڑائیں اور بھلائی کے چھوٹے چھوٹے گروہ بنائیں جو خوشیاں بانٹنے والے ہوں ، جس طرح پشاور میں کچھ امیرطلبہ نے مستحق طلبہ کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کابیڑہ اُٹھاکرایک نیک کام کاآغاز کیاہے، ہم بھی ویساہی کریں ، ایک دوسرے کی مدد کریں، ایک دوسرے کے ساتھی بنیں ۔ یہی بھائی چارہ ہے اور یہی آخرت کے لئے زادِراہ ہے!

مزید :

کالم -