صوبائی حقوق پر وفاق کے ساتھ معاملات طے،بجلی منافع کی مد میں 112 ارب روپے ملیں گے،پرویز خٹک

صوبائی حقوق پر وفاق کے ساتھ معاملات طے،بجلی منافع کی مد میں 112 ارب روپے ملیں ...

 پشاور( پاکستان نیوز)وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وفاق اور خیبرپختونخوا کے مابین صوبائی حقوق کے حوالے سے تمام اُمور پر تفصیلی بات چیت ہوچکی ہے اور اس بارے میں سفارشات مرتب کرلی گئی ہیں جو مشترکہ مفادات کونسل میں منظوری کیلئے پیش کی جائیں گی بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق سالانہ 17 ارب روپے سالانہ کے علاوہ سابقہ بقایاجات کی ادائیگی بھی ممکن بنائے گا اسی طرح دیگر واجبات میں 112 ارب روپے وفاق صوبے کو دے گا جبکہ اضافی گیس سے بجلی بنانے ،پانی سے سستی بجلی بنانے کے 13 منصوبوں سمیت اہم پراجیکٹس اور پی ایس ڈی پی میں میگا پراجیکٹس پر اتفاق رائے ہوچکا ہے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور صوبے کے کوٹے پر بھی اتفاق ہوگیا ہے لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے کوٹے کے حوالے سے اگلا راونڈ پارلیمانی رہنماؤں کے ہمرا ہ چیف ایگزیکٹو پیسکو اور واپڈ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہوگا بلدیاتی انتخابات کے ذریعے عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنارہے ہیں حکومت کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے والے مخالفین کو تیس مئی کو اپنی حیثیت کا اندازہ ہو جائے گاتحریک انصاف تیس مئی کو ہونے والے انتخابات میں واضح فتح حاصل کرے گی وہ وزیر اعلیٰ کیمپ آفس نوشہرہ میں میڈیا سے بات چیت کررہے تھے اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر عمران خٹک، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے منصوبہ بندی وترقیات میاں خلیق الرحمان خٹک، ممبر صوبائی اسمبلی ادریس خٹک اور پارٹی کے عہدیداروں کی کثیر تعداد موجود تھی پرویز خٹک نے کہا کہ صوبے کے حقوق اور وسائل پر اختیار پرکوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور وفاق سے صوبے کا حق لے کر رہیں گے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت تاریخ میں پہلی حکومت ہے جو اپنے منشور پر من و عن عمل کررہی ہے اور تمام وعدوں کی تکمیل کو قانونی حیثیت دے رہی ہے تاکہ آنے والے دو رمیں بھی اس میں کوئی تبدیلی نہ کرسکے اور نظام کو تسلسل حاصل ہو سکے پرویز خٹک نے صوبے کے حقوق کیلئے خیبرپختونخو ااسمبلی کی متفقہ قرارداد اور پارلیمانی لیڈرز ، ارکان اسمبلی اوروزراء کے پارلیمنٹ ہاؤ س کے سامنے احتجاج کو اپنا آئینی اور جمہوری حق قراردیا اور کہا کہ اس احتجاج کے ثمرات آنے شرو ع ہوچکے ہیں جمعہ کے روز وفاقی وزارء کے ساتھ ہونے والے مذکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے انہوں نے انکشاف کیا کہ ا س دوران بجلی کے کم کوٹے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے صوبے کے سب سے بڑے مسئلے کے حل میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور وفاقی حکومت صوبے کو1600 میگا واٹ بجلی فراہم کرنے کا وعدہ پورا کرے گی جس سے بجلی کی لوڈ شیدنگ میں 50فیصد سے زائد کمی آئے گی انہوں نے کہا کہ بجلی چوروں کے خلاف صوبائی اور وفاقی حکومت ملکر لائحہ عمل طے کرے گی تاکہ ان فیڈرز پر جہاں پر بجلی کی چوری زیادہ ہورہی ہے چوری کو ختم کرنے کی بھر پور اور مربوط کوشش کی جائے گی انہوں نے کہا کہ تما م پارلیمانی لیڈرز کے ہمراہ ان کی قیادت میں بہت جلد چیف ایگزیکٹو پیسکو اور واپڈ اکے اعلیٰ حکام سے اجلا س میں اہم فیصلے کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ پانی اور گیس کے وسائل پر صوبائی اختیار، اضافی گیس سے بجلی بنانے اور کے پی کے میں بیرونی سرمایہ کاری سے 13 ڈیموں کی تعمیر کی سفارش کی گئی ہے جو فاق نے مان لی ہے اسی طرح پی ایس ڈی پی میں صوبے کے میگا پراجیکٹس کیلئے ترقیاتی بجٹ مختص کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے پرویز خٹک نے کہا کہ صوبے کے واجبات کے حوالے سے اتفاق رائے کرلیا گیا ہے اور حسابات کی جانچ پٹرتال بھی ہوچکی ہے اورجلد یہ سفارشات مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کر دی جائیں گی انہوں نے بلدیاتی انتخابات میں اپوزیشن کے واویلوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ صوبائی حکومت نہ تو دھاندلی پر یقین رکھتی ہے اور نہ دھاندلی ہونے دے گی صاف وشفاف انتخابات کو یقینی بنائیں گے درحقیقت مخالفین کو عوام نے ان کی کارکرردگی کے بل بوتے پر 2013 کے عام انتخابات میں مسترد کردیاتھا اور اے این پی ، پی پی پی کو صوبے میں چار چار نشستیں ملی عوام باشعور ہیں اور تیس مئی کے انتخابا ت میں ان کو چلتاکریں گے اور تحریک انصاف بھر پور کامیابی حاصل کرے گی پرویز خٹک نے کہا کہ ہم نے نوکریاں، ٹھیکوں او ر تقرریوں کی خرید وفروخت ختم کردی ہے ماضی میں حکمرانوں نے مال بنانے کے سوا ء عوام کی کوئی خدمت نہیں کی یہی وجہ ہے کہ عوام نے ان کو مسترد کردیا صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کے باعث کوئی ترقیاتی فنڈ جاری نہیں کررہی ہے انتخابات سے قبل جن ترقیاتی کاموں او رمنصوبوں کے ٹینڈر ز ہوچکے ہیں انہی پر کام جاری ہے مخالفین کو اپنی شکست واضح نظر آرہی ہے اس لئے وہ پہلے سے واویلا کرکے اپنی صفائی پیش کررہے ہیں تحریک انصاف اپنی کارکردگی پر کلین سویپ کرے گی انہوں نے سابق وزیر اعلی امیر حید رہوتی کے چیلنج کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ترقیاتی کاموں میں مجھ کو چیلنج کیا ہے لیکن کرپشن، کمیشن ، نوکریوں اور تقریوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں اور یہ بھی نہیں بتایا کہ احتساب کمیشن میں کتنے مقدمات جارہے ہیں مجھے اور میری کابینہ پر کوئی کرپشن ثابت نہیں کر سکتا ہم صوبے کی یکساں ترقی پر یقین رکھتے ہیں اور تمام وسائل یکساں بنیادوں پر خرچ کئے جارہے ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر