2018 تک لوڈ شیڈنگ اور انرجی بحران کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا

2018 تک لوڈ شیڈنگ اور انرجی بحران کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا

لاہور )وقائع نگار) وزیر قانون، ایکسائز و ٹیکسیشن ، خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا ہے کہ 2018 تک لوڈ شیڈنگ اور انرجی بحران کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے روزگار کے بھی وسیع مواقع مہیا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اندرون و بیرون ملک چین کی سرمایہ کاری سے کئی لوگ خوش نہیں ہیں تاہم ملک میں دن بدن بیرون سرمایہ کاری ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی زر مبادلہ بھیجنے کا اہم ذریعہ ہیں اور یہی پاکستانی متعلقہ ممالک میں پاکستان کے سفیر بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں مسلم لیگ (ن) جاپان کے زیر اہتمام منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے وزیراعلی کے مشیر خواجہ احمد حسان ، ایم این اے شائستہ پرویز، ایم پی اے خواجہ ظہور و دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذہین و ہونہار نوجوان ہمارا مستقبل اور قوم کا اثاثہ ہیں اور وطن عزیز کو درپیش ہمہ نوعیت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے نوجوان بہترین ذہانت اور عمدہ صلاحیتوں کو استعمال میں لائیں، حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی ۔

علاوہ ازیں بلڈ پریشر کے عالمی دن کے موقع کے حوالے سے ڈاکٹرز اور عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ حکومت عوام کو پیچیدہ بیماریوں کے موثر علاج کے لئے وسائل کی ری جنریشن کے ذریعے سٹیٹ آف دی آرٹ طبی سہولتیں مہیا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر جیسی مہلک بیماریوں کے علاج معالجہ کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں شعبہ امراض قلب کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیچنگ ہسپتالوں میں بلڈ پریشر اور امراض قلب جدید تشخیصی آلات فراہم کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پیچیدہ بیماریوں کی وجہ سے حکومتوں کے بجٹ کا زیادہ تر حصہ ہسپتالوں کو فراہم کرنا پڑتا ہے اور ترقی پذیر ممالک میں پیچیدہ امراض کی زیادتی ، ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کرتی ہے۔ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ڈاکٹرز سے کہا کہ وہ عوام کو علاج معالجہ کی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں احتیاطی تدابیر بارے شعور اجاگر کریں اور اس کے لیے موثر مہم شروع کی جائے کیونکہ امراض قلب و دیگر مہلک بیماریوں کا علاج انتہائی مہنگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امراض گردہ میں مبتلاغریب مریضوں کو مفت ڈائیلاسسز و ادویات کے لئے گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنے فنڈز 60 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں اور کم وسائل رکھنے والے لوگوں کو تشخیص و ادویات کی فراہمی کے لئے 8 ارب 75 کروڑ روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔

مزید : کامرس