کراچی کے امراض کی درست تشخیص

کراچی کے امراض کی درست تشخیص

کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے کہا ہے کہ متوازی حکومتوں اور طاقت کے مراکز کا خاتمہ کرنا ہو گا، پولیس اور انتظامیہ کو آزاد ہونے کی ضرورت ہے۔کراچی میں امن کے لئے کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا،کئی بتوں کو توڑ دیا ہے کراچی میں ہر قسم کے جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری ہے،جس میں ناکام ہونے کا آپشن نہیں ہے، کراچی میں منشیات فروشوں سے لے کر القاعدہ تک نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں،مافیا نے مضافاتی علاقوں کو اپنا گڑھ بنا لیا ہے، ان چیلنجوں سے نپٹنے کے لئے غیر معمولی طریقہ اپنانا ہو گا اور ہر ممکن اقدامات کرنا ہوں گے، سیکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانی کو ضائع نہیں ہونے دیں گے، کراچی میں امن کی بحالی تک آپریشن جاری رہے گا، ہر قسم کی دہشت گردی اور اُن کے سہولت کاروں کا خاتمہ کر دیں گے۔سیاست کو تشدد سے پاک اور میڈیا کو خوف سے آزاد ہونا چاہئے۔ سٹیک ہولڈروں کو مافیا کی حمایت،مفادات اور مصلحتیں چھوڑنا ہوں گی، غلطیاں درست کرنے کا وقت آ گیا ، غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔ سیاسی اور انتظامی اوور ہالنگ ضروری ہے، لسانی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے مصالحتی کمیشن بننا چاہئے، تعلیم، صحت، روزگار پر توجہ دینا ہو گی، دہشت گردوں کی پیچیدہ گرہیں کھولی جا رہی ہیں، آپریشن کے نتیجے میں ہم روز بروز بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں امن، سیکیورٹی اور گورننس کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔

کور کمانڈر کراچی نے کراچی کے مسائل کی تشخیص بالکل درست کی ہے اور اس تشخیص کی روشنی میں کراچی کے دُکھوں کا مداوا کیا جا رہا ہے، موجودہ آپریشن تقریباً ڈیڑھ سال قبل شروع کیا گیا تھا اور بلاشبہ اِس کے نتیجے میں حالات میں بہتری آئی ہے، بھتہ خوری کی وارداتیں کم ہو گئی ہیں، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اگرچہ اب بھی ہوتے ہیں اور گزشتہ دِنوں پولیس افسروں، کراچی یونیورسٹیوں کے پروفیسروں، ایک سوشل ورکر خاتون وغیرہ کو نشانہ بنایا گیا حالیہ ہفتوں کا سب سے بڑا واقعہ صفورا چورنگی میں بس کو یرغمال بنا کر مسافروں کا قتلِ عام ہے، جس میں کم از کم45جانیں گئیں اور یہ واقعہ پشاور کے آرمی پبلک سکول کے بعد اپنی نوعیت کا ہولناک ترین واقعہ ہے تاہم اس کے باوجود اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں کم ہو گئی ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اب وہ مایوسی کے عالم میں اِکا دُکا وارداتیں کرنے میں کامیاب ضرور ہو جاتے ہیں، جن میں سے بعض بہت سنگین بھی ہیں تاہم حالات بہتری کی طرف ضرور مائل ہیں اور شہر کے بہت سے نوگو ایریاز بھی ختم کر دیئے گئے ہیں۔

