شام میں داعش کیخلاف امریکی کمانڈوآپریشن بڑی کامیابی قرار

شام میں داعش کیخلاف امریکی کمانڈوآپریشن بڑی کامیابی قرار

واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف)گزشتہ برس ا مر یکی اور مقامی مغویوں کو داعش سے چھڑانے کے لئے شام کے شمال مشرقی علاقے میں ناکام آپریشن کے بعد شام کے ایک اہم ترین آئل فیلڈ پر تازہ حملے کو واشنگٹن کے سرکاری حلقوں اور میڈیا میں بہت بڑی کامیابی قرار دیا جارہاہے۔سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹرمائیکل مورل نے اتوار کے روز ’’اے بی سی نیوز‘‘ کے ایک پروگرام میں کہاکہ اگر آپریشن کے ذریعے آئیل فیلڈ کے انچارج ابو سیاف کو زندہ پکڑلیا جاتاتو زیادہ بہتر ہوتا۔ ان کے مطابق داعش کا یہ اہم کارندہ عملاً اس تنظیم کا ’’چیف فنانشل آفیسر ‘‘تھا جو تیل اور گیس کی بلیک مارکیٹ میں فروخت اور دیگر ذرائع سے تنظیم کے لئے ضروری سرمایہ فراہم کرتا تھا۔امریکی محکمہ خزانہ کے تخمینے کے مطابق داعش کی تیل کی آمدن دس لاکھ ڈالر روزانہ ہے۔اسے زندہ پکڑ لیا جاتا تو وہ اس سلسلے میں بہت قیمتی معلومات دے سکتا تھا۔ تاہم آپریشن کے دوران پکڑے جانے والے ساز و سامان سے بھی ضروری ڈیٹا ملنے کا امکان ہے اور اس کی گرفتار بیوی بھی اہم معلومات اگل سکتی ہے۔گزشتہ روز ہونے والے کمانڈوآپریشن میں ابو سیاف مارا گیا تھا اور اس کی بیوی زندہ پکڑلی گئی تھی جو داعش کی سرگرمیوں میں براہ راست ملوث تھی۔ آپریشن میں ایک ایزدی مغوی عورت کو بھی رہا کرالیا گیا۔ اس اچانک حملے نے داعش کو ذرا مہلت نہیں دی اورجب تک ان کے متعددٹرکوں میں جنگجو اپنے ساز و سامان کے ساتھ موقع پر پہنچے ۔ امریکی کمانڈو عراقی فوج کے دستوں کے ہمراہ کامیاب آپریشن کرکے واپس زمینی راستے سے عراق کے سرحد کے اندر جا چکے تھے۔ سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر نے اس خدشے کا اظہارکیا ہے کہ اگر داعش کو عراق اور شام میں اپنی محفوظ پناہ گاہیں بنا کر قدم جمانے کا موقع مل گیا تو وہ تباہ کن ہتھیاروں کے ذریعے امریکہ سمیت دیگر ممالک پر بھی حملہ کر سکتے ہیں۔ اس دوران کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹک پارٹی کی خاتون سینیٹرڈایان فنسٹن نے اے بی سی کے اسی پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمانڈو آپریشن انتہائی منظم اور ہر لحاظ سے مکمل تھا جس کی وجہ سے یہ کامیاب رہا۔ان کا مشورہ تھا کہ اگر بیرونی سر زمین پر باقاعدہ امریکی فوج نہیں اتاری تو پھر اس طرح کے آپریشنز میں عارضی طور پر کمانڈوز کواستعمال کیاجاسکتاہے۔ان کاکہنا تھا کہ ایسے آپریشنز کے ذریعے ضروری کمپیوٹر اور دیگر ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے جو اس تنظیم کی سرکوبی میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے ۔ سینیٹر نے اس امر پر تشویش کا اظہارکیا کہ داعش اس وقت شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے کم از کم بارہ ممالک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا یہ گروہ بہت منظم ہے ۔ اس لئے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے زیادہ مضبوط منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : صفحہ اول