.... جن کو سمجھا ہے بُرا تُو نے

.... جن کو سمجھا ہے بُرا تُو نے
.... جن کو سمجھا ہے بُرا تُو نے

  

 باہر کی دنیا دیکھ کر اپنے جو جو خیالات غلط ثابت ہوئے ان میں یہ تاثر بھی تھا کہ کسی ہندو کو اس کے منہ پہ ہندو کہیں تو وہ اس لفظ کو گالی سمجھ کے مائینڈ کرے گا ۔ یہ مراد نہیں کہ ہم نے ایسے سخت گیر گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں صبح و شام غیر مسلموں کے خلاف درس دئے جاتے اور وضو ، غسل یا اسی نوعیت کے کسی اور پروسیجر کی ویسی ہی چیکنگ ہوتی جیسے کوہاٹ میں فوجی افسر امیدواروں کی آئی ایس ایس بی کرتے ہیں ۔ دن کا آغاز تو اکثر صحن میں گونجنے والی تلاوت سے ہو ا جسے حجازی ، مصری یا کوفی لہجہ کی بجائے پنجاب کی لوک قرات کہنا چاہئیے ۔ دوسرے نمبر پہ تھیں سید عطا اللہ شاہ بخاری کی ’کشمیر چلو موومنٹ‘ کی نظمیں ’اٹھو اٹھو مومنو ، رخ کرو کشمیر دا ‘ ۔ یہ تو تھی ڈوگرہ راج کی سیاسی مخالفت ، پر شدید احساس تھا کہ اگر ہندو کو ہندو کہہ دیا تو ہو سکتا ہے آگے سے چانٹا مار دے ۔

 بھیتر کی بات یہ ہے کہ آپ میرے اس احساس کو براہ راست نفرت پہ مبنی نہیں کہہ سکتے ، نہ اس بد گمانی کا مذہبی اختلاف سے کچھ خاص لینا دینا تھا ۔ اگر ہوتا تو اپنی اولین استانی مسز میسی سمیت گرد و پیش میں اسپتالوں ، اسکولوں اور سرکاری عملہ کے سینکڑوں مسیحی ارکان سے ہم لوگوں کے تعلقات اتنے پر خلوص ، خوشگوار بلکہ پر مزاح کیسے رہ سکتے تھے ۔ سیالکوٹ کینٹ میں مسلمانوں کی تین نسلوں کو پڑھانے والے یہ وہی مسٹر اور مسز میسی ہیں جن کے چھوٹے بیٹے کی بائیسکل کے پیچھے بعض امریکی اور جرمن کاروں کی طرح سرخ رنگ سے لکھا ہوا تھا ’خبردار ، لیفٹ ہینڈ ڈرائیو‘ ۔ پھر بھی چرچ جانے والے ان استادوں ، نرسوں اور ٹاویں ٹاویں ڈاکٹروں کو دیکھ کر یہی لگا کہ اپنے ہی آدمی ہیں ۔ البتہ بچپن میں ہندوﺅں سے ملنے جلنے کا امکان جب بھی ذہن میں آیا ، اندر ہی اندر ایک عجیب سی جھجک غالب آگئی ۔

 ظاہر ہے اب یہ سوال ہوگا کہ اچھا ، بتائیں تو سہی کہ آپ کا جھاکا اترا کیسے ۔ تو جناب ، یہ کام قسطوں میں ہوا ۔ پہلا م نظر دیکھنے کے لئے قارئین کرام کو میرے ساتھ اب سے پینتیس سال پہلے لندن کے پیڈنگٹن اسٹیشن سے کارڈف جانے والی تیز انٹر سٹی ٹرین پر سوار ہونا پڑے گا ۔ اللہ کی قدرت کہ آدھے سے زیادہ ڈبے اسموکنگ کمپارٹمنٹ ہیں اور ان میں کوئی خاص رش بھی نہیں ۔ مگر ہفتہ کی رات لندن پہنچ کر پیر کو اپنی یونیورسٹی کا رخ کرنے والا یہ پاکستانی طالب علم اس تہذیبی مسئلہ کا حل نہیں نکال سکا کہ کوئی لمبی نشست تو پوری کی پوری خالی دکھائی نہیں دیتی اور دو دو سواریوں والی ہر سیٹ پہ ایک ایک میم براجمان ہے تو کیا عورت کے ساتھ بیٹھ جاﺅں یا اسے بد تمیزی سمجھا جائے گا ۔ اچانک آواز آتی ہے ’پنجابی او؟‘ کہتا ہوں ’آہو جی‘ ۔ فرماتے ہیں ’تکدے کیہہ او ، بیٹھ جاﺅ‘ ۔

 اب ان کے برابر جو آکر بیٹھا تو ایک ترو تازہ ، صاف ستھرا سا انسان کوٹ پتلون پہنے ہوئے ، لیکن شخصیت پہ کپڑے حاوی نہیں تھے ، مسکراہٹ حاوی تھی ۔ چھوٹتے ہی سگریٹ کا پیکٹ میری طرف بڑھایا اور ہنستے ہوئے کہنے لگے آپ پتا نہیں کونسا برانڈ پیتے ہیں ، مجھے تو جو بھی مل جائے چھک لیتا ہوں ۔ میرے اندر کھد بد سی ہونے لگی کہ یار ، یہ کہیں ہندو ہی نہ ہو ۔ ہندو مگر اتنا خوش شکل ؟ بات کھولنے کے لئے ایک محتاط ڈپلومیٹک سوال کیا ’کیا آپ راجپوت ہیں ؟‘ کہنے لگے ہم سردار ہیں ، آپ نے فورٹی سیون میں نکال دیا تھا ۔ ساتھ ہی آبائی شہر کا نام لیا ’آپاں راﺅل پنڈی توں دلی نئیں گئے ، لندن آگئے ‘ ۔ میں حیرت زدہ ہو کر پوچھا کہ آپ کی داڑھی کہاں گئی ۔ ’آپاں کرسٹان ہوگئے‘ مراد تھی کرسچئن ، مگر آنکھ مار کے خود ہی وضاحت کردی ’اصل وچ گوری نال ویاہ کر لیا اے ۔ ۔ ۔ انج ہے چنگی۔

میرے اس ہم سفر کا نام اندر موہن سنگھ تھا ۔ اب سوچتا ہوں کہ شائد وہ راولپنڈی کے دو بھائیوں سردار موہن اور سردار سوہن کا بیٹا بھتیجا ہو جن کی شہزادہ کوٹھی میں پہلے وزارت امور کشمیر بنی ، پھر ایوان صدر اور اب وہاں فاطمہ جناح یونیورسٹی برائے خواتین قائم ہے ۔ اندر موہن نے ، جو جنوبی ویلز کے شہر سوان زی کے اسکول میں تاریخ پڑھاتے تھے ، کارڈف میں پلیٹ فارم پہ اتر کر مجھے رخصت کیا ۔ اس سے پہلے وہ ایک کاغذ پہ اپنا ایڈریس اور ٹیلی فون نمبر لکھ کر میرے حوالے کر چکے تھے ، اس ہدایت کے ساتھ کہ کسی ویک اینڈ پہ ہمارے گھر ضرور آئیں ، وہ بھی ایک نہیں بلکہ دو روز کے لئے ۔ ایک دن میں تو تکان ہی نہیں اترتی ۔ سردار جی نے اس کے لئے پنجابی لفظ ’تھکیواں‘ استعمال کیا اور مجھے یہ سوچتا چھوڑ گئے کہ اگر چلتے پھرتے کہیں کوئی ہندو ٹکر گیا تو کیا ملاقات میں یہی اپنائیت ہو گی ۔