کراچی گزشتہ کئی عشروں سے جس بدامنی کا شکار چلا آ رہا ہے، اس نے اِس شہر کا حسن گہنا دیا ہے۔ یہ شہر کبھی امن و امان کا گہوارہ تھا، مُلک بھر کے لوگ یہاں پیار و محبت سے رہتے تھے، پھر یکایک نفرتوں کی آندھی چلی، جس نے سب کچھ اڑا دیا، شہر میں پہلے لسانی فسادات کو تو اب لگ بھگ نصف صدی کا عرصہ بیتنے والا ہے، لیکن اس کے بعد 80ء کے عشرے میں شہر کا امن برباد ہونا شروع ہوا،تو برباد ہی ہوتا چلا گیا، قتل و استہلاک کی وارداتیں بڑھ گئیں اور جوں جوں وقت گزرتا گیا سنگین سے سنگین نوعیت کے واقعات بھی ہونے لگے، ابھی چند روز پہلے 12مئی کا دن گزرا، جب کراچی کی سڑکوں کو خون سے نہلا دیا گیا، اس روز اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کراچی کے دورے پر گئے تھے، جنہیں ایئر پورٹ سے باہر نہ نکلنے دیا گیا، وہ وہاں محصور تھے اور پورے شہر میں آگ اور خون کا کھیل کھیلا جا رہا تھا، سڑکیں بڑے بڑے کنٹینر لگا کر بند کر دی گئی تھیں اور دہشت گرد کھلے عام گولیاں چلاتے پھرتے اور لوگوں کو قتل کرتے پھرتے تھے،میڈیا ہاؤسز پر بھی حملے کئے گئے، سارا دن کراچی میں یہ کھیل کھیلا گیا اور اسی شب اسلام آباد کے جلسے میں مٹھیاں بھینچ کر جنرل پرویز مشرف اس درندگی کو عوام کی قوت کے مظاہرے سے تعبیر کر رہے تھے۔ عقل ودانش طاقت کے اس کھیل پر پشیمان تھی اور کچھ لوگ اس پر اظہار مسرت کر رہے تھے۔ پھر2007ء میں18اکتوبر کو بے نظیر بھٹو جب جلاوطنی سے واپس آئیں، تو اُن کے استقبالی جلوس میں دو خونریز دھماکے ہوئے، جن میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد لقمہ اجل بن گئے، بے نظیر بھٹو اس حملے میں تو بچ گئیں، لیکن دو ماہ دس دن بعد راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اُن کی جان لے لی گئی، کیا کراچی میں اُن کو مارنے کی کوشش کرنے والے راولپنڈی تک اُن کا پیچھا کر رہے تھے؟ اُسی روز راولپنڈی میں ایک دوسرے مقام پر میاں نواز شریف کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں وہ بچ گئے، لیکن اُن کے کئی کارکن جاں بحق ہو گئے۔اِسی کراچی میں بلدیہ ٹاؤن میں آتشزدگی کا سانحہ ہو چکا ہے، جس کے بارے میں اب ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں کہ یہ حادثہ نہیں تھا اور بھتہ نہ دینے پر مالکان کو سبق سکھانے کے لئے جان بوجھ کر فیکٹری کو آگ لگائی گئی، اب جے آئی ٹی اس حادثہ فاجعہ کی از سر نو تحقیقات کر کے یہ معلوم کر رہی ہے کہ یہ حادثہ تھا یا کسی نے جان بوجھ کر آگ لگائی، اِسی طرح اس شہر میں وکلا کو بھی زندہ جلایا گیا۔

یہ سارے واقعات اس وقت یاد آ جاتے ہیں، جب شہر میں امن کی بحالی کی بات کی جاتی ہے، جرائم اور سیاست یہاں گلے ملتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان سب جرائم کے پس منظر میں سیاست بھی کار فرما نظر آتی ہے۔ اِس وقت رینجرز کی نگرانی میں جو آپریشن جاری ہے اس میں اغوا کاروں، بھتہ خوروں اور دہشت گردوں کا پیچھا کیا جا رہا ہے، بڑی تعداد میں جرائم پیشہ لوگ گرفتار ہوئے ہیں، جنہوں نے ہولناک انکشافات بھی کئے ہیں۔ اِس پس منظر میں کور کمانڈر کراچی کی یہ تشخیص بالکل درست ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کو آزاد ہونے اور متوازی حکومتوں اور طاقت کے مراکز کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس میں سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے پولیس بھی سیاست کے زیر اثر ہے اور آپریشن کی کا میابی اور ناکامی میں پولیس کا بھی کردار ہے، دہشت گردوں نے پولیس کو ہمیشہ نشانے پر رکھا ہے اور انہیں چُن چُن کر قتل کیا گیا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے پولیس کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا ۔ دہشت گرد پولیس کو اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھ کر انہیں خصوصی طور پر نشانہ بناتے ہیں۔سپریم کورٹ نے کراچی کی صورت حال پر اپنے تفصیلی فیصلے میں جن امور کی نشاندہی کی تھی اور جو اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی تھی اگر ان پر عمل کیا جاتا تو معاملات بڑی حد تک روبہ اصلاح ہو سکتے تھے، موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فیصلے کو متعلقہ ادارے دوبارہ غور سے پڑھیں اور رہنمائی حاصل کریں۔لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کے خطاب میں بھی رہنمائی کا وافر مواد موجود ہے انہوں نے بڑی حد تک کراچی کی بدامنی کے عوامل کی درست نشاندہی کر دی ہے، ضرورت صرف یہ ہے کہ اس تشخیص کی روشنی میں علاج بھی درست کیا جائے تو مرض کی اصلاح ہو سکتی ہے۔اگر مصلحتیں آڑے آ گئیں تو پھر شاید یہ آپریشن بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکے ،لیکن کور کمانڈر نے درست کہا کہ اب ہمارے پاس ناکامی کاآپشن نہیں ہے۔

مزید : اداریہ