روزانہ استعمال ہونے والے کیمیکل کینسر کا باعث بنتے ہیں،بشیر مہدی

روزانہ استعمال ہونے والے کیمیکل کینسر کا باعث بنتے ہیں،بشیر مہدی

لاہور(سٹاف رپورٹر) محمد علی جناح مےڈےکل کمپلیکس کے چیئرمےن بشےر مہدی نے کہا ہے کہ روز مرہ زندگی میں استعمال میں لائے جانے والے چند مخصوص کیمیائی اجزا چھاتی کے سرطان یا بریسٹ کینسر کا سبب بنتے ہیں مضر صحت کیمیائی اجزا میں پٹرول، ڈیزل اور گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں، شعلے کو کم کرنے کے لیے استعمال میں لائے جانے والا کیمیکل، داغ مزاحم ٹیکسٹائل، پینٹ ریموور اور پانی کو انفیکشن سے پاک کرنے کے لیے استعمال میں لائے جانے والے کچھ کیمیکلز شامل ہیںایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جو کیمیکل روز مرہ زندگی میں بہت زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں اور خاص طور سے خواتین انہیں ترجیحی بنیادوں پر بروئے کار لاتی ہیںماہرین کے مطابق ماحول میں پایا جانے والا بینزین یا بے رنگ مائع اور ایک بے رنگ گیس بیوٹا ڈائن، پستانی سرطان زا مادے کا سب سے بڑا منبع ہے جو گاڑیوں سے خارج ہوتا ہے اس کے علاوہ لان یا سبزہ زار کے لیے استعمال کیے جانے والے آلات، تمباکو کا دھواں اور جلے ہوئے سیاہ مائل غذائی اجزاءچھاتی کے سرطان کا سب بنتے ہیںبرتن دھونے کے لیے استعمال میں لایا جانے والا کیمیکل بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے محققین کے مطابق صفائی کے لیے استعمال کیا جانے والا میتھیلین کلورائیڈ کیمیکل، ہارمون تبدیلی کی تھراپی کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات، نان اسٹکننگ کوٹنگ یا لیپ، تمباکو کے دھویں سے خارج ہونے والا لوبانین، ایک خوشبودار بے رنگ سیال ہائیڈرو کاربن بھی سرطان زا مادوں میں شامل ہوتا ہے اور خواتین میں بریسٹ کے کینسر یا پستانی سرطان کی بڑی وجوہات میں شامل ہے بے رنگ سیال ہائیڈرو کاربن مصنوعی ربڑ، پلاسٹک اور رال بنانے کے کام آتا ہے اور اس کی مدد سے ہلکا پولسٹرین پلاسٹک بھی تیار کیا جاتا ہے جو اکثر گھروں کی سجاوٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے کیمیکلز کے نقصانات کو اب تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ کیمیکلز کے استعمال میں کمی سے بہت سی خواتین کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1