سٹیٹ بینک متوازن بینکرپٹسی قانون بنانے کیلئے کوششیں تیز کرے، شعبان خالد

سٹیٹ بینک متوازن بینکرپٹسی قانون بنانے کیلئے کوششیں تیز کرے، شعبان خالد

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شعبان خالد نے کہا ہے کہ پاکستان میں بینکرپٹسی قوانین کی عدم موجودگی تاجر برادری کیلئے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس سے خاص طور پر چھوٹے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے لہذا سٹیٹ بینک فوری طور پر تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے متوازن بینکرپٹسی قوانین بنانے کیلئے کوششیں تیز کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیمبر میں بینکنگ کنزیومر رائٹس کے موضوع پر منعقدہ ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام اسلام آباد چیمبرنے سٹیٹ بینک کے اشتراک سے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ فنانشل سسٹم یکطرفہ اور غیر منصفانہ طور پر بینکوں کے مفادات کا زیادہ خیال رکھتا ہے لہذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ سٹیٹ بینک تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر متوازن بینکرپٹسی قانون کو تشکیل دے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت رائج قوانین دیوالیہ ہونے والے کاروباری اداروں کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات بزنس مینوں کو واجبات کی ادائیگی کیلئے اپنے ذاتی اثاثوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور یہ صورت حال انہیں مزید مشکلات میں مبتلا کر دیتی ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے متوازن بینکرپٹسی قوانین بنائے جائیں جو مشکلات کا شکار کاروباری اداروں کو دوبارہ بحال ہونے میں مدد کریں اور دیوالیہ ہونے والے اداروں کو باعزت طور پر اپنا کاروبار بند کرنے میں سہولت فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ چیمبر نے اپنے ممبران کو باخبر رکھنے اور ایجوکیٹ کرنے کیلئے کئی اداروں کے تعاون سے مختلف موضوعات پر سمینار منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تا کہ تاجر برادری کاروبار سے متعلقہ قوانین اور امور کے بارے میں آگاہی حاصل کر کے اپنے کاروباری مفادات کو بہتر انداز میں فروغ دے سکے۔ سٹیٹ بینک کے ڈپٹی چیف منیجر وقار علی نے بینک صارفین کے تحفظ کیلئے بنائے گئے قوانین پر تفصیلی بریزنٹیشن دی ۔

انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک مسلسل ریگولیٹری نظام میں بہتری لانے کیلئے کوشاں رہتا ہے اور بینک صارفین کے تحفظ کیلئے سٹیٹ بینک نے متعدد قوانین بنائے ہیں لیکن ان قوانین کے بارے میں مناسب آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بینک صارفین ان سے استفادہ حاصل نہیں کر رہے۔انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک نے کسٹمر سہولت سنٹرز اور ہیلپ ڈسک قائم کئے ہوئے ہیں جہاں پر بینک صارفین یوٹیلٹی بل، بینشن، اے ٹی ایم سے متعلقہ مسائل اور بینک ملازمین کے غیر مناسب رویہ سمیت دیگر معاملات کے بارے میں شکایات درج کرا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ان قوانین سے فائدہ اٹھا کر اپنے کاروباری مفادات کوبہتر انداز میں فروغ دے سکتے ہیں۔اس موقع پر تاجر برادری نے نیشنل بینک آف پاکستان کی کارکردگی پر بہت سے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پاسپورٹ فیس کی وصولی کیلئے نیشنل بینک کی چند مخصوص شاخوں کواختیار دیا ہوا ہے جس سے عملہ رشوت لے کر کام کرتا ہے اور لوگوں کو لمبی لمبی لائنوں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یا تو نیشنل بینک کی تمام برانچوں کو پاسپورٹ فیس وصول کرنے کا اختیار دیا جائے یا پھر دیگر بینکوں کو بھی یہ سروس فراہم کرنے کی اجازت دی جائے تا کہ لوگوں کو بہتر سہولت میسر ہو اور انہیں لمبی قطاروں میں نہ کھڑا ہونا پڑے۔ انہوں نے نیشنل بینک کی کارکردگی کو مزید بہتر کرنے کیلئے متعدد تجاویز بھی پیش کیں۔

مزید : کامرس