 لیں جی اب ملاقات ہو تی ہے ۔ یہ ایمرس ایونز نام کے ہال آف ریذیڈنس کا سیکنڈ فلور ہے جہاں ایک جمعہ کی سہ پہر میرا رخ ڈاکٹر منیر احمد کے کمرے کی طرف ہے جن کی قسمت میں پولیمر کیمسٹری کے شعبہ میں فیلو آف رائل سوسائٹی بننا لکھا ہے ۔ مگر یہ کہانی منیر کی نہیں ، ان دو دوستوں کی کہانی ہے جن کی بدولت ہندﺅں کے ساتھ میرا جھاکا کھلا ۔ راہداری میں بندہ کے ہونٹوں پہ ’میرے من کی گنگا اور تیرے من کی جمنا والے‘ ہندوستانی گانے کے بول ہیں ۔ آواز سنتے ہی ایک دروازہ کھلتا ہے اور باہر نکلتے ہیں چیتے کی آنکھوں والے دو نوجوان ۔ ’ارے ، آپ ہماری بھاشا جانتے ہیں ۔ میں گنگا پرشاد گرنگ ہوں اور یہ یم بہاد ر ملا ۔ ہم نیپالی گورکھے ہیں مگر فیروز پور میں رہے جہاں ہمارے پتا انڈین آرمی میں تھے ´‘ ۔ ساتھ ہی موسٹ فیورڈ نیشن کا اسٹیٹس کہ ’ کہیں بھی جانا ہو سنگ سنگ چلیں گے‘ ۔ تو کیا میں نے اپنے پوشیدہ کامپلیکس پر قابو پا کر ان دوستوں کو منہ پہ ہندو کہنے کی جرات بھی کی ۔ جی ہاں ، صرف ہندو ہی نہیں کہا ، اور بھی بہت کچھ کہا ۔ لیکن گنگا اور یم میں سے کسی ایک کی من موہنی شخصیت ماضی میں شیفیلڈ یونیورسٹی کے بزرگ گریجویٹ انجنیئر سردار بھگوان سنگھ کی سی تو نہ تھی جنہوں نے سکھ ہونے کا طعنہ سنتے ہی پلٹ کر میرے ابا سے کہا تھا ’اوئے ڈھیکیا ، میں کوئی سور سکھ آں‘ ۔ دونوں گورکھا ہندوﺅں سے ایک دن میں کئی کئی بار ملنا اور پھر شام کی محفلیں ، جن کے بعض حصے سنسر کئے جانے کے قابل ہیں ، زندگی کے آئندہ مرحلوں میں کئی اور شناسائیوں کا پیش خیمہ بن گئیں ۔ کچھ اور نہ سمجھئے ، میرا اشارہ لندن میں بی بی سی سے پیشہ ورانہ وابستگی کی طرف ہے ، جہاں پہنچ کر اقبال کا یہ شعر سمجھ میں آنے لگا تھا :

 تعصب چھوڑ ناداں ، دہر کے آئینہ خانے میں

 یہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نے

 تو پھر فرق کیا ہوا ؟ اس پہ مورخین کے دلائل اپنی جگہ ، مگر منطق ایک بات ہے اور زندگی دوسری چیز ۔ ذاتی تجربہ میں مجھے گورڈن کالج والے پروفیسر نصراللہ ملک کی اس زمرہ بندی سے مدد ملی کہ برصغیر کے مسلمان اور ہندو کے درمیان چار بنیادی عناصر کی تقسیم میں گھپلا ہوا ہے ۔ ہم میں آگ اور ہوا کا تناسب زیادہ ہے اور ان میں پانی اور مٹی کا ۔ اسی لئے تو جب ہندی سروس کے ادھیڑ عمر راج نرائن بساریہ نے اشاروں کنایوں میں مجھے کچھ سمجھایا تو خالی جگہیں پر کر کے میں نے کہا ’ اچھا تو اردو سیکشن کی ثریا شہاب نے آپ کا مکان خریدا ہے ، لیکن ابھی شفٹ نہیں ہوئیں کہ ان کے نام یہ خط آگیا ہے ۔ تو چلئے یہ میرے حوالے کر دیں ، میں ثریا کو دے دوں گا © ‘ ۔ بساریہ جی نے وہ جواب دیا جو انہی کے منہ سے اچھا لگا ’جی ملک صاحب ، یہی کہنا چاہ رہا تھا ، پر کہنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔

