کرپشن انکشافات ‘آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کی افادیت پر انگلیاں اٹھنے لگیں

کرپشن انکشافات ‘آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کی افادیت پر انگلیاں اٹھنے لگیں

لندن(آن لائن) لوونسنٹ کی طرف سے انکشافات کے بعد ایک بار پھر آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کی افادیت پر انگلیاں اٹھائی جانے لگیں، سربراہ سر رونی فلینگن کی نوکری بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ اب تک سفید ہاتھی ثابت ہوا ہے، بیشتر فکسنگ کیس میڈیا یا دیگر ذرائع سے ہی سامنے آئے ہیں،برطانوی اخبارات میں اینٹی کرپشن یونٹ کے ساتھ اس کے سربراہ رونی فلینگن کے مستقبل کو بھی غیر یقینی قرار دیا جا رہا ہے،وہ اس وقت آئی سی سی کیلیے کام کرنے کے ساتھ پولیس معاملات میں ابوظبی حکومت کے مشیر بھی ہیں، بھاری تنخواہ وصول کرنے کے باوجود ڈبل رول میں الجھنے کی وجہ سے وہ کرکٹ کرپشن کے امور پر پوری توجہ نہیں دے پا رہے۔گذشتہ دنوں اینٹی کرپشن یونٹ کے سسٹم پر نظر ثانی کیلیے میٹنگ میں ان کے مستقبل کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی، لوونسنٹ کیس کی پیش رفت میں بھی ان کا کوئی خاص کردار نظر نہیں آتا ، آئی سی سی چیف ڈیو رچرڈسن کی حمایت نہ صرف اینٹی کرپشن یونٹ بلکہ رونی فلینگن کے عہدے کو بچائے ہوئے ہے، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ چاروں طرف سے بڑھنے والا دباو¿ زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر پائیں گے۔دوسری جانب فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ پال مارش کا کہنا ہے کہ اب کرکٹرز کی حرکات پر نظر رکھنے سے بات نہیں بن سکتی۔

دنیا بھر میں جاری ٹوئنٹی 20 لیگز کی وجہ سے پورے سسٹم کا باریک بینی سے مشاہدہ ضروری ہے،انھوں نے کہا کہ بگ تھری منصوبے کے تحت اینٹی کرپشن یونٹ میں تبدیلیوں کی بات کی جا رہی ہے، ایسے میں یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ کرپشن کے سدباب کیلیے اسے آزادانہ حیثیت میں کام کرنے کا موقع دیا جائے، اس کو کرکٹ بورڈز سے فاصلے پر رکھتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو ہر سطح تک پھیلانا ہو گا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی