آئی سی سی نے میچ میں ملوث 12 کرکٹرز کیخلاف تحقیقات شروع کر دیں

آئی سی سی نے میچ میں ملوث 12 کرکٹرز کیخلاف تحقیقات شروع کر دیں

                               لندن (اے این این ) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے میچ فکسنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے والے 12 کرکٹرز کے خلاف تحقیقات شروع کردیں ¾یہ تحقیقات نیوزی لینڈ کے سابق بیٹسمین لو ونسنٹ کی فراہم کردہ اطلاعات کے نتیجے میں کی جارہی ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق لوونسنٹ نے آئی سی سی کے سامنے یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ انگلینڈ کی کانٹی کرکٹ سمیت دنیا بھر میں 12 ایسے میچوں کے بارے میں جانتے ہیں جو مبینہ طور پر فکسڈ تھے۔ ٹیلی گراف کے مطابق لوونسنٹ اور چند دیگر کرکٹرز میچ فکسنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں آئی سی سی سے تعاون کر رہے ہیں اور انھوں نے اس ضمن میں کئی اہم معلومات آئی سی سی کو فراہم کی ہیں۔ٹیلیگراف کے مطابق ان بارہ کرکٹرز میں ایک سابق پاکستانی انٹرنیشنل کرکٹر بھی شامل ہیں جنہوں نے فکسنگ کی پیشکش کے بارے میں آئی سی سی کو اطلاع نہیں دی۔لوونسنٹ نے فکسنگ میں ملوث کرکٹرز کے بینک اکانٹس میں منتقل ہونے والی رقوم سے متعلق معلومات بھی آئی سی سی کو دی ہیں۔ٹیلیگراف کے مطابق لوونسنٹ نے انگلینڈ میں کھیلے جانے والے تین میچوں کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ مبینہ طور پر فکسڈ تھے۔اخبار کے مطابق لوونسنٹ نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایک میچ کو فکس کرنے کے لیے انھیں چالیس ہزار پانڈ کی رقم ملی تھی۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹ کے ہینڈل پر مختلف رنگوں کی گرپ کی مدد سے بک میکرز کو اشارے سمجھاتے تھے۔اخبار دی میل کے مطابق لوونسنٹ نے آئی سی سی کو بتایا ہے کہ وہ ایسے چھ کرکٹرز کو جانتے ہیں جو مبینہ طور پر فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔نیوزی لینڈ کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹیو کا کہنا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق نیوزی لینڈ کے کسی بھی موجودہ کرکٹر سے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے تحقیقات نہیں کی ہے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی