بھارتی انتخابات کے بعد !

بھارتی انتخابات کے بعد !

بھارت کے عام انتخابات میں جنونی ہندوﺅں کی جماعت بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو337نشستیں مل گئی ہیں،جبکہ سابق حکمران جماعت کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو58 اور دوسری جماعتوں کو144 نشستیں ملی ہیں۔سونیا گاندھی اور راہول گاندھی نے شکست کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔543کے ایوان میں حکومت سازی کے لئے 272 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ بی جے پی تنہا ہی282نشستیں لے گئی ہے۔ بی جے پی نے گجرات اور راجستھان کی تمام نشستیں جیت لی ہیں۔اسی طرح جھار کھنڈ اور دہلی میں بھی بی جے پی نے کلین سویپ کیا ہے۔

 مبصرین نے نئی حکومت کے پاک بھارت تعلقات بھارتی اور کشمیر کے مسلمانوں پر اثرات کے سلسلے میں مختلف آراءکا اظہار کیا ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے بھارت کے ساتھ اپنے تمام تنازعات طے کرنے کے سلسلے میں جامع مذاکرات کو انتخابات تک ملتوی کیا گیا تھااور یہ محسوس کیا گیا تھا کہ عوام کا تازہ مینڈیٹ لے کر آنے والی نئی بھارتی حکومت تنازعات طے کرنے کے سلسلے میں بہتر پوزیشن میں ہو گی۔ صوبہ گجرات کے عرصہ تک وزیر اعلی رہنے والے اور اپنے دور حکومت میں صوبے کے ہزاروں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے لوگوں کے سرپرست نریندر مودی کے بھارت کا وزیراعظم بننے سے ایک بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ اب بھارت خود کو سیکولر ملک کہلانے کا استحقاق کھو بیٹھا ہے۔ مختلف ملکوں میں ایک معمولی اقلیت انتہاءپسند ہو سکتی ہے، لیکن بھارتی ووٹروں کی اکثریت نے نریندر مودی کے حق میں ووٹ دے کر ثابت کر دیا ہے کہ ہندوﺅں کی اکثریت انتہاءپسند اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ جذبات رکھنے والے لوگوں کی ہے۔ نریندر مودی نے اپنے دورِ حکومت کے دوران گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام پر کبھی افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ انتخابات کے دوران بھی وہ مسلم ووٹ کے لئے کسی طرح کے اضطراب کا مظاہرہ نہیں کرتے رہے۔ ایک موقع پر تو انہوں نے کہا کہ اگر تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں تو کم از کم تمام دہشت گرد مسلمان ضرور ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے شمال مشرقی صوبوں میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں سے وابستہ لوگوں میں کوئی بھی مسلمان نہیں۔

ماﺅ ازم کی تحریک بھارت میں جس قدر مضبوط اور تیزی سے پھیل رہی ہے اس سے بھی مسلمان وابستہ نہیں۔ مودی انتہا پسند اور متعصب ہندو ہیں، ان کی الیکشن مہم میں بھی ان کی مسلمان دشمنی اور پاکستان دشمنی کھل کر سامنے آتی رہی ہے۔ تنگ نظر ہندو قوم اس رہنما کے اسی طرح کے نعروں سے متاثر ہوتی رہی ہے۔ ان زمینی حقائق کے باوجود مبصرین کی ایک اچھی خاصی تعداد اس توقع کا اظہار کر رہی ہے کہ انتخابات اور بڑی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے کسی کے خیالات جیسے بھی ہوں ، ذمہ داری سنبھالنے کے بعد لیڈر ہمیشہ تعصبات اور انتہاءپسندانہ نعروں کو بھول کر اپنی قوم اور ملک کے وسیع تر مفاد کی سوچتا ہے۔ اچھی قیادت ملک کو مسائل اور جنگوں میں الجھانے کے بجائے مسائل حل کرکے قوم کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر لے جاتی ہے۔ نریندر مودی زیرک انسان اور اچھے منتظم ہیں۔ ان کے دور میں ریاست گجرات نے ترقی کی۔ اب وہ پورے ملک کو بھی امن اور ترقی دینا چاہیں گے۔ ان کی حکومت زمینی حقائق اور پاک بھارت تنازعات کے سلسلے میں اب تک کی گئی کوششوں اور ان کے آگے بڑھانے کے معاملات کو نظر انداز نہیں کرے گی ۔ ان سے یہی توقع ہے کہ وہ چین اور پاکستان سے اپنے تعلقات بہتر بنائیں گے۔ اب پانچ سال کے لئے عوام نے انہیں وزیراعظم کے لئے منتخب کر لیا ہے، وہ اپنے عوام کی خیر خواہی اور بہتری کے لئے خطے میں امن قائم کر کے ہی کوئی کام کر سکتے ہیں۔ دوسروں پر جنگ اور جبر ٹھونس کر کوئی قوم بھی سکھ چین میں نہیں رہ سکتی۔ یہی سبق افغانستان پر قبضہ کرنے والی روسی قوم نے سیکھا تھا اور یہی سبق اب امریکہ اور اس کی اتحادی اقوام افغانستان سے سیکھ کر جا رہی ہیں۔

 بھارت میں 25کروڑ مسلمان بستے ہیں،جو اس ملک کی ایک بہت بڑی حقیقت ہیں۔ انہیں تشدد اور جبر سے نہ تو دبایا جا سکتا ہے نہ انہیں ختم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے، جس کے متعلق اب دنیا کی تمام بڑی طاقتیں جان گئی ہیں کہ اگر پاکستان کی سلامتی اور یک جہتی کو کسی طرح نقصان پہنچا تو اس سے دنیا بھر کا امن و امان تہہ و بالا ہو جائے گا۔ پاکستان کی مسلح افواج کی اعلیٰ قابلیت اور ملکی دفاع کی صلاحیت سے دنیا واقف ہے، بھارت اگر پاکستانی علاقوں میں دہشت گرد بھجوا سکتا ہے تو چین سے خود بھی نہیں بیٹھ سکتا۔ آج تک اس نے اپنا ہر حربہ آزما کر دیکھ لیا ہے اس کی ہر طرح کی قیادت پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان سے اچھے تعلقات کے بغیر بھارت کو نہ خطے میں کچھ اہمیت مل سکتی ہے نہ عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لئے کوئی ٹھوس کام کیا جا سکتا ہے۔ نئی حکومت بھی جب زمینی حقائق کا ادراک کرے گی، تو اسے ایک ہی راستہ نظر آئے گا اور وہ راستہ ہے پاکستان سے اپنے تنازعات نمٹانے اور اچھے تعلقات بنانے کا راستہ۔ اس سے برصغیر کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور پورے خطے میں آزادانہ تجارت اور میل جول کی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، برصغیر اور وسط ایشیا تک کے ممالک ایک آزاد منڈی کی طرف بڑھیں گے۔ چین بھی اس آزاد تجارت کے زون میں شامل ہو گا اور اس طرح یہ پورا خطہ یورپ سے کہیں زیادہ خوشحال او ر ترقی یافتہ خطہ بن کر ابھرے گا۔

 بھارت کے لاکھوں افراد فٹ پاتھوں پر پیدا ہوتے اور فٹ پاتھوں ہی پر بھوک سے مر جاتے ہیں۔ اس کے بہت سے علاقوں میں علیحدگی اور آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ بڑھتی ہوئی بھوک اور افلاس سے عوام میں بے چینی اور اضطراب کی لہریں مسلسل اٹھتی رہتی ہیں۔ آج بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ ہی عوام کی غربت اور افلاس ہے۔ اس کے لئے جنگ اور چپقلش کے بجائے امن کے راستے ہی واحد حل ہیں۔ پاکستان بھی اپنے ہمسایوں سے ہر طرح کے تنازعات طے کر کے اپنے عوام کی خوشحالی اور ترقی پر توجہ دینا چاہتا ہے۔ اپنے دفاع اور ہر طرح کے اندرونی مسائل سے نمٹنے کے لئے ہم نے سب انتظامات کئے، لیکن یہ حقیقت سب سے نمایاں ہو کر سامنے آئی کہ عزت اور وقار کے ساتھ ہمسایوں اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے ہی میں عوام کی فلاح اور ترقی ہے۔

