ہائیکورٹ ،2004 میںشروع ہونے والی جیلوںکی تعمیر 2015 تک مکمل کرنے کا حکم

ہائیکورٹ ،2004 میںشروع ہونے والی جیلوںکی تعمیر 2015 تک مکمل کرنے کا حکم

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس محمد فرخ عرفان خان نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ2004 میںشروع ہونے والی ڈسٹرکٹ جیل لیہ، سنٹرل جیل راولپنڈی، ڈسٹرکٹ جیل نارووال، ڈسٹرکٹ جیل لودھراں، ڈسٹرکٹ جیل حافظ آباد، ڈسٹرکٹ جیل خانیوال، ڈسٹرکٹ جیل راجن پور اور ڈسٹرکٹ جیل گوجرہ کی تعمیر 30 جون2015 تک ہر صورت مکمل کی جائے۔ فاضل جج درخواست گزار ردا قاضی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کر رہے تھے۔ درخواست گزار نے جیلوں کی حالت زار کو بہتر بنانے اور قیدیوں کےلئے مناسب جگہ اور سیل فراہم کرنے کی استدعا کررکھی ہے۔ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ جیل سٹاف کی 2923 خالی اسامیوں کےلئے مختلف اخبارات میں اشتہار دیئے گئے اور نیشنل ٹیسٹنگ سروس اسلام آباد امیدوارں کے جسمانی اور تحریری امتحانات لے گا۔جبکہ ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں پر مشتمل نظر ثانی بورڈز تمام مرحلوں کی نگرانی کرے گا اور مذکورہ عمل رواں سال 21 جون تک مکمل کر لیا جائے گا۔ ڈی آئی جی نے عدالت کو یقین دلایا کہ تمام بھرتی صاف و شفاف طریقے سے میرٹ پر کی جائے گی۔ بعد ازاں عدالت کی ہدایت پر جیل خانہ جات کے حالات کار بہتر بنانے اور قیدیوں کو مناسب سہولیات کی فراہمی بارے متعلقہ محکموں سے موصول ہونے والی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ رپورٹس نامناسب اور نامکمل ہیں۔ جس کے تناظر میں عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل وقاص قدیر ڈار کو عدالت نمائندہ منتخب کرتے ہوئے انکی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی جو عدالتی احکامات پر عملددرآمد کو یقینی بنائے گی اور آئندہ تاریخ سماعت 29مئی سے قبل تفصلی رپورٹ عدالت عالیہ میں جمع کروائے گی۔ ٹیم میں درخواست گزار کے وکیل، ڈی آئی جی جیل خانہ جات، ہوم ڈیپارٹمنٹ کا ایک نمائندہ، کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کا نمائندہ، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور محکمہ خزانہ سے ایک ڈائریکٹر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ایڈیشنل ہوم سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ جیلوں کی تعمیر میں تاخیر اور حالت زار کامعاملہ صوبہ کے چیف ایگزیکٹو(وزیر اعلیٰ) کے نوٹس میں بھی لایا جا چکا ہے ۔انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ عدالتی احکامات پر من و عمل عملدارآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

جیل تعمیر

مزید : صفحہ آخر