66 سال گزرنے کے باوجود صہیونی ریاست فلسطین میں غاصبانہ قبضے کو وسعت دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، ڈاکٹر محمد یوسف زرقہ

66 سال گزرنے کے باوجود صہیونی ریاست فلسطین میں غاصبانہ قبضے کو وسعت دینے کی ...

غزہ (این این آئی) حماس کے مرکزی رہنماءڈاکٹر محمد یوسف زرقہ نے کہا ہے کہ 66 سال گزرنے کے بعد آج بھی صہیونی ریاست فلسطین میں اپنے غاصبانہ قبضے کو وسعت دینے اور عرب ممالک میں مداخلت کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، فلسطین میں ایسی قیادت نہیں ابھر سکی جو صہیونی ریاست کے مظالم کا مقابلہ کرنے کےساتھ ساتھ ہرقسم کے اندرونی اور بیرونی چیلنجزسے نمٹنے میں کامیاب ہو جاتی۔ایک انٹرویو میں ڈاکٹر یوسف الرزقہ نے کہا کہ عرب ممالک کی طرف سے فلسطینیوں کی حمایت میں نہایت سست روی کا مظاہرہ کیا گیا۔ فلسطینیوں کو عرب اقوام اور عالم اسلام کی جانب سے جس جراتمندانہ معاونت کی ضرورت تھی وہ نہیں مل سکی۔

 اس کے نتیجے میں فلسطین میں حقیقی قیادت کا خلاءرہا۔ اسرائیل نے اس خلاءسے فائدہ اٹھایا اور اس نے فلسطین میں غاصبانہ قبضے کو توسیع دینے اورعرب ممالک میں مداخلت کی سٹرٹیجیجاری رکھی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قیام اسرائیل کے وقت فلسطینیوں پرجو مظالم ڈھائے گئے انہیں سہنے والے آج بھی زندہ ہیں۔ وہ جہاں بھی ہیں ہرسال قیام اسرائیل کے دن آنے پرانہیں یاد کرتے ہیں،بدقسمتی سے اسرائیل کے قیام کے وقت بھی عرب ممالک کی لیڈرشپ خاموش رہی اس کے بعد بھی عربوں پر صرف ایک اسرائیلی ریاست بھاری ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کی کمزوری اس وقت عیاں ہو گئی تھی جب فلسطین پر برطانوی قبضے کے دوران بیرون ملک سے یہودیوں کو لا کر بسایا جانے لگا پھر جب فلسطین 15مئی 1948ءسے دو سال قبل جب فلسطین میںیہودی ریاست کےلئے عملاً لڑائی کا آغاز ہوا تو فلسطینی نہتے اور تنہاءتھے۔ اس وقت عرب ممالک کی حکومتوں کی طرف سے فلسطینیوں کی کوئی خاطرخواہ مدد نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں عملاًصہیونی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔

مزید : عالمی منظر