گندم کو ذخیرہ کرتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ،محکمہ زراعت

گندم کو ذخیرہ کرتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ،محکمہ زراعت

راولپنڈی (این این آئی)محکمہ زراعت پنجاب راولپنڈی کے ترجمان نے گندم کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گندم کو گوداموں، بھڑولوں میں ذخیرہ کرنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ترجمان کے مطابق ہر سال5سے 15فیصد غلہ ان کیڑوں کی نذر ہو جاتا ہے اس مجموعی نقصان کی اہمیت کا ا ندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہم ملک میں پیدا شدہ غلہ کو ان موذی کیڑوں کے حملے سے بچاسکیں تو ہم اپنی خوراک کی ضرورت کو پورا کرنے کے علاوہ گندم کی برآمد سے کثیر زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔ غلہ کو نقصان پہچانے والے نقصان رساں کیڑے عموماً گوداموں میں پڑی ہوئی استعمال شدہ بوریوں میں موجود ہوتے ہیں۔ جب غلہ بھرنے کے لیے ان بوریوں کو دوبارہ استعمال میں لایا جاتا ہے تو یہ کیڑے غلہ میں داخل ہو جاتے ہیں بعض اوقات جب نئی بوریوں کو گوداموں میں پرانی بوریوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے تو یہ کیڑے نئی بوریوں میں داخل ہوجاتے ہیں اور اپنی نسل بڑھا کر ذخیرہ شدہ غلہ کے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ گوداموں کی صفائی کے وقت ضائع شدہ غلہ اور گردوغبار کو گوداموں کے قریب پھینک دیا جاتا ہے جس سے یہ نقصان رساں کیڑے اڑکر یا رینگ کر واپس گوداموں میں پہنچ جاتے ہیں اور دوبارحملے کا باعث بنتے ہیں ۔

جس گودام میں غلہ ذخیرہ کرنا مقصود ہو وہاں سے پرانے دانوں ، بھوسے کے تنکوں اور مٹی وغیرہ کو اچھی طرح صاف کرلیں۔گودام کے فرش ، دیواروں اور چھتوں کی مرمت کریں اور ان میں موجود سوراخوں کو اچھی طرح بند کردیں۔

مزید : کامرس