اخوان المسلمون کے رہنماؤں کی ابتلا و آزمائش کا نیا دور

اخوان المسلمون کے رہنماؤں کی ابتلا و آزمائش کا نیا دور

مصر کے سابق صدر محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے مرشدِ عام محمد بدیع سمیت اخوان المسلمون کے106 رہنماؤں کو موت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ ان پر حسنی مبارک کے دور میں ان کے خلاف تحریک کے دوران جیل توڑنے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ ان پر سرکاری راز افشا کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ محمد مرسی ایک دوسرے مقدمے میں پہلے ہی20برس قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔۔۔اخوان المسلمون کے قیام سے لے کر اب تک اس کے رہنما ہمیشہ دار ورسن کی آزمائش سے دوچار رہے، پھانسیوں کی سزاؤں کے باوجود ان رہنماؤں نے دعوت و عزیمت کا راستہ نہیں چھوڑا اور قدم بہ قدم آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ مصر کے پہلے آزادانہ صدارتی انتخابات میں محمد مرسی اپنے حریف فوج کے حمایت یافتہ امیدوار کو شکست دے کر صدر منتخب ہو گئے، لیکن انہیں چین سے حکومت نہ کرنے دی گئی اور ان کے خلاف سازشوں کے جال پھیلائے گئے، اسرائیل اور بہت سے دوسرے ممالک بھی ان کے خلاف متحرک تھے، کیونکہ انہوں نے فلسطین کا مصر سے رابطہ بحال کر دیا تھا، چنانچہ اسرائیل نے اپنے حامی عناصر کے ذریعے اُن کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع کرایا، پھر فوج نے اُن کا تختہ اُلٹ دیا۔اقتدار سے محروم ہونے کے بعد محمد مرسی کو قید و بند کا سامنا رہا اور اب انہیں موت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عالمی ہنماؤں نے ان سزاؤں کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔امریکہ نے بھی سزاؤں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مصر کے عدالتی نظام کو انتہائی ناقص قرار دیا۔ ترکی کے صدر طیب اردوان نے کہا ہے کہ مصر فرعون کے دور کی طرف واپس جا رہا ہے۔ محمد مرسی اور اُن کے حامیوں نے سزا کو مسترد کر دیا ہے۔ جب ساری دُنیا کو فیصلے پر تحفظات ہوں تو ایسے فیصلے کو حمایت حاصل نہیں ہو سکتی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اخوان المسلمون کو عوامی ہمدردی کی سزا دی جا رہی ہے، جس کا اظہار اس جماعت نے ہمیشہ کیا ہے۔ محمد مرسی بھی عوام کے ووٹوں سے برسر اقتدار آئے تھے، لیکن ایک سال کے اندر اندر فوج نے انہیں اقتدار سے محروم کر دیا۔ عدالت نے اخوان المسلمون کے رہنماؤں کو سزائیں توسنا دی ہیں، ممکن ہے کسی مرحلے پر ان سزاؤں پر عمل درآمد بھی ہو جائے، لیکن اس جماعت کی تاریخ گواہ ہے کہ تشدد کے ہتھکنڈوں سے اس کا خاتمہ ممکن نہیں، ایسی کارروائیوں کے بعد یہ جماعت ہمیشہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئی ہے اور یہ واحد جماعت ہے،جس سے تعلق رکھنے والا امیدوار عوام کے ووٹوں سے صدر منتخب ہوا۔ *

مزید : اداریہ