انڈونیشیا نے جنسی زیادتی کے ملزموں کا ”علاج“ ڈھونڈ لیا

انڈونیشیا نے جنسی زیادتی کے ملزموں کا ”علاج“ ڈھونڈ لیا
انڈونیشیا نے جنسی زیادتی کے ملزموں کا ”علاج“ ڈھونڈ لیا

  

جکارتہ (نیوز ڈیسک) انڈونیشیا کی حکومت اپنے ملک میں زیادتی کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ایک انوکھا طریقہ علاج اپنانے کا سوچ رہی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بچوں اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزموں کو ایک خاص قسم کا ٹیکہ لگایا جائے گا جس سے ملزم کی جنسی خواہش کم ہوجائے گی یا دوسرے الفاظ میں وہ کچھ عرصے کے لئے نامرد ہوجائے گا۔ انڈونیشیا کے صدر کے ترجمان جولین پاشا نے میڈیا کو بتایا کہ ابھی اس بات کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے لیکن وزارت صحت ان خطوط پر بہت سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ انڈونیشیا میں گزشتہ کچھ عرصے سے بچوں اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے متعدد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جس کے بعد حکومت تشویش کا شکار ہے۔ جنسی زیادتی کے ملزموں کے لئے یہ طریقہ جنوبی کوریا نے 2011ءمیں اپنایا تھا اور وہاں اس طرح کے کیسز میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ جبکہ دیگر ممالک میں پولینڈ، روس، الیٹونیا اور کچھ امریکی ریاستوں نے بھی یہ طریقہ آزمایا ہے اور اس کے کافی مثبت نتائج بھی ملے ہیں۔ یاد رہے کہ وطن عزیز پاکستان میں بھی یہ جنسی زیادتی کے کیسوں میں حالیہ سالوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس مسئلے کے حل کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس