پاک بھارت ، جنگیں کانگرس کے دور اقتدار میں ہوئیں

پاک بھارت ، جنگیں کانگرس کے دور اقتدار میں ہوئیں
پاک بھارت ، جنگیں کانگرس کے دور اقتدار میں ہوئیں

  

تجزیہ : چودھری خادم حسین

بھارت کے عام انتخابات کا آخری مرحلہ بھی مکمل ہوا توقعات کے مطابق بی جے پی اتحاد این ڈی اے نے واضح برتری حاصل کرلی اور گجرات فیم نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کی راہ میں رکاوٹ نہیں رہی، ان انتخابات میں غیر متوقع امر یہ ہے جس نے کئی تجزیے غلط کردیئے کہ این ڈی اے بطور اتحاد جیتا لیکن کامیاب ہونے والوں میں اکثریت بی جے پی کی ہے وہ واحد جماعت کے طورپر بھی حکومت بنانے کی اہل ہے جبکہ ایسا ہو نہیں رہا ، نریندر مودی وزیراعظم ضرور ہوں گے لیکن حکومت مخلوط ہی بنے گی۔ انتخابات سے قبل بھارتی سینئر اخبار نویسوں صحافیوں کے اندازے تھے کہ این ڈی اے اتحاد تو جیتے گا لیکن بی جے پی کوعلاقائی جماعتوں کا تعاون حاصل کرنا ہوگا لیکن نتائج نے ثابت کیا کہ ایسا نہیں ۔

بھارتی تجزیہ کاروں نے کانگرس کی شکست کی وجہ اس جماعت کی اپنی کوتاہیوں کو قرار دیا کہ کانگرس اپنے اقتدار کے دنوں میں عوامی توقعات پر پورا نہیں اتری اور پھر کرپشن کے الزام نے اسے بے حال کیا ، انا ہزارے تحریک نے کانگرس کے گراف کو کافی گرادیاتھا۔ بی جے پی نے انتخابات کے لئے بہتر حکمت عملی بھی اپنائی اور کہیں پہلے نریندر مودی کو وزیراعظم کے طورپر نامزد کردیا، اس کے مقابلے میں کانگرس کوئی فیصلہ نہ کر پائی، چنانچہ ان انتخابات میں عوام نے متوقع فیصلہ نریندر مودی کے حق میں دے دیا۔

اب مستقبل کے بارے میں تجزیے شروع ہوگئے ہیں جن کا انحصار نریندر مودی کے ماضی کی سیاست اور اس کے مزاج پر ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ مودی سخت فیصلے کرے گا، ان کے انتخاب کے بعد وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مبارک باد کا پیغام بھیجا اور ساتھ ہی من موہن سنگھ کو دی جانے والی دعوت کا اعادہ کیا کہ پہلی دعوت بھی تو سخت حالات میں پاکستان کی طرف سے بھارت کے وزیراعظم کے لئے تھی، بہرحال ہنوز دلی دور است والی بات ہے۔ نریندر مودی پہلے تو خود حلف لے گا اور پھر ریاستی امور کی طرف توجہ ہوگی، پاکستان کی طرف زیادہ توجہ دی جائے گی کہ تنازعات ہیں تو تجارت کی بھی ضرورت ہے اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔

نریندر مودی پر یہ سرخ دھبا تو رہے گا کہ اس نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرایا ، ان انتخابات کے لئے اس نے مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے بہت پاپڑ بیلے، اب وہ مطمئن اور خوش ہے۔ جہاں تک پاک بھارت تعلقات کا مسئلہ ہے تو یہ ٹھیک کب تھے ؟ بھارتیہ جنتا پارٹی کا تعصب ظاہر ہے کانگرنس نے تو بغل میں چھری منہ میں رام والا فارمولا اپنا رکھا تھا، قارئین غور کریں تو یاد آئے گا کہ 1965ءسے کارگل تک ہونے والی پاک بھارت جنگیں کانگرس ہی کے دور اقتدار میں ہوئی تھیں اور کشمیر اٹوٹ انگ ہے کا راگ بھی الاپا جاتا رہا ہے، مذاکرات کا بائیکاٹ بھی کانگرس ہی نے کیا اور وزیراعظم من موہن سنگھ نے پاکستان کی بہ اصرار دعوت کے جواب میں یہاں کا دورہ نہیں کیا تھا اور آخری وقت تک ٹالتے رہے۔

بی جے پی ہو یا کانگرس یا کوئی اور جماعت پاکستان کے حوالے سے ان کی پالیسی اور سیاست متعصبانہ ہے۔ اس لئے اگر مودی سخت مو¿قف اختیار کرے تو تعجب نہیں ہونا چاہئے تاہم مبصرین کہتے ہیں کہ کرسی اقتدار پر آتے ہی آنکھیں بدل جاتی ہیں، اب انتخابات نہیں اقتدار ہے اس لئے نریندر مودی کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی، اب بڑھکوں کا کام نہیں ہے، اس لئے انتظار بہتر ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا تہنیتی پیغام اچھی کاوش ہے، فرض نبھا دیا اب مودی جانے اور اس کا کام ۔

تھوڑا سا موازنہ کرلیا جائے تو یوں ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں پیپلزپارٹی اور بھارت میں کانگرس کو محدود کیا گیا ہے۔ اس کی کل 58نشستیں ہیں اس کی طرف سے شکست تسلیم کرلی گئی ہے، سابقہ اقتدار کانگرس کو راس نہیں آیا اور اس دوران اس کی کمزوریاں اجاگر ہوتی چلی گئیں، یقیناً ایک بھاری بھر کم شخصیت کا نہ ہونا بھی شامل ہے کہ کانگرس قیادت کے بحران کا شکار بھی رہی ہے، اب انتظار کرنا چاہئے اور آنے والے وقت کے مثبت اور منفی ہر دو پہلو سامنے آجائیں گے۔ بہرحال ڈپلو میٹک محاذ پر وزیراعظم نے پہل کردی ہے، اس لئے جواب کیا آتا ہے یہ نریندر مودی کے حلف کے بعد معلوم ہوگا۔

مزید : تجزیہ