بجٹ 2015-16ء: چند تجاویز

بجٹ 2015-16ء: چند تجاویز
بجٹ 2015-16ء: چند تجاویز

  



پاکستان کے مالی سال 2014-15ء کے اختتام میں تقریباً ڈیڑھ ماہ باقی ہے۔ ملک بھر میں ہر سال نئے بجٹ سے پہلے پری بجٹ ،بجٹ سیمینارز اور میٹنگز منعقد ہوتی ہیں ،نیز پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعہ عوام کے مختلف طبقات کی آراء حکومت تک پہنچائی جاتی ہیں تاکہ آنے والے بجٹ کے خدوخال تشکیل دینے میں آسانی رہے۔ اگرچہ المیہ یہ ہے کہ حکومت عوام کی ان تجاویز کو درخور اعتناء نہیں سمجھتی ،لیکن اس کے باوجود اس قسم کی مشق قومی سطح تک کی جانی ضروری ہوتی ہے، تاکہ قوم کے اقتصادی اہداف کا تعین کر کے ان کے حصول کی کوششیں کی جا سکیں اور قوم کی صحیح معاشی منزل کی نشاندہی کی جا سکے۔ گزشتہ مالی سال کی معاشی سرگرمیوں کا تنقیدی جائزہ لینے سے نئے اہداف کا مقرر کیا جانا آسان ہو سکتا ہے ،کیونکہ قومی بجٹ ایک ایسی دستاویز ہوتی ہے ،جس کے اندر ملک کی خوشحالی کی منزل کی سمت کا تعین مخفی ہوتا ہے ،جس سے اسے حاصل کرنے کے لئے اُٹھائے جانے والے اقدامات کا نقشہ اُبھر کر سامنے آتا ہے۔

ترقی پذیر ممالک کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ان ممالک میں باالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار ہوتی ہے اور چونکہ لوگوں کی ادائیگی کی اہلیت کو مد نظر نہیں رکھا جاتا۔ اس لئے پسے ہوئے طبقات کو ہی ٹیکسوں کے زیر بار ہونا پڑتا ہے اس لئے ان ممالک میں خوشحالی کا خواب ادھورا ہی رہتا ہے ۔پاکستان میں بھی ٹیکسوں کا بالواسطہ نظام رائج رہا ہے اور بلا واسطہ ٹیکس آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔ 90 فیصد ٹیکس بالواسطہ ہیں جو نا انصافی پر مبنی ہے ۔لاکھوں لوگ جو ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ اس ادائیگی سے بچ جاتے ہیں ۔عوام پر یہ ظالمانہ نظام اس قدر مسلط ہو چکا ہے کہ ہم ابھی تک غربت کو اپنے معاشرے سے کم نہیں کر سکے ،بلکہ پچھلے کچھ سال میں اس میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً ساڑھے چھ کروڑ افراد غربت کی سطح یا اس سے نیچے رہ کر زندگی گزار رہے ہیں۔

