پاکستانی ڈاکٹر نے برطانیہ میں ملک کو شرمندہ کردیا

پاکستانی ڈاکٹر نے برطانیہ میں ملک کو شرمندہ کردیا
پاکستانی ڈاکٹر نے برطانیہ میں ملک کو شرمندہ کردیا

  

برمنگھم (مانیٹرنگ ڈیسک) بدقسمتی سے پاکستان کا ذکر جب بھی عالمی خبروں میں آتا ہے تو کسی منفی حوالے سے ہی آتا ہے اور اس میں تازہ اضافہ پاکستان سے تعلق رکھنے والا ایک معروف برطانوی نیوروسرجن ہے جس پر زیر علاج خواتین سے جنسی زیادتی کے الزامات سامنے آگئے ہیں۔ یونیورسٹی ہاسپٹل برمنگھم کے این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ میں کام کرنے والے اس معروف ڈاکٹر کے خلاف جنسی زیادتی کے 6 اور 7 دیگر جرائم کے الزامات ہیں۔ پچاس سالہ نفیس حامد پر الزام ہے کہ اس نے پچھلے چار سالوں کے دوران پرائمری ہسپتال اور کوئن الزبتھ ہسپتال میں خواتین مریضوں کو جنسی حملوں کا نشانہ بنایا۔ این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر کو عدالتی کارروائی کا فیصلہ ہونے تک کام سے روک دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر حامد نے تمام الزامات کی تردید کی ہے، عدالت نے فی الحال اسے مشروط ضمانت پر رہا کردیا ہے جبکہ یکم ستمبر کو دوبارہ پیشی کا حکم یا ہے توقع کی جارہی ہے کہ یہ مقدمہ تقریباً ایک ماہ جاری رہے گا اور اس میں تقریباً 30 گواہ پیش ہوں گے۔

مزید : بین الاقوامی