’را‘کابستربوریا بند کرنے کافیصلہ ، سانحہ کراچی میں داعش نہیں ، راکے مقامی’ سہولت کاروں‘ کے ملوث ہونے کے شواہد ملے : رپورٹ

’را‘کابستربوریا بند کرنے کافیصلہ ، سانحہ کراچی میں داعش نہیں ، راکے مقامی’ ...
’را‘کابستربوریا بند کرنے کافیصلہ ، سانحہ کراچی میں داعش نہیں ، راکے مقامی’ سہولت کاروں‘ کے ملوث ہونے کے شواہد ملے : رپورٹ

  

کرا چی (مانیٹرنگ ڈیسک)سانحہ کراچی میں شدت پسند تنظیم داعش کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے تاہم بھارتی ایجنسی را اور اس کے مقامی سہولت کاروں کی طرف انگلیاں اُٹھنا شروع ہوگئی ہیں ، کچھ عرصہ قبل بھی سکولوں پر کریکرحملوں کے بعد داعش کے پمفلٹ پھینکے گئے لیکن پکڑے گئے شرپسند افراد سیاسی جماعت کے کارکنان نکلے جنہوں نے بعد میں اعتراف بھی کرلیا جبکہ حالیہ واقعے میں بھی کچھ ایسے ہی پمفلٹ پھینکے گئے جس کے بعد متعلقہ پرنٹنگ پریس پر چھاپہ مارکارروائی کے دوران ایک شخص کوپکڑاگیااورکراچی سے چھپنے والے ایک اخباراورایک سینئر صحافی نے سیاسی جماعت کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ دیاجبکہ پاک فوج نے اقتصادی کوریڈور کے شروع ہونے سے پہلے علاقے سے را کاقلع قمع کرنے کا فیصلہ کرلیاہے اور اس ضمن میں اہم پیغام بھی پہنچادیاگیا۔

نجی ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹرشاہد مسعود نے انکشاف کیاکہ اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ داعش کے ملوث ہونے کا سراغ نہیں ملاتاہم کالعدم تنظیم اور کچھ مقامی کارندے ملوث ہوسکتے ہیں ، کچھ عرصہ قبل ایک سیاسی جماعت کے کچھ کارکنان نے ایک سکول پر کریکراورداعش کے پمفلٹ پھینکے تھے جس کے بعد پکڑے گئے اور دوران تفتیش بتایاکہ اُنہیں کچھ علم نہیں ، حکم کے مطابق پمفلٹ پھینکے گئے اور اب سانحہ صفوراچورنگی میں تین پمفلٹ پھینکے گئے ، جہاں سے پمفلٹ چھپے تھے وہاں پر بھی چھاپے مارے گئے اور اعتراف بھی کرلیاگیا۔

ڈاکٹرشاہد مسعود نے کہاکہ کراس رابطے ہیں، وہی لوگ باربار کام کرتے ہیں ، اپناحلیہ بدلتے ہیں اوراس سے مختلف تاثر اور اہداف مقررکرتے ہیںتاکہ گروپوں میں واضح فرق نظرآئے ، کالعدم تنظیم کے کارکنان بناکرپکڑے ہیں اور سیاسی کارکن نکلتے ہیں ، داعش ایسا لفظ ہے جو پوری دنیا میں بکتاہے اوراب اس کا استعمال شروع کردیاگیا۔

دوسری طرف روزنامہ امت نے لکھاکہ کراچی میں بعض گرفتاریاں ہوئی ہیں لیکن تمام تر فوکس متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بڑھ رہا ہے۔ انٹیلی جنس ادارے حملے کانشانہ بننے والی بس میں پھینکے گئے داعش کے پمفلٹس کی حقیقت تک پہنچ چکے ہیں اورپمفلٹس کو چھاپنے والے پریس تک رسائی حاسل کرلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پریس کے ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ داعش کی جانب سے پھینکے جانے والے یہ اردو، انگریزی کے پمفلٹس آئی ایس آئی اور فوج کے خلاف الطاف حسین کی تقریری کے دنوں میں متحدہ نے چھپوائے تھے۔ انہی میں سے ایک پرچہ امریکی شہری کی لاش کے پاس پایا گیا، اور اب بس میں بھی ڈالا گیا۔ اس اہم پیشرفت سے ثابت ہورہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ ہی بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے کنکشن سے کراچی میں کارروائیاں کررہی ہے تاہم عسکری ذرائع نے اس پریس اور وہاں سے گرفتار کئے گئے افراد کی شناخت بتانے سے گریز کیا۔ دوسری جانب ٹیلی فون کالز کے حوالے سے بھی مزید معلوم ہوا ہے کہ وہ براہ راست بھارت کی گئی تھیں، ان پر کام جاری ہے ، مگر شک کا دائرہ متحدہ کے گرد گھوم رہا ہے۔

اخبار نے مزید لکھاکہ ”را“ کی اس کارروائی میں متحدہ تنہا نہیں ، کئی اور گروپس بھی اس کی مدد یا اس کے بغیر دشمن کا ایجنڈا پورا کررہے ہیں اور یہ کہ عسکری قیادت ان تمام گروپس کے خلاف کارروائی کا تہیہ کرچکی ہے۔ عسکری قیادت فیصلہ کرچکی ہے کہ اکنامک کوریڈور کے شروع ہونے تک پاکستان اور گردنواح سے ”را“کا بستر لپیٹ دیا جائے، اسی لئے بلوچستان میں سرچ آپریشن شروع کردئیے گئے ہیں جبکہ بھارت کو سفارتی ذریعے سے پیغام دے دیا گیا ہے کہ اگر ”را“ نے اپنی حرکتیں بند نہ کیں تو ایسا جواب دیا جائے گا، جسے وہ مدتوں یاد رکھے گا۔

مزید : قومی