حکومت نے بلو چ عوام کو لاشوں کے تحفے دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، اختر مینگل

حکومت نے بلو چ عوام کو لاشوں کے تحفے دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، اختر مینگل

کوئٹہ( آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن صوبائی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے حکومت کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے بلوچستان کی عوام کو حسب سابق لاشوں کے تحفہ دینے اور ان کے پیاروں کو لاپتہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور اب تحفظ پاکستان آرڈیننس جیسے قوانین بناکر بلوچ کے ماورائے آئین و قانون قتل و غارت گری کو قانونی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے عوام سے رائے کے طلبگار ہیں کہ ایسے حالات میں ہم ایوانوں میں بیٹھیں یا مستعفی ہو جائیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم پر ظلم استحصال کے جو پہاڑ توڑے گئے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں موجودہ حکمرانوں نے اقتدار سنبھالنے سے قبل بلوچ قوم سے جو وعدے کئے تھے آج وہ اپنے تمام تر وعدے بھلا چکے ہیں آج بھی بلوچ سرزمین پر بلوچ قوم کے ماورائے آئین و قانون گرفتاریوں ¾ مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی جیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اب موجودہ حکمرانوں سے کسی قسم کی امید رکھنا خود کو دھوکہ میں رکھنے کے مترادف ہوگا اور حالات ہم سے یہ تقاضہ کررہے ہیں کہ بلوچ قوم اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے استحصال کیخلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائے تاکہ ہم ان مشکلات کا خاتمہ کر سکیں اور اگر اب بھی حالات کا ادراک نہ کیا گیا تو بلوچ قوم کو ایسے اندھیروں میں دھکیلا جائے گا جہاں سے واپسی ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ پہلے ہی بلوچستان میں ماورائے آئین و قانون بلوچ قوم کے فرزندوں کو لاپتہ کرکے اذیت خانوں میں انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے اور ان کی مسخ شدہ تشدد زدہ لاشیں بلوچستان کے طول و عرض میں پھینکی جارہی ہیں جبکہ تحفظ پاکستان آرڈیننس جیسے قوانین بناکر ایک بار پھر بلوچوں کے قتل کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی گئی ہے

اختر مینگل

مزید : صفحہ آخر