فلسطینی اتھارٹی ،اسرائیل نام نہاد امن مذاکرات کے دوران فلسطینیوں کے مکانات مسماری میں4 گنا اضافہ ہوا ، انسانی حقوق ریسرچ سنٹر

فلسطینی اتھارٹی ،اسرائیل نام نہاد امن مذاکرات کے دوران فلسطینیوں کے مکانات ...

رام اللہ (این این آئی)فلسطین میں انسانی حقوق سے متعلق قائم ریسرچ سنٹر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ برس اگست میں شروع ہونےوالے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان نام نہاد امن مذاکرات کے دوران فلسطینیوں کے مکانات مسماری میں4 گنا اضافہ ہوا ہے۔ یوں مذاکرات کے 9ماہ میں ہزاروں فلسطینیوں کو مکان کی چھت سے محروم کر دیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی نگرانی میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان جاری رہنے والے مذاکرات میں واشنگٹن کی طرف سے فلسطینیوں کو آزاد ریاست کا یقین دلایا گیا تھا۔

فلسطینی ریاست کا قیام تو دور کی بات ،مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے، وادی اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے سینکڑوں مکانات مسمار کر دیئے گئے جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوئے۔ فلسطینیوں کی دیگراملاک، پھل دار پودں کی تلفی اور فصلوں کی تباہی اس کے علاوہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کی روز مرہ کی بنیاد پر آمد کا اصل مقصد قبلہ اول کو تقسیم کرنے کی سازش کو عملی شکل دینے کی راہ ہموار کرنا اور اس کی جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے 9ماہ کے دوران مقبوضہ فلسطینی شہروں میں فلسطینیوں کے ملکیتی 567 مکانات مسمار کئے گئے،14500 ایکڑ فلسطینی اراضی پر جبری قبضہ کیا گیا، اس میں کچھ رقبہ اسرائیلی فوجی کیمپوں اور 1350 ایکڑ رقبہ یہودی توسیع پسندی میں سرگرم ایجنسیوںکو دیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے 9ماہ میں فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کےلئے 13851 مکانات کی تعمیر کی منظوری دی گئی۔ یہ مکانات فلسطینی علاقوں میں پہلے سے موجود 50 یہودی کالونیوں میں تعمیر کئے گئے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران صہیونی فوج اور انتہا پسند یہودیوں نے ملکر فلسطینی شہریوں کے 15 ہزار 700 پھل دار پودے تلف کئے۔

مزید : عالمی منظر