’’میرا سوہنا شہر لاہور‘‘

’’میرا سوہنا شہر لاہور‘‘
’’میرا سوہنا شہر لاہور‘‘

  

لاہور شہر میں بسنے والے باشندے زندہ دِل،کھلے ذہن ہر قسم کے تعصبات سے پاک دوسروں کو آگے کرنے،درد مشترک قدر مشترک تہذیبی، ثقافتی، معاشرتی، اخلاقی اقدار کے دلدارہ ہیں۔ لاہور میں کھانے پینے کی اشیا میں ذائقے کا دُنیا بھر میں کوئی نعم البدل نہیں ہے۔دُنیا کے فائیوسٹار سیون سٹارز ہوٹلزمیں کھاناکھانے والے شہر لاہورکے چوکوں،چوراہوں تنگ گلیوں میں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کھانے کو ترجیح دیتے ہیں حتی کہ کسی کے پاس جیب میں رقم نہ بھی ہو تو دورسے دو کاندار یا اس کا یار دوست اس کا بازو پکڑ کر کہتا ہے تو کھا پی پیسے فیر آ جان گے باقی ’’داتا‘‘ یعنی اللہ کی نگری میں لاہور شہر میں حضرت علی بن عثمان المعروف گنج بخشؒ کا مزار اقدس پر ہزاروں زائرین، سمیت ہزاروں محنت کش پیٹ بھر کر کھانا کھا کر پر سکون نیند سوتے ہیں۔ لاہور شہر کے وسط میں نہر،فروزپورروڈ سے شاہدرہ چلنے والی میٹرو بس، اب اورنج لائن ٹرین دریائے راوی، باغات، بارہ دری، لاہورکا قلعہ، بادشاہی مسجد، مینارِ پاکستان سمیت بے شمار ٹورازم کے پوائنٹس ہیں جہاں افراد زندگی کے لمحات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔اندرون شہربارہ دروازے فوڈ سٹریٹس ،لکشمی چوک میں کڑاہی گوشت کے ریسٹورنٹ دیکھ کر ہی مُنہ میں پانی بھر آتا ہے۔کمشنر لاہور ڈویژن محمد عبداللہ خان سنبل شہر لاہور کے تاریخی ،ثقافتی،سیاحتی امیج کو عالمی سطح پراجاگر کرنے کے لئے کوشاں ہیں ان کا یہ کہنا کہ لاہور ایک ثقافتی شہر ہے اس شہر کی خوبصورتی اور تزہین وآرائش کیلے شہریوں کی جانب سے تجاویز کو خوش آمدید کہا جائے گا۔اس حوالے سے چند تجاویز ہیں شاہد کہ دل میں اُتر جائے بات۔

1۔ شہر کے داخلی وخارجی راستے لاہور شہر میں شاہدرہ،ملتان روڈ،فیروز پورروڈ،جی ٹی روڈ،سگیاں پل، راوی پل سے لوگ شہرلاہور میں داخل ہوتے ہیں،لہٰذا ان سڑکوں کے داخلی وخارجی راستے پر لاہور کی ثقافت کے حوالے سے خوش آمدید کے ہورڈنگ لگا ئے جائیں۔ واہگہ باڈر سے لاہور داخل والے غازیوں، مجاہدوں، شہداکی تصاویر پرمبنی داخلی راستے بنائے جا ئیں ۔

2۔ فیروز پور روڈپر لاہور ،ضلع قصور سے لاہور کی طرف علامہ محمد اقبالؒ ،ابوالاثر حفیظ جالندھری قومی ترانے کے خالق،اشفاق احمد رائٹر،مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور دیگر قومی شخصیات اِسی طرح قصور شہر کی طرف داخلی راستے کی پیشانی پر قومی شخصیات کے پورٹریٹ لگائے جائیں اور دروازے بنائے جائیں۔

3۔ شاہدرہ ،سگیاں سے دریائے راوی کے پلوں کی ترہین وآرائش کی جائے ان پلوں سے گاڑیوں کے گذارنے سے پہلے ٹال پلازے ختم کر دیئے گئے ہیں عمارتوں کا سڑکچرموجود ہ ہے۔

4۔ دریائے راوی پر شاہدرہ، سگیاں، موٹروے، ریلوے پل تک دریا کے کناروں پر جنگل لگایا جائے اگر مصنوعی جھیل بنادی جائے تواس میں کشتی رانی بھی ہو سکتی ہے آلودگی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

5۔ رنگ روڈ کی سروس روڈ کے ساتھ شجر کاری کی جائے۔

6۔مال روڈپر اونٹ گاڑی بچوں ،خواتین کی تفریح کے لئے چلائی گئی ہے تجویز ہے کہ مال روڈ کے علاوہ مین بلیوارڈ پر گھوڑوں کی ’’بگھی‘‘ بھی چلائی جائے ٹانگہ ، بگھی پر سفرلاہور کی ثقافت کا حصہ ہے۔

7۔ فیروز پور روڈ،جی ٹی روڈ،ملتان روڈ اسی طرح لاہور کی ہر بڑی سڑک کے ساتھ سروس روڈ بنائی گئی ہیں موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں سمیت آہستہ چلنے والی ٹریفک کو سروس روڈ پر منتقل کر دیا جائے تو ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی۔

8۔ اہم سڑکوں ،چوکوں ،چوراہوں،پر ٹریفک جام اس لئے نظر آئی ہے کہ جہاں سے سڑکوں پر موڑ آتا ہے، اِسی موٹر پر منی ویگنیں بالخصوص چنگ چی رکشوں کی بھر مار نظر آتی ہے، جنہوں نے پوری سڑک کو ایک سواری کیلے بلاک کیا ہوتا ہے، لہٰذا ضلعی انتظامیہ ٹریفک انتظامیہ سے مل کر اگر سڑکوں کے موڑ،پر منی ویگنوں ،رکشوں کو کھڑانہ ہونے دیں تو ٹریفک کے بہاومیں روانی بہت بہتر ہو جائے گی۔

9۔ تجاوزات نے لاہور کے حسن کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے لاہور میں مال روڈ ہی واحد روڈہے، جس کے فٹ پاتھ تجاوزات سے پاک ہیں جیل روڈ بھی کسی حد تک فٹ پاتھوں پر تجاوزات سے پاک ہے اس ضمن میں گزارش ہے کہ لاہور شہر کے تمام فٹ پاتھوں پر تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے پورے لاہور کی مارکیٹوں پلازوں کے مالکان،تاجر تنظیموں کے عہدیداران کا اجلاس بُلا کر انہیں باو ر کروایاجائے کہ فٹ پاتھ آپ کے نہیں پبلک کی ملکیت ہیں۔

10۔ اسلام پورہ انصاری روڈ لاہورپر دونوں اطراف میں دکانوں پر ایک سائز میں ایک خاص بیرو میٹر کے سائن بورڈ،شیڈز بنائے گئے ہیں، جس سے مارکیٹ کے حسن میں اضافہ ہواہے۔ ایک لائن میں سائن بورڈ سے گاہکوں کو دکان کی با آسانی شناخت اور بازار بھی کھلا کھلا لگتا ہے، لہٰذا بے جا ہورڈنگ بورڈز، جو دیواروں، سائیڈوال ،پر لگے ہوئے ہیں تاجروں کی مشاورت سے ’’ایک سائز ایک لائن ‘‘ میں ہو رڈنگزلگانے کا اہتمام کیا جائے۔فیروز پور روڈ،جی ٹی روڈ ،اندورن شہر کی تمام مارکیٹوں ،انارکلی بازار، اردوبازار ،سرکلر روڈ،راوی روڈ، شاہدرہ،ماڈل ٹاؤن ،پیکوروڈ،علامہ اقبال ٹاؤن سمیت ہر مارکیٹ میں ایک سائز میں ہورڈنگ بورڈ لگائے جائیں تو یہ دلکش نظارہ ہوگا۔

11۔مینارپاکستان پر ہر ہفتے دنگل ،کبڈی،شوٹنگ والی بالز کے مقابلوں کا انعقاد کر وایا جائے۔

12۔گُلِ داؤدی کا مقابلہ ریس کوریس میں ہر سال منعقد ہوتا ہے، لیکن لاہور میں PHA نے بہت سارے پارکس بنائے ہیں اور خاص کر DHA،ماڈل ٹاؤن اور دیگر ہاوسنگ سوسائٹیوں میں بھی گل داودی کی نمائش منعقد کی جائے، بلکہ میں تو کہوں گاکہ اس صحت مند خوشنما، خوبصورت شوق کے لئے سوسائٹیوں، یونیورسٹیوں پارک انتظامیہ کے درمیان مقابلے کروائے جائیں ان مقابلوں میں ضلعی انتظامیہ کے افسران PHA،ریٹائرڈ ججوں ، بیوروکریٹس صحافیوں ،سماجی افراد کا پینل بنایا جائے تاکہ معاشرے میں گُلِ داؤدی کا ذوق و شوق پیداہو۔

13۔لاہور کے کینٹ ایریا میں ہر چوک ،موڑ، اہم پبلک مقامات پر قرآن وحدیث اسماالحسنیٰ کے سائن بورڈ آویزاں ہیں، لہٰذا لاہورکے تمام چوکوں ،چوراہوں پبلک مقامات،تفریح گاہوں کے باہر قرآن وحدیث کے ترجمے پر مبنی بورڈ آویزاں کیے جائیں۔

14۔لاہور شہر میں داخل ہونے سے قبل شاہدرہ، سگیاں،فیروزپورروڈ،ملتان روڈ،جی ٹی روڈ پر شہر کے اہم مقامات پر جانے کے لئے استقبالیہ(آگاہی)کیمپ مستقل طور پر بنائے جائیں تاکہ بیرون شہروں سے آنے والے حضرات کو ان کی منزل مقصود پر پہنچنے کے لئے رہنمائی مل سکے۔

15۔شہر کے تمام داخلی راستوں پر الیکٹرانک سکرینیں لگائی جائیں، جو موسم کے حالات ،ٹمپریچر اہم قومی خبریں نشر کریں۔

16۔ رنگ روڈ،پر نیازی چوک سے شیراکوٹ تک ایک طرف کی سائیڈوال اونچی کر دی جائے اور اس کے اوپر تار لگائی جائے،کیونکہ اس علاقے میں آبادی کا سڑک کے آر پار فلو بہت زیادہ ہے اوورہیڈ برج بھی موجود ہیں، لیکن لوگ اوور ہیڈ کو استعمال کرنے کی بجائے سڑک کی سائیڈ والی جو 3فٹ اونچائی پر مشتمل ہے اس کو با آسانی عبور کرتے ہیں۔تیز ٹریفک کے بہاو میں خلل اور آئے روز ٹریفک حادثات ہوتے ہیں نیازی چوک سے محمود بوٹی ،لکھوڈیر تک اور اس سے آگے سائیڈوال کو ایک طرف سے اونچا کرنے سے ٹریفک کے بہاو میں کوئی خلل نہیںآرہا اور سڑک سفر کے لئے محفوظ اور ڈسپلن نظر آتا ہے ۔

17۔ اندرون شہر کے تمام دروازوں،پر اسلامی ثقافت پر مبنی تزئین و آرائش کی جائے۔

18۔ مینارِ پاکستان فلائی اوور کے درمیان گھنٹہ گھر تعمیر کیا جائے۔

19۔ لیڈی و لنگڈن ہسپتال ،ڈی سی او آفس لاہور،پی ایم جی پوسٹ ماسٹر جنرل بلڈنگ ،گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی بلڈنگ کو بھی مال روڈ کی طرز پر روشن کیا جائے۔

20 ۔ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے مین گیٹ کے ساتھ نصب پاک فضائیہ کے شاہین صفت اسکو رڈن لیڈر ایم ایم عالم (مرحوم)کے زیراستعمال سیبر طیارے کی مزید تزئین وآرائش کے ساتھ ایم ایم عالم کا پورٹریٹ اور سوانح عمری ان کے کارناموں پر مبنی بورڈ آویزاں کیا جائے ۔

21۔ لاہور شہر کے درمیان سے گزرنے والی نہر میں مختلف نسل کے آبی پرندوں کوچھوڑا جائے نہر کے کنارے ان کے Hutsبنائے جائیں تاکہ نہر میں مزید خوبصورت ماحول پیدا ہو۔ 

22۔ میٹروبس روٹ کے ٹریک کے پلرز،جو سادہ حالت میں ہیں ان پر نقش ونگار کیا جائے۔ *

مزید :

کالم -