ریڈیو پاکستان آج بھی آرٹسٹوں کے لئے یونیورسٹی کا درجہ رکھتا ہے،سید نور

ریڈیو پاکستان آج بھی آرٹسٹوں کے لئے یونیورسٹی کا درجہ رکھتا ہے،سید نور

لاہور(فلم رپورٹر)ریڈیو پاکستان ماضی کی طرح آج بھی آرٹسٹوں کے لئے یونیورسٹی کا درجہ رکھتا ہے ذرائع ابلاغ کے اس جد امجد نے پاکستان کی معاشرتی ترقی میں جو کردار ادا کیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا یہ باتیں لالی وڈ کے شو مین سید نور نے ریڈیو پاکستان لاہور کے معروف پروگرام’’ لاہور لاہور اے‘‘ میں انٹرویو کے دوران کہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پروگرام کا فارمیٹ لائق تحسین ہے اور میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ جب بھی ریڈیو پاکستان کے کسی پروگرام میں مجھے بطور مہمان بلایا جائے تو میں یہاں ضرور آؤں اور پاکستان فلم انڈسٹری کے حوالے اپنے خیالات اپنے سامعین کے ساتھ شئیر کرسکوں ۔سید نور نے کہا ہے کہ ایرانی ثقافت فلم کے ذریعے دنیا بھرمیں پھیلی ہے۔میں حال ہی میں ایرانی فلم فیسٹول میں شرکت کرکے آیا ہوں وہاں پر ملنے والی محبت کبھی فراموش نہیں کرپاؤں گا میں اس فیسٹول میں اپنی فلم ’’پرائس آف آنر ‘‘پیش کرنا چاہتا تھا لیکن وہ ابھی نامکمل ہے۔میں اگلے برس ایران میں ہونے والے فلم فیسٹول میں’’پرائس آف آنر‘‘اور بچوں کے لئے بنائی جانے والی فلم’’نور‘‘پیش کروں گا۔

ہمارے ملک میں وزارت ثقافت نہ ہونے کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ایرانی پروڈیوسرزہمارے ساتھ مشترکہ فلمسازی میں دلچسپی نہیں رکھتے البتہ ہماری خواہش پر وہ ہمیں تکنیکی سہولیات فراہم کرنے پر تیار ہیں۔

نور نے اس پروگرام کی میزبان افشاں بخاری کی کمپئیرنگ کی تعریف بھی کی اس پروگرام کے پروڈیوسر ذیشان احمد نگران اعلی ڈپٹی کنٹرولر پروگرامز ریڈیو پاکستان لاہور انیلہ سلیم اورایگزیکٹو پروڈیوسر اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان لاہور ساجد حسن درانی ہیں ۔

مزید : کلچر