2014-15ء کی بجٹ دستاویز کے مطابق پاکستان میں فی کس آمدنی 2 ڈالر یومیہ سے بھی کم ہے۔ بڑھتی ہوئی اس غربت کی وجہ سے پاکستان کے قومی محاصل سے ہونے والی آمدنی بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ جب تک اس آمدنی کو بڑھانے کے لئے ٹیکس نظام میں اصلاحات نہیں ہوں گی غربت کا یہ عفریت عوام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکھڑا رہے گا۔ پاکستان کے محاصل کی زیادہ تر آمدن ہمیں کارپوریٹ سیکٹر سے حاصل ہوتی ہے۔ اس شعبے میں روز بروز توانائی کی کمی کی وجہ سے لاگت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاری کے تحفظ کا بھی انتظام نہیں ہے ،کیونکہ ٹیکس اکٹھا کرنے والی مشینری کے عمال اس قدر بد عنوان ہیں کہ اس شعبے کو بڑھنے سے روک رہے ہیں اور ملک کا سرمایہ ملک سے باہر منتقل ہو رہا ہے ۔سرمائے کی یہ منتقلی اس قدر زیادہ ہے کہ آئندہ ایک عشرے تک پاکستان کی سرمایہ کاری کی شرح اس قدر کم ہو جائے گی جس سے بیروزگاری 30فیصد تک ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لئے ٹیکس مشینری سے بد عنوانی کا خاتمہ ہماری ،اس وقت سب سے بڑی کوشش ہونی چاہئے۔ کیونکہ توانائی کے بحران اور ٹیکس مشینری کی بدعنوانی نے سرمایہ کاری کی فضا کو پنپنے سے روکا ہوا ہے۔ پاکستان میں بیروزگاری کی شرح دنیا کے دوسرے ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ بیروزگاری کے اس بڑھتے ہوئے رجحان اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری کی شرح کم ترین سطح پر ہے۔ پاکستان کا میزانیہ مرتب کرتے وقت اقتصادی ماہرین کے زیر نظر بجٹ خسارہ کم کرنے کا ہدف سب سے اہم ہونا چاہئے، لیکن موجودہ حالات میں پاکستان کا بجٹ خسارہ کم ہوتا نظر نہیں آ رہا ،کیونکہ سرمایہ کاری کے شعبے میں انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے ،یہی وجہ ہے کہ ٹیکس کے نظام میں محاصل بڑھانا مشکل نظر آتا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ماہرین ٹیکس نیٹ بڑھانے میں کامیاب ہوں گے۔ ٹیکس ادا کرنے والے عوام کو مزید نچوڑنے کی بجائے نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانا نہایت ضروری ہے ،اگر ایسا کر لیا جاتا ہے تو معاشی ماہرین کے اندازوں کے مطابق 2000 سے 3000 ارب روپے کی اضافی آمدنی کی توقع کی جا سکتی ہے ،کیونکہ ہماری معیشت میں اتنے بڑھاوے کی گنجائش موجود ہے۔ ااگر 50 لاکھ افراد مزید ٹیکس سسٹم میں شامل کر لئے جائیں تو بجٹ خسارہ محض 2فیصد کی سطح پر لایا جا سکتا ہے۔ اس وقت جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح 10فیصد سے بھی کم ہے،جبکہ 50فیصدافراد ٹیکس کی ادائیگی سے مبرا ہیں۔ ہمارے محاصل کا زیادہ تر انحصار کارپوریٹ اور سروسز سیکٹر کی کارکردگی پر ہے۔ سروسز سیکٹر کاقومی آمدنی میں حصہ تقریباً 30فیصد ہے جو ملک میں 35فیصد ملازمتیں فراہم کرتا ہے، جبکہ زراعت کے شعبے کی ٹیکس ادائیگی میں کارکردگی محض 15فیصد تک محدود ہے، کیونکہ یہ شعبہ فی الحال بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اگر زراعت کا شعبہ بلاواسطہ ٹیکس کی ادائیگی کرے تو یہ قومی آمدنی میں 1000 سے 1500 ارب روپے کی آمدنی مہیا کر سکتا ہے۔

مندرجہ بالا بحث سے یہ بات عیاں ہے کہ اگر توانائی کے بحران پر قابو پا لیا جائے اور ٹیکس کے موجودہ نظام میں خرابیاں دور کرلی جائیں تو ہمیں 2000 روپے کے مزید وسائل مہیا ہو سکتے ہیں۔ توانائی بحران کی وجہ سے ہر سال تقریباً 500 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بجلی کی فی یونٹ پیداواری لاگت 18.50 روپے بنتی ہے، جس پر سب سڈی ادا کر کے عوام کو کم نرخوں پر بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ سبسڈی حکومت بجلی مہیا کرنے والے اداروں کواداکرتی ہے اس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سرکلر ڈیٹ میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے اور بڑھتے بڑھتے سال کے آخر تک 500 ارب روپے سے بھی بڑھ جاتا ہے جو ایک بہت بڑی رقم ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کی عدم دستیابی سے کارپوریٹ سیکٹر کو جو نقصان پہنچتا ہے ،اس کا ذکر مضمون کے پہلے حصہ میں آ چکا ہے۔ اگرچہ اس سال بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اور ڈالر کی قدر میں بھی کمی ہوئی ہے، لیکن ان مثبت حالات کے باوجود بجٹ خسارہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔

تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ملک کو اب تک 4 بلین ڈالر کی بچت کی توقع ہے۔ اگر اس میں ڈالر کی قدر میں کمی کو ملا کر دیکھا جائے تو تجارتی خسارے میں اضافہ باعث تشویش ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی قومی آمدنی کا 31 فی صد حصہ قرضوں کی ادائیگی کی نذر ہو رہا ہے، جو بہت بڑی شرح ہے۔ اگر ہم اپنا بجٹ خسارہ کم کر لیں اور محاصل میں ہونے والی آمدنی میں اضافہ کر لیں تو ہماری معیشت توانا ہو سکتی ہے۔ غیر ملکی تجارتی خسارہ بھی ایک ایسا منفی پہلو ہے جس پر توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔ موجودہ مالی سال کے اختتام تک یہ خسارہ 20 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے اور اگر غیر ممالک میں مقیم پاکستانی تقریباً 13 ارب ڈالر سالانہ نہ بھیجیں تو ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر ملکی معیشت پر خسارہ کا یہ بوجھ برداشت نہ کر سکیں۔ یہ عناصر ہماری معاشی ترقی کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔

اس سال بین الاقوامی تجارت میں خسارے میں کمی آنی چاہئے تھی لیکن ہماری معاشی کارکردگی بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ مندرجہ بالا وجوہ کی بنا پر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔ ہمارے سیاسی اکابرین یہ نوید دے رہے ہیں کہ آئندہ سال جی ڈی پی کے گروتھ ریٹ کو 4 فیصد تک لے جایا جائے گا۔ اس بیان کی صداقت اسی وقت ثابت ہو گی جب ملک میں بیروزگاری کی شرح کم ہو گی اور غربت کے انڈیکس میں کمی ہو گی۔ افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ ملک میں اس وقت ٹیکس دہندگان کی تعداد 856219 رہ گئی ہے، جبکہ 2011ء میں یہ تعداد 1443414 تھی۔ ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہونا کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ملک میں ڈائریکٹ ٹیکسیشن نظام کی بنیاد رکھی جائے۔ غربت میں کمی اسی صورت میں واقع ہو سکتی ہے ،اگر ہم ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے لوگوں سے ٹیکس وصول کریں۔

اس وقت ہمارے نہایت ہی اہم مسائل امن و امان کی صورتِ حال کا دگرگوں شکل میں موجود ہونا، توانائی کے بحران کا ختم نہ ہونا، ترقیاتی کاموں میں زیادہ سے زیادہ فنڈ کی فراہمی کا انتظام ہونا اور محاصل حاصل کرنے کے لئے اضافی ٹیکس نیٹ کا پیدا نہ کرنا ہے۔ اس وقت ٹرانسپورٹ سیکٹر، پیشہ ور افراد کو،جن میں ڈاکٹر، وکلاء ا ور دیگر پیشوں سے متعلق لوگ ہیں ،اس قومی معاشی پالیسی میں حصہ ادا کرنے پر مجبور کیا جانا ضروری ہے۔ اس وقت تعلیم کے میدان میں ایک ایسا مافیا کام کر رہا ہے جو تعلیم کے نام پر لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہے ،ایک وسیع نیٹ ورک کے طور پر پھیل چکا ہے ،لیکن وہ ٹیکس ادا کرنے سے مستثنیٰ ہے۔ حکومت کو اس وقت سب سے زیادہ توجہ تعلیم کے شعبے اور صحت کے سیکٹر کی ترقی پر دینی چاہئے اور ان شعبہ جات کے لئے مزید فنڈز مخصوص کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت تعلیم اور صحت کے شعبوں پر حکومت 1.8 فیصد اور دو فیصد خرچ کر رہی ہے جو شرمناک حد تک کم ہے کیونکہ ان دونوں شعبوں کی ترقی کے بغیر صحت مند قوم کی تشکیل نا ممکن ہے۔ تعلیم یافتہ اور صحت مند قوم ہی ترقی کے لئے زینے کا کام دے سکتی ہے اس لئے جہاں تعمیراتی کاموں پر بے دریغ اخراجات کئے جا رہے ہیں ان دونوں شعبوں کو وافر فنڈز مہیا کر کے قوم کی پسماندگی کو دور کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ *

مزید : کالم