 پانی اور مٹی کے اس کھیل میں بی بی سی ہندی کے سبھی لوگ راج نرائن کی طرح دھنیا پئے ہوئے نہیں تھے ۔ بعض سے مل کر زندگی کی حرارت بھی محسوس ہوتی ۔ جیسے چھوٹوں میں وجے رانا ، پنکج سنگھ ، نریش کوشک اور گوا میں نئے سال کی خوشی میں جیون پاتال میں اتر جانے والا جسوندر سنگھ ۔ پھر پنکج پچوری ، رجنی کول ، اچلا شرما ، ممتا گپتا اور للت موہن جوشی ، جس نے مجھے کشمیری برہمن جان کر اونچی آواز میں کہا تھا ’اجی ، آپ سے بڑا پنڈت کون ہو سکتا ہے؟‘ اسی طرح ہندی سروس کے بڑوں میں کیلاش بدھوار ، اومکار ناتھ سری واستو ، گوتم سچدیو اور محبت کی آنچ پہ پکا ہوا انسانی فروٹ کیک ، شوتو پاوا جن کے والد اور ناقابل فراموش‘ والے دیوان سنگھ مفتون کے دوست ، ڈاکٹر متھرا داس ٹمپل روڈ پر اس احاطہ کے مالک تھے جہاں بعد میں مدتوں آئی اے رحمان اور عزیز صدیقی مرحوم کی رہائش رہی ۔

 ہندی کے جز وقتی کارکنوں میں رائل شیکسپئیر کمپنی کے پرانے سیٹ ڈیزائنر پرتھوی راج ، فزکس کے پی ایچ ڈی ڈاکٹر اوتار مرواہا اور ’بکس اینڈ مور‘ کے نام سے ہندوستان سے کتابیں امپورٹ کرنے والے ودیارتھی صاحب سے بھی ملاقات رہی ، جو مجھ سے پچیس سال بڑے ہوں گے ۔ چہرے سے لگتا تھا کہ تیز کاروباری سوچ کے جہاں دیدہ آدمی ہیں ۔ نیوز روم میں جب کبھی میں جنوبی ایشیا کے چیف سب ایڈیٹر کے پاس بیٹھا خبروں کا ترجمہ کر رہا ہوتا تو یہ بزرگ سیٹ بدل کر میرے پاس آ بیٹھتے اور لکھتے لکھتے تقسیم سے پہلے کے ضلع گوجرانوالہ میں اپنے گاﺅں کا ذکر چھیڑ کر کہتے ’ویر جی ، آپ نے میرا سارا پریوار مار دیا ، یہ تو بتائیں ہمارا قصور کیا تھا ؟ ‘ اس پہ مجھے نواحی تحصیل ڈسکہ میں اپنی دادی کی واحد سہیلی ہر نام کور بھی یاد آنے لگتی جو جاتے جاتے جھوٹی تسلی دے گئی تھی کہ فکر نہ کرنا ہم آئیں گے ۔

 ایک روز ہماری اردو سروس کے وسیم صدیقی نے مجھے کینٹین میں ودیا رتھی سے باتیں کرتا دیکھ کر پھبتی کسی تھی ’ابے کس کے ساتھ بیٹھ گئے ، کٹر مہاسبھائی ہے ‘ ۔ وسیم مرحوم کی بات بھی ٹھیک ہوگی ، مگر یہ سوال کیا کم ٹھیک تھا کہ ویر جی، آپ نے میرا سارا پریوار مار دیا ، آخر کیوں ؟ میں نے سوچا کہ گلے ملنا اور گلے کاٹنا ، دونوں میں سے کونسا جذبہ انسانی جبلت کے زیادہ قریب ہے ۔ یہ سوال آج سے پندرہ سال پہلے لاہور کے گورنر ہاﺅس میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی یہ تقریر سن کر بھی میرے روبرو آ کھڑا ہوا تھا کہ بہت دنوں تک جنگ ہو چکی ، اب کچھ سمے صلح کو بھی ملنا چاہئیے کیونکہ آپ دوست بدل سکتے ہیں ، پڑوسی نہیں بدل سکتے ۔ بی جے پی کی حتمی انتخابی جیت پر نریندر مودی کے راج سنگھاسن سنبھالنے کا امکان چونکہ واضح ہے ، سو اس بار تو یہ سوال مجھے انہی سے کرنا ہو گا ۔

مزید : کالم