پاکستانی حکومت اس حقیقت کے پیش نظر تمام متحارب اندرونی طاقتوں اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مثبت انداز میں مسائل کے حل کے لئے آگے بڑھنے کی شدید خواہش رکھتی ہے۔ اگر نئی بننے والی بھارتی حکومت میں اس کے سربراہ کے علاوہ دوسرے مدبر اور دور اندیش لوگ موجود ہوئے، تو پاکستان کے متعلق وہ سمجھ لیں کہ ہم ہر طرح کے تعاون اور معاملات نمٹانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ اگر نئی حکومت میں گزشتہ حکومت جتنی بھی امن پسندی اور صلح جوئی ہوئی تو پھر دونوں ملکوں میں جامع مذاکرات کا شروع ہونا اب دور کی بات نہیں ہو گی۔ اب گیند بھار ت کی کورٹ میں ہے۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ماضی میں دوستی کے لئے اپنے بڑھائے ہوئے ہاتھ کا ہمیں کیا جواب ملتا ہے؟اس ہاتھ کو خلوص کے ساتھ تھاما جاتا ہے یا جھٹکا جاتا ہے۔ خصوصاً اس صورت میںجب کہ پوری دنیا کو بھارت میں انتہا ءپسند جماعت کی حکومت قائم ہونے اور پوری بھارتی قوم میں انتہاءپسندی کا مزاج نمایاں ہونے کا تاثر ملا ہے ، یہ بات نئی بھارتی حکومت کے اپنے مفاد میں ہو گی کہ وہ اپنے ہمسایوں بالخصوص پاکستان کے ساتھ دوستی اور اچھے تعلقات کی نہ صرف خواہش کا اظہار کرے، بلکہ اس کے لئے تیزی سے آگے بھی بڑھے۔ ایسا نہ کرنا بھارت کے اپنے مفادات کے خلاف ہو گا اور اس سلسلے میں پہل اور گرمجوشی کا اظہار اس کی طرف سے خطے کے اربوں انسانوں کے لئے وجہ اطمینان اور سکون ہو گا۔

بھارت کی نئی حکومت کی پالیسی اور اس سے توقعات کے برعکس اس وقت ہمیں بھارت میں ایک انتہاءپسند جماعت کے اقتدار میں آجانے کے پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ہم اپنے اندرونی مسائل اور دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے ٹھوس اقدامات کر سکیں توبھارت سمیت دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی۔ بھارت آج تک پاکستان کو ہر ممکن نقصان پہنچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہا ہے، اس سے زیادہ کچھ کرنا اس کے بس میں نہیں، نہ ہی پاکستان کے مخالف بھارت کے اتحادی اس کی سکت رکھتے ہیں۔ پاکستان کو پریشان کرنے کے کچھ حدود تھے جن تک بھارت پہنچ چکا ۔ اس سے آگے ہائی الرٹ ریڈ زون ہے۔ اس کی قیادت کو بھی معلوم ہے اور دنیا کی دوسری بڑی طاقتیں بھی جانتی ہیں کہ پاکستان سے اب امن اور صلح کی بات ہونی چاہئے جنگ اور چپقلش کی نہیں۔ تاہم ہماری قومی قیادت اورعوام اور مختلف الخیال طبقات کو بھی موجودہ حالات میں ہوشیار اور خبردار رہنا اور قومی یکجہتی اور تحاد کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

 اپنی قوت کا اظہار صرف اپنی حرب و ضرب کی صلاحیت سے نہیں،بلکہ قومی اتحاد اور اٹل عزم سے بھی کیا جانا ضروری ہے،جس طرح آج بھارت کے مسلمانوں میں انتہاپسند اورمسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے سیاست دان کی کامیابی سے مایوسی اور سراسیمگی پیدا ہو چکی ہے اس کو ختم کرنے کے لئے بھی ہمیں واضح انداز میں اپنے اندرونی مسائل حل کر کے دشمن کے سامنے بحیثیت قوم یک جان ہو کر کھڑے ہونا ہو گا۔ اس کے بغیر نہ بھارت کے مسلمانوں کو کچھ حوصلہ ملے گا نہ دنیا کی دوسری مسلم اقلیتیں اپنی بقاءو سلامتی کے سلسلے میں کسی طرح پر امید ہو سکیں گی۔ اس وقت ہمارے سامنے اپنے دفاع اور استحکام کی تیاری کا بہترین طریقہ قومی اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ اور ہر طرح کے باہمی اختلافات اور تعصبات کو بھلا کر سبز ہلالی پرچم تلے ایک آواز ہو کر کھڑے ہونا ہے،جہاں عوام حکومتوں سے ہر معاملے میں لمبی چوڑی امیدیں باندھتے ہیں وہاں انہیں اس اہم موقع پر اپنے انفرادی اور گروہی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے قومی یکجہتی اور بھارتی اور کشمیری مسلمانوں سے یکجہتی کے لئے ایک آواز بھی ہونا ہو گا۔ ہم اپنے گھر اور اپنی صفوں کو سیدھا کر لیں گے، تو ہمارے دشمن بھی خود بخود سیدھے ہو جائیں گے۔

مزید : اداریہ